23 Jan 2014
22 Jan 2014
ولادت مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم
ولادت مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ
وسلم
نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ
وسلم کی ولادت باسعادت تاریخ انسان کا سب سے بڑا اہم واقعہ ہے جسے پہلی امتوں کے
ہر دور میں بھی سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل رہی، خواص و عوام اپنی دینی
محفلوں میں بڑی دلچسپی اور محبت سے اس کا ذکر کرتے تھے اور ایمان کی حرارت سے اپنے
دلوں کو گرماتے تھے۔
وجود نبوی صلّی اللہ
علیہ وسلم کے ظہور کے مراحل ثلاثہ
1۔
خلقت نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے پیدائش کا
سب سے پہلے مرحلا یہ ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو عالم عدم سے عالم وجود میں
منتقل فرمایا۔
2۔
ظہور نورانیت محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم:
حضور
صلّی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ نور مصطفی صلّی اللہ
علیہ وسلم پشت در پشت پاکیزہ صلبوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ
حضرت عبداللہ کی پیشانی سے چمکا اور حضرت بیبی آمنہ کی گود میں اتر آیا۔
3۔ ولادت محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: آپ کا حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ
عنہا کے بطن اطہر سے عالم دنیا میں تشریف لے آنا۔
آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف
آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد بن عبداللہ بن
عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف بن قصی بن کلاب بن مسرۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن
فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن
عدنان اور عدنان کا نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ ( نبی رحمت صفحہ 102)
آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ: حضرت آمنہ بنت
وہب بن عبدمناف بن زہرہ۔ (تاریخ طبری جلد اول)
حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت
تاریخ ولادت: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی
ولادت باسعادت پیر کے دن ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو ہوئی۔ (ضیاء النبی جلد دوئم)
بمطابق 20 اگست 570ع نوشیرواں کے عہد حکومت کا چالیسواں سال تھا اور واقعہ اصحاب فیل کے 50 روز گذرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ (ضیاء النبی)
بمطابق 20 اگست 570ع نوشیرواں کے عہد حکومت کا چالیسواں سال تھا اور واقعہ اصحاب فیل کے 50 روز گذرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ (ضیاء النبی)
قبل ولادت کے واقعات انبیاء کرام کے دور میں
1۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ جب حضرت آدم علیہ السلام جنت سے زمین پر اترے تو وہ ہندوستان میں (جزیرہ
سراندیپ) میں اترے تھے، تو اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کو اکتاہٹ محسوس ہوئی۔ پھر
حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے آذان دی اللہ اکبر دو مرتبہ، اشہد ان
لاالٰہ الاللہ دومرتبہ، دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو حضرت آدم علیہ
السلام نے استفسارکیا کہ یہ حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ جبرئیل علیہ
السلام نے بتایا کہ آپ کی اولاد میں سب سے آخری نبی ہیں۔
(خصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ 27)
2۔
حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ
علیہ السلام کو حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت سے بھی آگاہ
فرمادیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا دیا تھا کہ جب فلاں
ستارہ اپنی جگہ سے حرکت کرے گا تو وہ ظہور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا
وقت ہوگا۔ یہ آگاہی علماء بنی اسرائیل نسل در نسل حاصل کرتے رہے تھے۔ (صفوۃ الصفوۃ ابن جوزی)
3۔
حضرت دانیال علیہ السلام کے زمانے میں بخت نصر مشہور بادشاہ تھا۔ ایک مرتبہ بخت
نصر نے خواب دیکھا مگر بیدار ہوتے ہی بھول گیا، صرف اتنا یاد رہا کہ خواب بڑا حیرت
انگیز تھا۔ پھر ارکان سلطنت کو بلاکر شاہی حکم جاری کیا کہ بتاؤ میں نے کیا خواب
دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم کیا کہہ سکتے ہیں، بادشاہ نے کہا اگر تین دن کے اندر
خواب تعبیر کے ساتھ پیش نہیں کیا تو تمہاری گردنیں اڑادی جائیں گی۔ جب یہ خبر حضرت
دانیال علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے اپنے ایک ساتھی کو فرمایا کہ جاکر بادشاہ کو
بتاؤ میں اس کے خواب کی تعبیر بیان کروں گا۔ آپ کے ساتھی نے عرض کیا کہ حضرت
بادشاہی مزاج بہت نازک ہوتے ہیں، اگر آپ کا جواب ان کی طبعیت کے مطابق نہ ہوا تو
پھر آپ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آپ نے فرمایا ”لاتخف علی فان لی ربا یخبرنی
بماشئت من حاجتی“ تو کوئی اندیشہ نہ کر میرا رب مجھے ضرورت پڑتے وقت حسب ضرورت ہر
چیز کا علم دے دیتا ہے۔ جب پیغام بادشاہ کو ملا تو اسی وقت حضرت دانیال علیہ
السلام کو بادشاہ نے اپنی دربار میں بلایا۔ بخت نصر بادشاہ اپنے سر پر تاج شاہی
رکھے تخت پر پورے جاہ و جلال کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، بادشاہ کے دربار میں یہ بات
لازم تھی کہ ہر آنے والا بادشاہ کو سجدہ کرے لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے
بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا۔ یہ بات بادشاہ کو سخت ناگوار گذری لیکن لوگوں کے سامنے پوچھنا
مناسب نہیں سمجھا۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام کو تنہائی میں بلایا۔ بادشاہ نے
کہا آپ نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ حضرت دانیال علیہ السلام نے جواب دیاکہ ”ان لی
ربا اتانی ہٰذ العلم الذی سمعت بہ علی ان لااسجد لغیرہ خشیت ان اسجد لک فینسخ علی
ہٰذا العلم ثم اسیر فی یدک امیا فلا تنتفع بی فتقتلیٰ فرأیت ترک السجدۃ اہون من
قتلیٰ“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ”یہ علم عطا کرنے والا میرا ایک رب ہے،
اس کا حکم ہے میں اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کروں، مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے تجھے
سجدہ کردیا تو وہ میرا علم چھین لے گا پھر میں تیرے سامنے بے علم رہ جاؤں گا اور
تو مجھے قتل کردے گا، اس لیے میں نے قتل ہونے کے بجائے سجدہ نہ کرنے کو آسان
سمجھا“ یہ جواب سن کر بخت نصر خوش ہوگیا اور بولا اپنے مالک کے وفادار اور اطاعت
گذار لوگ مجھے پسند ہیں، اپنے رب کو راضی رکھنے کے لیے تونے جو کچھ کیا میں اس سے
بہت خوش ہوں۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام نے پہلے خواب بتایا پھر اس کی تعبیر کی۔
آپ نے بتایا کہ خواب میں تونے ایک بہت بڑا بت دیکھا ہے جس کے پاؤں زمین پر تھے مگر
سر آسماں پر تھا، اس کا بالائی حصہ سونے کا تھا، اس کا پیٹ چاندی کا، نچلا حصہ
تانبے کا تھا اور پاؤں مٹی کے بنے ہوئے تھے اچانک آسمان سے ایک پتھر گرا جس نے بت
کے تمام حصوں کو پاش پاش کردیا۔ پھر وہ پتھر بڑھنے لگا حتیٰ کہ بڑھتے بڑھتے اتنا
بڑھ گیا اور ہر طرف پھیل گیا کہ اور چیزیں آنا بند ہوگئیں۔ تعبیر: بت سے مراد وہ
مروجہ مذاہب و رسوم اور بت پرستی کے طور طریقے ہیں، پتھر سے مراد اللہ کا دین ہے
جو باطل ادیان کو مٹاکر رکھ دیگا اور خود ہر طرف پھیل جائے گا۔ پھر فرمایا اللہ
تعالیٰ ایک نبی امی کو مبعوث فرمائے گا، وہ تمام جھوٹے ادیان و امم کو ختم کردے
گا، اس نبی کے ذریعے حق کو خالص کردے گا باطل کو مٹادیگا، گمراہوں کو ہدایت اور ان
پڑھوں کو علم عطا کرے گا، اس کی بدولت ضعیفوں کو قوت اور ذلیلوں کوعزت بخشے گا اور
کمزور اور ناتواں لوگوں کی مدد فرمائے گا۔ (دلائل النبوۃ)
حضرت عبداللہ والد رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم )
کے لیے دیت
تاریخ طبری میں ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت
عبدالمطلب کا زم زم کے کھودنے کے وقت قریش سے جھگڑا ہوا اور ان کو دبنا پڑا تو اس
وقت حضرت عبدالمطلب نے نذر مانی کہ اگر میرے دس بیٹے پیدا ہوکر بالغ ہوئے اور میری
حمایت کرنے کی عمر تک پہنچ گئے تو ایک بیٹے کو ذبح کروں گا۔ جب حضرت عبدالمطلب کو
دس بیٹے پیدا ہوئے تو آپ نے اپنے بیٹوں کو اپنی نذر بتائی پھر آپ نے قرعہ اندازی
کی تو حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ اس وقت آپ نے چھری اٹھائی تو قریش کے لوگوں نے
کہا آپ اس کو ذبح نہ کریں۔ پھر ایک عورت سے پوچھا اس نے کہا آپ کے ہاں جان کی دیت
کیا ہے؟ حضرت عبدالمطلب نے کہا 10 اونٹ، پھر اس عورت نے کہا 10 اونٹ اور حضرت
عبداللہ کے نام کی قرعہ اندازی کرو۔ پھر اس میں 10 بڑھاؤ پھر اسی طرح جب اونٹوں کے
نام نکلیں تو پھر اسی تعداد میں اونٹ ذبح کرنا۔ پھر 100 اونٹ پر قرعہ اندازی میں
اونٹوں کا نام نکلا، پھر حضرت عبدالمطلب نے 100 اونٹ ذبح کیے۔
حضرت عبداللہ کے پیشانی میں ام قتال بنت نوفل نے
نور محمد دیکھا
حضرت عبدالمطلب 100 اونٹ قربانی کرنے کے بعد حضرت
عبداللہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کعبہ سے واپس جانے لگے تو راستے میں بنی اسد کی ایک
عورت ام قتال بنت نوفل سے گذر ہوا تو اس عورت نے حضرت عبداللہ کی پیشانی کو دیکھ
کر کہا تم کہاں جاتے ہو۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں اپنے والد کے ساتھ جاتا ہوں۔
پھر عورت نے کہا جس قدر تمہارے فدیہ میں اونٹ ذبح کیے گئے ہیں میں اسقدر تمہیں
اونٹ دیتی ہوں تم اس وقت مجھ سے شادی کرو۔ حضرت عبداللہ نے کہا میں اس وقت اپنے
باپ کے ساتھ ہوں ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
حضرت عبداللہ کا نکاح
حضرت عبدالمطلب کعبہ سے واپسی کے وقت حضرت عبداللہ
کو وہب بن عبدمناف بن زہرہ کے پاس لے آئے اور حضرت آمنہ بنت وہب سے نکاح کرایا۔ جب
شادی ہوگئی تو حضرت عبداللہ نے حضرت آمنہ سے شادی کے تین دن گذرنے کے بعد پھر پہلی
عورت ام قتال بنت نوفل کے پاس آئے۔ پھر اس عورت نے حضرت عبداللہ کی پیشانی کو دیکھ
کر کہا کیا تم نے مجھ سے ملنے کے بعد کسی عورت سے شادی کی ہے۔ حضرت عبداللہ نے
فرمایا میں نے آمنہ بنت وہب سے شادی کی ہے۔ اس وقت ام قتال بنت نوفل نے کہا اے
عبداللہ میں نے آپ کی پیشانی میں ایک نور دیکھا تھا، میں نے اس لیے آپ کو کہا تھا
کہ مجھ سے شادی کرو۔ لیکن اب وہ نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم بیبی آمنہ کے نصیب
میں آگیا اب میں تجھ سے شادی نہیں کروں گی۔
نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبدالمطلب
کی پیشانی میں چمکنا
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ان
نور رسول اللہلما صار الیٰ عبدالمطلب وادرک نام یوما فی الحجر فانتبہ مکحولا
مدہونا قد کسی حلۃ النہاء والجمال فبقی متحیرا لایدری من فعل بہ ذالک فاخذہ ابوہ
بیدہ ثم انطلق بہ الیٰ کہنۃ قریش فاخبرہم بذالک فقالو لہ اعلم ان الہ السموات
قداذن لہٰذا الغلام ان یتزوج فزوجہ قیلۃ فولدت لہ الحارث ثم ماتت فزوجہ بعدہا ہند
بنت عمرو۔“ (مواہب اللدنیہ) جب حضور صلّی اللہ
علیہ وسلم کا نور مبارک حضرت عبدالمطلب میں منتقل ہوا اور وہ جوان ہوگئے تو ایک دن
حطیم میں سوکر اٹھے تو آنکھ میں سرمہ اور بالوں میں تیل لگاہوا تھا اور حسن و جمال
میں بڑا اضافہ ہوچکا تھا انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ ان کے والد انہیں قریش کے کاہنوں کے
پاس لے گئے اور سارا ماجرا بیان کیا، انہوں نے سن کر کہا کہ اللہ نے اس جوان کی
شادی کا حکم دیا ہے چنانچہ اس نے پہلا نکاح ”قیلہ“ سے کیا جس سے ایک بیٹا حارث
پیدا ہوا۔ پھر ان کی وفات کے بعد ہند بنت عمرو (فاطمہ) سے نکاح کیا تو ان کے نصیب
میں نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم آیا اور ان کے بطن سے حضرت عبداللہ پیدا ہوئے۔
روایت میں اس طرح آتا ہے کہ ”کان عبدالمطلب یفوح من رائحۃ المسک الأخذ ونور صلّی
اللہ علیہ وسلم یعنی فی عزتہ“ حضرت عبدالمطلب کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی اور
رسول اللہ کا نور ان کی پیشانی میں چمکتا تھا (مواہب
اللدنیہ)
نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے باران
رحمت کا نزول
”کانت قریش اذااصابہا
قحط تاخذ بیدہ عبدالمطلب فتخرج بہ الیٰ جبل شبیر فیتقربون الیٰ تعالیٰ ویسألونہ
ان یستقیم الغیث فکان یغیثہم ویسقیہم ببرکۃ نور محمدصلّی اللہ علیہ وسلم غیثا
عظیما“ (مواہب اللدنیہ)
جب قریش میں قحط ہوتا تو وہ عبدالمطلب کا ہاتھ پکڑ
کر جبل شبیر پر لے جاتے اور ان کے واسطے اور وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ
کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے اور بارش کی دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ اس نور محمدی
صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے انہیں باران رحمت سے نوازتا تھا۔
نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ آمنہ کے بطن
میں منتقلی
جب اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ
وسلم کی ان کے والدہ کے بطن سے تخلیق کا ارادہ فرمایا تو رجب مہینہ جمع کی رات تھی
اللہ تعالیٰ نے اس رات جنتوں کے پہریدار خازن کو حکم دیا جنت الفردوس کھول دے اور
ایک منادی کرنے والا آسمانوں اور زمین میں ندادے کہ آگاہ ہوجاؤ کہ وہ نور جو ایک
محفوظ اور مخفی خزانہ تھا جس نبی ہادی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے متولد ہونا تھا
وہ آج کی رات اپنی والدہ کے بطن میں منتقل ہوگیا، اس کے جسم عنصری کی تکمیل ہوگی
اور وہ لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بن کر دنیا میں تشریف لائے گا۔ (مواہب اللدنیہ)
حضرت ابوہریرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور
نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ آمنہ بنت وہب نے اپنے خواب میں
دیکھا کہ ان سے کہا گیا آپ تمام عالم کے سردار اور خیرالبرید سے حاملہ ہیں، تو جب
ان کی ولادت ہو تو ان کا نام احمد اور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم رکھنا اور اس
دوران اپنے حال کو چھپائے رکھنا۔ (دلائل النبوۃ)
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں حضرت بیبی
آمنہ رضی اللہ عنہا کے حاملہ ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ اس رات قریش کی تمام
سواریاں بول پڑیں اور یہ کہا کہ ”رب کعبہ کی قسم حضرت آمنہ رسول اللہ صلّی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ حاملہ ہوئیں“۔
مخدومہ کائنات حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں کہ اس نور نبوت کی امین قرار پانے کے بعد عرصہ دراز تک مجھے احساس تک نہ ہوا
کہ میرے جسم میں ایک نیا وجود پرورش پارہا ہے اور میں کچھ عرصہ بعد ماں بننے والی
ہوں۔ خواتین جن تخیلات سے دوچار ہوتی ہیں میں ان سے بالکل محفوظ رہی۔ حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت بیبی آمنہ نے فرمایا ”لقد علمت بہ فما
وجدت لہ مشقۃ حتیٰ وضعۃ“۔ (الطبقات الکبریٰ)
آپ فرماتی ہیں کہ ”میں باردار ہوگئی تھی لیکن اول
سے آخر تک میں نے کوئی دقت اور مشقت محسوس نہ کی۔“ حضرت عبداللہ بن عباس سے یہ بھی
روایت ہے کہ ”وبقی فی بطن أمۃ تسعۃ کمالا تشکو وجعا ولا ریحاولا مغصا ولامایعرض
للنساء ذوات الحمل۔“ (خصائص الکبریٰ) اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم والدہ ماجدہ کے
بطن میں نو ماہ تک جلوہ گر رہے۔ اس دوران انہوں نے کسی قسم کی تکلیف، قے، متلی، بے
چینی اور جو عوارض عورتوں کو ان ایام میں پیش آتے ہیں ان کی شکایت کا اظہار نہیں
کیا۔
آمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی آسمانی بشارت
حضرت بیبی آمنہ کو دوران حمل جو لطافت و سہولت تھی
اس عظیم امانت کا علم ہی نورانی بشارات کے ذریعے ہوا، پہلے اس کا پتہ نہ چل سکا۔
حضرت بیبی آمنہ فرماتی ہیں: اتانی آت وانا بین النائم والیقظان فقل ہل شعرت انک
حملت فکانی اقول ما ادری فقال انک قد حملت بسید ہٰذہ الامۃ ونبیہا۔ (مواہب اللدنیہ) میں سونے اور جاگنے کی کیفیت میں تھی کہ
کوئی آنے والا (فرشتہ) آیا، اس نے کہا کیا آپ کو علم ہے کہ آپ ماں بننے والی ہیں؟
گویا کہ میں نہ جانتی تھی تو اس نے کہا آپ اس امت کے سردار اور نبی کی ماں بننے
والی ہیں۔
حضرت بیبی آمنہ فرماتی ہیں ”میرے پاس آنے والا
فرشتہ آیا اس نے ہدایت کی جب اس کی ولادت ہوجائے تو یہ دعا پڑھنا اعیذہ اعیذہ
بالواحد من شر کل حاسد“ یعنی میں ہر حاسد و بدخواہ کے شر سے اسے اللہ وحدہ لاشریک
کی پناہ و حفاظت میں دیتی ہوں“ پھر اس کا نام محمد صلّی اللہ علیہ وسلم رکھنا
کیونکہ ان کا نام تورات و انجیل میں احمد صلّی اللہ علیہ وسلم ہے زمین و آسمان
والے سب ان کی تعریف کریں گے قرآن ان کی کتاب ہے۔ (تاریخ طبری)
مذکورہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلّی
اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہر طرح سے دنیا کو خبردار کیا گیا کہ یہی وہ ہستی
ہے جس کی وجہ سے دنیا کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے، یہی وہ ہستی ہے جس کی ذات
بابرکات کعبۃ اللہ شریف کو بتوں کی غلاظتوں سے پاک کردے گی۔ بالآخر وہ سہانی گھڑی
آگئی جب نور مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم سیدہ آمنہ کی گود میں آیا تو اس شب اللہ
تعالیٰ نے حوض کوثر کے کنارے مہکتی کستوری کے ستر ہزار درخت لگائے جن کے پھل اہل
جنت کے لیے بخور کا کام دیں گے۔ اس واقعہ کی یادگار میں پھر آسمان پر ایک ستون
زمرد کا اور ایک ستون یاقوت کا نصب کیا گیا، تین جھنڈے مشرق، مغرب اور کعبہ کی چھت
پر نصب کیے گئے۔ اس رات شیاطین کو مقید کیا گیا، کاہنوں کی خبریں بند ہوگئیں، سارے
جہاں کے بت سر بسجود ہوگئے۔ اس رات بادشاہوں کے تخت الٹ گئے، ایوان کسریٰ میں
زلزلہ برپا ہوا جس سے اس کے چودہ کنگرے گرگئے جو بزبان اشارہ یہ کہہ رہے تھے کہ
بادشاہ وقت کی چودہ پشت تک سلطنت رہے گی، اور اس بات کا اعلان کررہے تھے کہ اب ظلم
و بربریت کا دور ختم ہوجائے گا۔ غرضیکہ تاجدار کائنات پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم
کی ولادت باسعادت کے موقع پر اس قسم کے بہت سے قدرتی اشارات و واقعات ایسے ظہور
میں آئے کہ جن کی نظیر نہیں ملتی
17 Oct 2012
قرآن اور اہل بیت
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر میرے
بعد تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری
سے بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میری عترت
یعنی اہل بیت اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر
پر آئیں گی پس دیکھو کہ تم میرے بعد ان سے کیا سلوک کرتے ہو؟‘‘ (ترمذی‘ نسائی‘
احمد)
8 Oct 2012
تم جس سے لڑوگے میں اس کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں
حضرت زید بن ارقم
رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی‘ حضرت فاطمہ‘
حضرت حسن اور حضرت حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: تم جس سے لڑوگے میں اس
کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جس سے تم صلح کرنے والے ہو میں بھی اس سے صلح کرنے
والا ہوں۔‘‘ (ترمذی‘ ابن ماجہ)
5 Oct 2012
یااللہ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی: ’’آپ
فرمادیں آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے‘‘ تو حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی‘ حضرت
فاطمہ‘ حضرت حسن اور حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلایا‘ پھر فرمایا: یااللہ! یہ میرے اہل
(بیت) ہیں۔‘‘ (مسلم‘ ترمذی
4 Oct 2012
عشق رسول میں اونٹ کا بھوکا پیسا مر جانا
اونٹ اور
عشق رسول ﷺ
ایک روز غضبا نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے آپﷺ سے ایک درخواست کرنی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا وہ کیا۔ عرض کی! آپ اللہ سے یہ بات منظور کرادیجئے کہ جنت میں آپ ﷺ کی سواری بنایا جائے۔ دوسری بات یہ کہ مجھے آپ ﷺ کے وصال سے پہلے موت آجائے تاکہ میری پشت پر کوئی دوسرا سواری نہ کرسکے۔ آپ ﷺ نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری پشت پر کوئی سواری نہ کرے گا میرے سوا۔
جب حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بلا کر وصیت کی کہ غضبا پر میرے بعد کوئی سواری نہ کرے کیونکہ میں نے اس سے عہد کیا ہوا ہے۔ بیٹی! تم خود اس کی دیکھ بھال کرنا۔ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اونٹ نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے فراق میں گم سم رہنے لگا۔
ایک رات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اس اونٹ کے نزدیک سے گزریں وہ اونٹ آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر یوں گویا ہوا ’’اے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی! جب سے میرے آقا و مولاﷺ کا وصال ہوا ہے میں نے گھاس کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا ہے۔ خدا کرے مجھے جلد موت آجائے کیونکہ مجھے اس زندگی سے حضورﷺ کی غلامی زیادہ پسند ہے۔ میں حضور ﷺ کی خدمت میں جارہا ہوں‘ اگر آپ کا کوئی پیغام ہوتو میں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچادو۔ حضرت فاطمۃ الزہرا؍ء رضی اللہ عنہا اونٹ کی باتیں سن کر بہت مغموم ہوئیں اور رونے لگیں اور پیار سے اپنے ہاتھ اونٹ کے چہرے پر ملنے لگیں۔ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اونٹ نے جان دے دی۔ علی الصبح حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کیلئے کفن تیار کرایا اور ایک گہرا سا گڑھا کھدوا کراسے دفن کردیا۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اونٹ کے مرنے کے تین دن بعد اس گڑھے پر تشریف لائیں اور قبر اکھاڑنے کا حکم دیا مگر اس گڑھے میں اونٹ کا نام و نشان نہ تھا۔ گوشت پوست اور ہڈیاں سب کچھ غائب تھا۔ (معارج النبوت‘ حصہ سوم‘ صفحہ 201)
ایک روز غضبا نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے آپﷺ سے ایک درخواست کرنی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا وہ کیا۔ عرض کی! آپ اللہ سے یہ بات منظور کرادیجئے کہ جنت میں آپ ﷺ کی سواری بنایا جائے۔ دوسری بات یہ کہ مجھے آپ ﷺ کے وصال سے پہلے موت آجائے تاکہ میری پشت پر کوئی دوسرا سواری نہ کرسکے۔ آپ ﷺ نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری پشت پر کوئی سواری نہ کرے گا میرے سوا۔
جب حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بلا کر وصیت کی کہ غضبا پر میرے بعد کوئی سواری نہ کرے کیونکہ میں نے اس سے عہد کیا ہوا ہے۔ بیٹی! تم خود اس کی دیکھ بھال کرنا۔ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اونٹ نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے فراق میں گم سم رہنے لگا۔
ایک رات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اس اونٹ کے نزدیک سے گزریں وہ اونٹ آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر یوں گویا ہوا ’’اے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی! جب سے میرے آقا و مولاﷺ کا وصال ہوا ہے میں نے گھاس کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا ہے۔ خدا کرے مجھے جلد موت آجائے کیونکہ مجھے اس زندگی سے حضورﷺ کی غلامی زیادہ پسند ہے۔ میں حضور ﷺ کی خدمت میں جارہا ہوں‘ اگر آپ کا کوئی پیغام ہوتو میں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچادو۔ حضرت فاطمۃ الزہرا؍ء رضی اللہ عنہا اونٹ کی باتیں سن کر بہت مغموم ہوئیں اور رونے لگیں اور پیار سے اپنے ہاتھ اونٹ کے چہرے پر ملنے لگیں۔ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اونٹ نے جان دے دی۔ علی الصبح حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کیلئے کفن تیار کرایا اور ایک گہرا سا گڑھا کھدوا کراسے دفن کردیا۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اونٹ کے مرنے کے تین دن بعد اس گڑھے پر تشریف لائیں اور قبر اکھاڑنے کا حکم دیا مگر اس گڑھے میں اونٹ کا نام و نشان نہ تھا۔ گوشت پوست اور ہڈیاں سب کچھ غائب تھا۔ (معارج النبوت‘ حصہ سوم‘ صفحہ 201)
3 Oct 2012
اونٹ کا عشق مصطفیٰ میں درود پڑھنا
اونٹ کا عشق
مصطفیٰ ﷺمیں درود پڑھنا
ایک بار حضور نبی اکرم ﷺ مومنین کو صدقہ کی تلقین فرمارہے تھے کہ ایک اعرابی آپہنچا جس کے پاس بڑا خوبصورت اونٹ تھا۔ بڑا خوش رفتار اور خوش خرام۔ اس نے اسے ایک جگہ کھڑا کردیا۔ سحری کے وقت جب حضور اکرم ﷺ گھر سے نکلے تو یہ اونٹ فصیح و بلیغ انداز میں پڑھ رہا تھا۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَازَیْنَ الْقِیَامۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَیْرَ الْبَشَرِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَافَاتِحَ الْجَنَانِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَافِعَ الْاُمَمِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاقَائِدَ الْمُؤمِنِیْنَ فِی الْقِیَامَۃِ اِلَی الْجَنَّۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْک یَارَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
حضور ﷺ نے یہ کلمات سنتے ہی اونٹ کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگا۔ یارسول اللہ ﷺ میں اس اعرابی کے پاس تھا وہ مجھے ایک سنسان جنگل میں باندھ دیا کرتا۔ رات کے وقت جنگل کے جانور میرے اردگرد جمع ہوجاتے اور کہتے ’’اسے نہ چھیڑنا یہ حضور ﷺ کی سواری ہے‘‘ میں اس دن سے آپ ﷺ کے ہجر و فراق میں تھا۔ آج اللہ نے احسان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ تک پہنچا ہوں۔ آپ ﷺ اونٹ کی یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوئے اور اس کی طرف زیادہ التفات فرمانے لگے اور اس کانام ’’غضبا‘‘ رکھا۔
25 Sept 2012
اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس لئے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میں بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں
’’میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
اَنوار و تجلیات کا مُشاہدہ کیا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس لئے کہ
(رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میں بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں۔‘‘
(1) نبهاني، جوهر البحار، 2 : 450
حضرت حسان بن ثابت
رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالِ حسن کو بڑے ہی
دِلپذیر انداز میں بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
وَ
أَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ
وَ أَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
وَ أَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
(آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے حسین تر میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمیل تر کو جنم ہی دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی تخلیق بے عیب (ہر نقص سے پاک) ہے، (یوں دِکھائی دیتا ہے) جیسے آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ربّ نے آپ کی خواہش کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت
بنائی ہے۔)
حسان بن ثابت،
ديوان : 21
19 Sept 2012
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب تعالی کو احسن صورت میں دیکھا
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں دیکھتا ہو جو تم نہیں دیکھتے۔
۔ترمذی۔ابن ماجہ۔ مشکوۃ
حضرت عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب تعالی کو احسن صورت میں دیکھا۔ مشکوۃ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بلا شبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ایک بار سر کی انکھ سے اور ایک بار دل کی انکھ سے۔طبرانی۔
دوسری طرف حضرت موسی علیہ السلام نے سوال کیا ، اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں دیکھوں۔
فرمایااگر یہ پہاڑ اپنی جگہ قایم رہا تو تم بھی مجھ کو دیکھ لو گے۔
ایسے موقع پر کیا خوب فرمایا اعلیحضرت نے
کس کو دیکھا یہ موسی سے پوچھے کوئی
آنکھ والوں کی ہمیت پہ لاکھوں سلام
30 Aug 2012
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے جس کسی راستے سے گزر جاتے تو لوگ اس راہ
۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا مرّ في طريق من طرق المدينة وجدوا منه رائحة الطيب، و قالوا : مرّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من هذا الطريق.
سيوطي، الخصائص الکبريٰ، 1 : 67
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے جس کسی راستے سے گزر جاتے تو لوگ اس راہ میں ایسی پیاری مہک پاتے کہ پُکار اُٹھتے کہ ادھر سے اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا گزر ہوا 19 Jul 2012
سید الکونین و الثقلین صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت و بہادری
سید الکونین و الثقلین صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت و بہادری
سب سے بہادر اور سب سے مضبوط دل والے انسان میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مشکل مقامات پر اُس وقت ثابت قدمی کا مظاہرہ فرمایا جب بڑے بڑے بہادر میدان چھوڑ جاتے تھے،مگر آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان خوفناک اور خون آشام مقامات پر ڈٹے رہے،آگے بڑھتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزم اور یلغار میں ذرہ برابر کمی نہ آئی دنیا کا ہر بہادر کہیں نہ کہیں فرار یا کمزوری کا شکار ہوا مگر آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تصور تک نہیں فرمایا۔
بے شک سچ فرمایا اللہ تعالٰی نے: انک لعلٰی خُلِقٍ عظیم ۔(القلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین،سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ شجاع تھے ایک رات اہل مدینہ نے کوئی خوفناک آواز سنی لوگ اس آواز کی طرف دوڑے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز والی جگہ کی طرف سے واپس آتے ہوئے پایا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے اس آواز کی طرف تشریف لے گئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پشت پر تشریف فرما تھے اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی،اور فرمارہے تھے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے،ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے،
(بخاری و مسلم )
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ شجاع،دلیر،سخی اور زیادہ راضی ہونے والا کسی کو نہیں دیکھا،
(نسائی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی گھمسان کی لڑائی ہوتی اور میدان کارزار گرم ہو جاتا تھا تو ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ لیا کرتے تھے، اور ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنسبت دشمن کے زیادہ قریب نہیں ہوتا تھا،بدر کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لئے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب سے زیادہ دشمن کے قریب تھے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن سب سے زیادہ سخت جنگ فرمائی، اور کہا جاتا تھا کہ بہادر وہی ھے جو جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے قریب ترین ہوتے تھے۔
(صحیح مسلم)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی دشمن سے ٹکراؤ ہوتا تھا ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم (ابنے لشکر میں سے) سب سے پہلے جنگ شروع فرماتے تھے۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے قیس قبیلے کے ایک شخص نے کہا ،کیا آپ لوگ حنین کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (میدان جنگ میں ) چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرار اختیار نہیں فرمایا۔قبیلہ ہوازن کے لوگ اس دن ہم پر تیر برسا رہے تھے ، ہم نے جب ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو ہم لوگ غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے تو انہوں نے ہمیں اچانک تیروں پر لے لیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تیروں کی بوچھاڑ میں اپنے سفید خچر پر دیکھا اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے،
انا النبی لاکذب انا بن عبدالمطلب
میں سچا نبی ہوں میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں
(بخاری و مسلم )
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ پہلوان سے کشتی فرمائی اور اسے پچھاڑ دیا۔
(ابوداؤد)
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکانہ جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھاڑا تھا لوگوں میں سب سے طاقتور آدمی تھا،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کسی بیان کی محتاج نہیں ہے۔میں نے یہاں اس کا مختصر تزکرہ کیا ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت اور دل کی مضبوطی سمجھنے کے لئے معراج کے واقعہ پر غور کیجئے آپ کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مضبوط دل اور ناقابل شکست حواس کا اندازہ ہو جائے گا، خصوصًا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ رب العزت کے سامنے کھڑے ہونا اور نور ربانی کو برداشت کرنا کوئی معمولی بات نہیں
16 Jul 2012
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُکانہ پہلوان سے کشتی
رُکانہ سے کشتی
یہ بڑا ہی زبردست ، دلیر اور نامی گرامی پہلوان تھا ، اس کا ریکارڈ تھا کہ اسے کبھی کسی نے نہیں گرایا تھا۔
یہ پہلوان اضم نام کے ایک جنگل میں رہتا تھا جہاں یہ بکریاں چراتا تھا اور بڑا ہی مالدار تھا۔
ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اس کی طرف جا نکلے ۔
رکانہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے پاس آکر کہنے لگا ۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تو وہی ہے جو ہمارے (خداﺅں) لات و عزیٰ کی توہین اور تحقیر کرتا ہے اور اپنے ایک خدا کی بڑائی بیان کرتا ہے؟ اگر میرا تجھ سے تعلق رحمی نہ ہوتا تو آج میں تجھے مار ڈالتا۔
اور کہنے لگا کہ میرے ساتھ کشتی کر، تو اپنے خدا کو پکار۔ میں اپنے خداﺅں لات و عزیٰ کو پکارتا ہوں۔
دیکھیں تمہارے خدا میں کتنی طاقت ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ رکانہ اگر کشتی ہی کرنا ہے تو چل میں تیار ہوں۔
رکانہ یہ جواب سن کر پہلے تو بڑا حیران ہوا اور پھر بڑے تکبر کے ساتھ مقابلے میں کھڑ ا ہوگیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی ہی جھپٹ میں اسے گرا لیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے، رکانہ عمر میں پہلی مرتبہ گر کر بڑا شرمندہ ہوا اور حیران بھی ہوا‘ اور بولا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے سینے سے اٹھ کھڑے ہو ۔
میرے خداﺅں لات و عزیٰ نے میری طرف دھیان نہیں دیا ، ایک بار اور موقع دو اور آﺅ دوسری مرتبہ کشتی لڑیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکانہ کے سینے پر سے اٹھ گئے اور دوبارہ کشتی کے لئے رکانہ پہلوان بھی اٹھا ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی رکانہ کو پل بھر میں گرا لیا ، رکانہ نے کہا، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! معلوم ہوتا ہے آج میرے خدا مجھ سے ناراض ہیں اور تمہار خدا تمہاری مدد کررہا ہے۔
خیر ایک مرتبہ اور آﺅ، اس مرتبہ میرے خدا لات و عزیٰ میرے مدد ضرور کریں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے مرتبہ بھی کشتی کے لئے منظور کرلیا ۔
اور تیسرے مرتبہ بھی اسے پچھاڑ دیا۔
اب تو رکانہ پہلوان بڑا ہی شرمندہ ہوا اور کہنے لگا ۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ان بکریوں میں سے جتنی چاہو بکریاں لے لو ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ رکانہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ، ہاں اگر تم مسلمان ہوجاﺅ تو جہنم کی آگ سے بچ جاﺅ گے۔
رکانہ نے جواب دیا ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میں مسلمان تو ہوجاﺅں مگر میرا نفس جھجکتا ہے کہ مدینہ اور گرد نواح کے لوگ کیا کہیں گے کہ اتنے بڑے پہلوان نے شکست کھائی اور مسلمان ہوگیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تو تیرا مال تجھی کو مبارک ہو۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔
حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) آپ کی تلاش میں تھے اور یہ معلوم کر کے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وادی اضم کی طرف تشریف لے گئے ہیں بہت فکر مند تھے کہ اس طرف رکانہ پہلوان رہتا ہے ،
کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء نہ دے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس تشریف لاتے دیکھ کر آ پ(رض) دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ادھر اکیلے کیوں تشریف لے گئے تھے۔
جب کہ اس طرف رکانہ پہلوان رہتا ہے جو بڑا زور آور اور اسلام کا دشمن ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا جب میرا اللہ ہر وقت میرے ساتھ ہے پھر مجھے کسی رکانہ کی کیا پروا ، لو اس رکانہ کی پہلوانی کا قصہ سنو۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قصہ سنایا ، حضرت ابوبکر صدیق(رض) اور حضرت عمر فاروق(رض) سن سن کر بہت خوش ہوئے اور عرض کیا ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو ایسا پہلوان تھا کہ آج تک اسے کسی نے گرا ہی نہیں تھا۔
اسے گرانا اللہ کے رسولۖ ہی کا کام ہے۔
۪الخصائص الکبرئ، دلائل النبواۃ
13 Jul 2012
صحابہ اکرام آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس پسینہ اور موئے مبارک جمع کر لیتے تھ
آرزوئے جاں نثارانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اظہارِ عشق کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں، خوشبوئے وفا کے پیرائے بھی جدا جدا ہوتے ہیں، کبھی کوئی صحابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چادر مانگ لیتے ہیں کہ میں اس سے اپنا کفن بناؤں گا اور کوئی حصولِ برکت کے لئے جسمِ اطہر کے پسینے کو شیشی میں جمع کر لیتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں قیلولہ فرماتے تو آپ رضی اللہ عنہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس پسینہ اور موئے مبارک جمع کر لیتے تھے اور اُنہیں ایک شیشی میں ڈال کر خوشبو میں ملا لیا کرتے تھے۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنھم کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے وصیت کی :
أن يجعل في حنوطه من ذٰلک السُّکِ.
’’(اُن کے وصال کے بعد) وہ خوشبو ان کے کفن کو لگائی جائے۔‘‘
1. بخاري، الصحيح، 5 : 2316، کتاب الاستيذان، رقم : 5925
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 2 : 461، رقم : 11036
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 2 : 461، رقم : 11036
ان کی اس آرزو کو بعد از وصال پورا کیا گیا۔ حضرت حمید سے روایت ہے :
لما توفي أنس بن مالک جعل في حنوطه مسک فيه من عرق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ وصال کر گئے تو ان کی میت کے لئے اس خوشبو کو استعمال کیا گیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کی خوشبو تھی۔‘‘
1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 3 : 406، رقم : 65002. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 249، رقم : 715
3. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 7 : 25
4. هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 21
5. شيباني، الاحآد والمثاني، 4 : 238، رقم : 2231
11 Jul 2012
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس جسم اتنا لطیف تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔
بے سایہ پیکرِ نور
کتب احادیث میں درج ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس جسم اتنا لطیف تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔
1۔ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :
کان لا ظلّ لشخصه في شمس و لا قمر لأنه کان نورًا.
’’سورج اور چاند (کی روشنی میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر کا سایہ نہ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے۔‘‘
1. قاضي عياض، الشفا، 1 : 522
2. ابن جوزي، الوفا : 412
3. خازن، لباب التأويل في معاني التنزيل، 3 : 321
4. نسفي، المدارک، 3 : 135
5. مقري، تلمساني، فتح المتعال في مدح النعال : 510
2. ابن جوزي، الوفا : 412
3. خازن، لباب التأويل في معاني التنزيل، 3 : 321
4. نسفي، المدارک، 3 : 135
5. مقري، تلمساني، فتح المتعال في مدح النعال : 510
2۔ امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ الخصائص الکبريٰ میں روایت نقل فرماتے ہیں :
ان ظله کان لا يقع علي الأرض، وأنه کان نورًا فکان إذا مشي في الشمس أو القمر لا ينظر له ظلّ.
1. سيوطي، الخصائص الکبريٰ، 1 : 122
2. ابن شاهين، غاية السؤل في سيرة الرسول، 1 : 297
2. ابن شاهين، غاية السؤل في سيرة الرسول، 1 : 297
’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج یا چاند کی روشنی میں چلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نظر نہ آتا۔‘‘
3۔ امام زرقانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :
لم يکن لها ظل في شمس و لا قمر.
زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 524
’’شمس و قمر (کی روشنی) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ ہوتا۔‘‘
4 Jul 2012
’’میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَنوار و تجلیات کا مُشاہدہ کیا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس لئے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میں بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں
1۔ اِمام زرقانی نے اپنی کتاب میں امام قرطبی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ ایمان افروز قول نقل کیا ہے :
لم يظهر لنا تمام حسنه صلي الله عليه وآله وسلم، لأنّه لو ظهر لنا تمام حسنه لما أطاقت أعيننا رؤيته صلي الله عليه وآله وسلم.
’’حضور کا حسن و جمال مکمل طور پر ہم پر ظاہر نہیں کیا گیا اور اگر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن و جمال ہم پر ظاہر کر دیا جاتا تو ہماری آنکھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوؤں کا نظارہ کرنے سے قاصر رہتیں۔‘‘
زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 241
2۔ قولِ مذکور کے حوالے سے اِمام نبہانی رحمۃ اﷲ علیہ حافظ اِبن حجر ہیتمی رحمۃ اﷲ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں :
وَ ما أحسن قول بعضهم : لم يظهر لنا تمام حسنه صلي الله عليه وآله وسلم .
’’بعض ائمہ کا یہ کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن و جمال ہم (یعنی مخلوق) پر ظاہر نہیں کیا گیا نہایت ہی حسین و جمیل قول ہے۔‘‘
نبهاني، جواهر البحار، 2 : 101
1۔ نبی بے مثال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا ذکرِ جمیل حضرت عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اِن اَلفاظ میں کرتے ہیں :
وَ ما کان أحد أحبّ إليّ مِن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و لا أجل في عيني منه، و ما کنت أطيق أن أملأ عيني منه إجلالا له و لو سئلت أن أصفه ما أطقت لأني لم أکن أملأ عيني منه.
’’میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص محبوب نہ تھا اور نہ ہی میری نگاہوں میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین تر تھا، میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس چہرہ کو اُس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محامد و محاسن بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیونکر ایسا کرسکتا تھا کیونکہ (حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ جہاں آرا کی چمک دمک کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنکھ بھر کر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔‘‘
1. مسلم، الصحيح، 1 : 112، کتاب الإيمان، رقم : 121
2. ابو عوانه، المسند، 1 : 70، 71، رقم : 200
3. ابراهيم بن محمد الحسيني، البيان والتعريف، 1 : 157، رقم : 418
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 259
5. ابو نعيم، المسند المستخرج علي صحيح الامام مسلم، 1 : 190، رقم : 315
6. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 30
2. ابو عوانه، المسند، 1 : 70، 71، رقم : 200
3. ابراهيم بن محمد الحسيني، البيان والتعريف، 1 : 157، رقم : 418
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 259
5. ابو نعيم، المسند المستخرج علي صحيح الامام مسلم، 1 : 190، رقم : 315
6. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 30
2۔ اِنسانی آنکھ کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ جو اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں درُودوں کے گجرے اور سلاموں کی ڈالیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رُوئے منوّر دیکھ کر اپنی آنکھیں ہتھیلیوں سے ڈھانپ لیا کرتے تھے، وہ خود فرماتے ہیں :
لما نظرتُ إلي أنواره صلي الله عليه وآله وسلم وضعتُ کفي علي عيني خوفاً من ذهاب بصري.
’’میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَنوار و تجلیات کا مُشاہدہ کیا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس لئے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میں بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں۔‘‘
22 Jun 2012
کسی آنکھ میں مشاہدۂ حسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاب نہ تھی
3۔ کسی آنکھ میں مشاہدۂ حسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاب نہ تھی
ربِ کائنات نے وہ آنکھ تخلیق ہی نہیں کی جو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا مکمل طور پر مشاہدہ کر سکے۔ اَنوارِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس لئے پردوں میں رکھا گیا کہ اِنسانی آنکھ جمالِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاب ہی نہیں لا سکتی۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی حسن و جمال مخلوق سے مخفی رکھا۔
1۔ اِمام زرقانی نے اپنی کتاب میں امام قرطبی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ ایمان افروز قول نقل کیا ہے :
لم يظهر لنا تمام حسنه صلي الله عليه وآله وسلم، لأنّه لو ظهر لنا تمام حسنه لما أطاقت أعيننا رؤيته صلي الله عليه وآله وسلم.
’’حضور کا حسن و جمال مکمل طور پر ہم پر ظاہر نہیں کیا گیا اور اگر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن و جمال ہم پر ظاہر کر دیا جاتا تو ہماری آنکھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوؤں کا نظارہ کرنے سے قاصر رہتیں۔‘‘
زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 241
2۔ قولِ مذکور کے حوالے سے اِمام نبہانی رحمۃ اﷲ علیہ حافظ اِبن حجر ہیتمی رحمۃ اﷲ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں :
وَ ما أحسن قول بعضهم : لم يظهر لنا تمام حسنه صلي الله عليه وآله وسلم .
’’بعض ائمہ کا یہ کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن و جمال ہم (یعنی مخلوق) پر ظاہر نہیں کیا گیا نہایت ہی حسین و جمیل قول ہے۔‘‘
نبهاني، جواهر البحار، 2 : 101
1۔ نبی بے مثال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا ذکرِ جمیل حضرت عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اِن اَلفاظ میں کرتے ہیں :
وَ ما کان أحد أحبّ إليّ مِن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و لا أجل في عيني منه، و ما کنت أطيق أن أملأ عيني منه إجلالا له و لو سئلت أن أصفه ما أطقت لأني لم أکن أملأ عيني منه.
’’میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص محبوب نہ تھا اور نہ ہی میری نگاہوں میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین تر تھا، میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس چہرہ کو اُس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محامد و محاسن بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیونکر ایسا کرسکتا تھا کیونکہ (حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ جہاں آرا کی چمک دمک کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنکھ بھر کر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔‘‘
1. مسلم، الصحيح، 1 : 112، کتاب الإيمان، رقم : 121
2. ابو عوانه، المسند، 1 : 70، 71، رقم : 200
3. ابراهيم بن محمد الحسيني، البيان والتعريف، 1 : 157، رقم : 418
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 259
5. ابو نعيم، المسند المستخرج علي صحيح الامام مسلم، 1 : 190، رقم : 315
6. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 30
2. ابو عوانه، المسند، 1 : 70، 71، رقم : 200
3. ابراهيم بن محمد الحسيني، البيان والتعريف، 1 : 157، رقم : 418
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 259
5. ابو نعيم، المسند المستخرج علي صحيح الامام مسلم، 1 : 190، رقم : 315
6. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 30
Subscribe to:
Posts (Atom)



