23 May 2012

تعظیم نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے 100 سال کے گناہ معاف اور جنت عطا ہوگئی

تعظیم نام محمد سے 100 سال کے گناہ معاف اور جنت عطا ہو گئی
بنی اسرائیل میں ایک شخص نہایت ہی گناہ گار تھا۔ سو سال گناہوں اور معصیت میں اس نے گزارے، جب اس کی موت واقع ہوگئی تو لوگوں تو بہت خوشی ہوئی۔(لوگ اس کے فتنہ اور فساد سے بیزار تھے)نہ اس کو کسی نے غسل دیا نہ کفن پہنایا نہ نماز جنازہ ادا کی بلکہ اس کو گھسیٹ کر کچڑا کونڈی پر پھینک دیا۔حضر ت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حضرت سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام حاضر ہوئے اور عرض کیا۔اے موسیٰ علیہ السلام ! اللہ تعالی آپ کو سلام فرمارہا ہے۔اور اس نے فرمایا کہ میرا ایک ولی انتقال کرگیا ہے۔ لوگوں نے اس کو کچڑا کونڈی پر ڈال دیا ہے۔ اٹھواور اس جاکر وہاں سے اٹھالاواور اس کی تجہیز وتدفین کرو اوار بنی اسرائیل کو فرماؤ کہ اسکی نماز جنازہ پڑھیں۔تاکہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گناہ بخشے جا ئیں۔حضرت موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے بحکم رب الانام عزوجل جب اس کچڑا کونڈی کے پاس تشریف لائے تو اسے دیکھاتو یہ وہی شخص تھا جس نے سو سال نافرمانیوں میں گزارے ۔آپ کو تعجب ہوامگر اللہ عزوجل کا فرمان تھا۔چنانچہ غسل دلایا، کفن پہنایا ، نماز جنازہ پڑھ کرا س کو دفن کردیا۔پھر بارگاہ خداوندی عزوجل میں اس شخص کے بارےمیں ستفسار کیا۔ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ!(علیہ السلام ) وہ شخص واقعی فاسق و فاجر و گناہ گار تھا۔مگر اس نے ایک روز توریت شریف کھولی اس میں میرے حبیب ؐکا نام ِ نامی اسم گرامی محمد ؐلکھا ہوا پایااس نے اس مبارک نام کو چومااور اپنی انکھوں پر لگایا۔ اس کی یہ تعظیم و ادب مجھے پسند آگیا۔میں نے اس کے سو سال کے گناہوں کو بخش دیا۔اور اسے اپنے مقربین کی فہرست میں داخل کرلیا۔ (مدارج النبوت،

28 Apr 2012

تبرکات انبیاء کرام باعث شفا ہیں

تبرکات انبیاء کرام باعث شفا ہیں
 بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ ،وَقَالَ لَھُم نَبِیُّھُم اِنَّ اٰیَةَ مُلکِہ اَن یَّاتِیَکُمُ التَّآبُوتُ فِیہِ سَکِینَة مِّن رَبِّکُم وَبَقِیَّة مِمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوسیٰ وَ اٰلُ ھٰرُونَ تَحمِلُہُ المَلٰئِکَة ط اِنَّ فِی ذٰلِکَ لاَٰ یَةً لَّکُم اِن کُنتُم مُومِنِین ۔
انکے نبی نے ان (بنی اسرائیل) سے کہا بے شک اسکی بادشاہی کی علامت یہ ہے تمہارے پاس ایک تابوت (صندوق ) آئیگا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ یعنی سکون بخش چیزیں ہیں اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون علیہما السلام کے ترکہ سے ۔اسے فرشتے اُٹھا لائیں گے بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔“(القرآن سورة البقرہ )

حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ بنادیا گیا آپ چونکہ ایک غریب آدمی تھے لوگوں نے آپکو بادشاہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔تب انکے نبی حضرت شموئیل علیہ السلام نے فرمایا : طالوت از خود بادشاہ نہیں بنے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارا بادشاہ مقرر فرمایا ہے اسکی صداقت کی اور منجانب اللہ مامور ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آجائیگا جو تم سے چھن چکا ہے ۔وہ صندوق کیساتھا اس کا طول و عرض کیا تھا اس میں اللہ رب العزت کیطرف سے سکون بخش چیزیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے ترکہ سے تھیں وہ کیا تھیں آیاتِ قرآنیہ اس بارے میں خاموش ہیں ۔لہٰذا انکے بارے میں جاننے کے لئے کتب تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں ۔

چنانچہ تفسیر روح البیان ،نور العرفان اور تفسیر مظہری وغیرہ میں ہے کہ یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا ایک صندوق تھا جو تین ہاتھ لمبا اور دوہاتھ چوڑا بنی اسرائیل جب کہیں جنگ کو جاتے اس صندوق کو اپنے آگے رکھتے اور یوں دعا کرتے یا اللہ ! اس صندوق اور اس میں موجود تبرکات کے وسیلہ سے ہمیں فتح و نصرت عطا فرما تو اسکی برکت سے اللہ تعالیٰ فتح عطا فرما دیتا ۔بلکہ وہ لوگ ہر مشکل کے وقت اس صندوق کو آگے رکھ کر دعائیں کرتے تھے جو قبول ہوتی تھیں ۔بعد میں بنی اسرائیل میں کچھ گستاخ خیالات کے لوگ پیدا ہوئے انہوں نے اس صندوق کی بے حرمتی کی جسکی وجہ سے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہوئے ۔

تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ۔”حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ترکہ سے آپکا عصا اور توریت کی تختیوں کے ٹکڑے تھے ۔“(جامع القرآن زیر آیت بالا)

تفسیر ابن ابی حاتم میں انہی سے مروی ہے :اس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے عصا ان کے کپڑے اور توریت کی دو تختیاں اور من (جو آسمان سے اُترتا تھا ) اور فرحت کا کلمہ یعنی ” لا الہ الا اللہ “ ..آخر تک وغیرہ اشیاءتھیں ۔

اسی آیت کے تحت حضرت علامہ قاضی ثناءاللہ پانی پتی علیہ السلام المتوفی 1225ھ لکھتے ہیں ۔

اس تابوت میں توریت شریف کی دو تختیاں سالم تھیں اور کچھ ان تختیوں کے ٹکڑے تھے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور آپکے نعلین (جوتے) مبارک اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ شریف اور عصا مبارک اور من کی اک تھیلی تھی ۔“(تفسیر مظہری جلد اول )

اس آیت مبارکہ اور اسکے تحت مذکورہ تفسیر سے پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندوں کے جسم سے جو چیز یں مس ہو جائیں ان میں برکتیں آجاتی ہیں انکے توسط اور وسیلہ سے مشکلیں آسان ہو تی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں دکھوں تکلیفوں کا ازالہ ہوتا ہے بیماریوں سے شفا اور دردوں کا مداوا ہوتا ہے ۔حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ فرمان ہے ۔اِذھَبُو بِقَمِیصِی ھٰذَا فَاَلقُوہُ عَلٰی وَجہِ اَبِی یَاتِ بَصِیرًا۔”یہ میری قمیض لے جا اور والد گرامی کے چہرہ مبارکہ پر ڈال دینا بینائی لوٹ آئیگی ۔“ (سورة الیوسف )اس پر ناطق ہے۔اور ”فَارتَدَّ بَصِیرًا“حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کا لوٹ آنا اس پر شاہد صادق ہے ۔

بڑی دھوم سنی تھی صفا و مروہ کی ،بڑا چرچا تھا مقامِ ابراہیم کا۔ اِنَّ الصَّفَا وَالمَروَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰہِ ۔”بے شک صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔“وَاتَّخِذُو ا مِن مَّقَامِ اِبرَاہِیمَ مُصَلّٰی۔”مقام ابراہیم کو نماز کے لئے مختص کر لو۔

ایک خالی ذہن آدمی جو صفا و مروہ کے بارے میں معلومات نہ رکھتا ہو مقام ابراہیم کی حقیقت سے آگاہ نہ ہو اس کے ذہن میں طرح طرح کے تصورات آئیں گے ۔ شاید صفا و مروہ کی پہاڑیاں سونے یا چاندی کی ہونگی اسلئے انہیں اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں کہہ رہا ہے یا بہت بلند ہو نگی جس کی وجہ سے شعائر اللہ بن گئی ہونگی یا کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت سر سبز و شاداب ہوں اسلئے شعائر اللہ شمار ہوئیں اور مقام ابراہیم وہ جگہ نہ ہو جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قدم مبارک جسم سے جدا کر کے رکھا گیا ہو ۔لیکن صفا و مروہ کی زیارت کرنیوالے جانتے ہیں اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ یہ پہاڑیاں سونے چاندی کی نہیں عام پتھروں کی ہیں ۔بلند و بالا بھی نہیں ،بلکہ چھوٹی چھوٹی ہیں ۔اگر بلند ی کی وجہ سے شعائر اللہ فرماتا تو ”کے ۔ٹو“ یا ”ہمالیہ“ کو فرماتا ۔ شادابی و ہریالی کی وجہ سے اللہ کی نشانیاں قرار پاتیں تو کشمیر کی پہاڑیاں قرار پاتیں یہ پہاڑیاں اگر چہ بلند و بالا نہیں لیکن انکی عظمت و رفعت کی بلندیوں کو کے ۔ٹو اور ہمالیہ بھی نہیں پہنچ سکتیں ۔اگر چہ سر سبز و شاداب نہیں بلکہ جلی ہوئی سیاہ پہاڑیاں ہیں ۔ لیکن اہل دل جانتے ہیں کہ کشمیر کی سر سبز پہاڑیاں انکی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتیں ۔وجہ صرف یہ ہے کہ ان پہاڑیوں کو چند لمحے اللہ تعالیٰ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی کے قدم چومنے کی سعادت مل گئی ۔ جب سے انکے ساتھ حضرت مائی ہاجرہ کے قدم لگے دنیا بھر کی پہاڑیوں سے ممتاز ہو گئیں ۔یہاں تک کہ انکی عظمت و شان میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :اِنَّ الصَّفَا وَالمَروَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰہِ ۔

اس طرح مقام ابراہیم علیہ السلام بھی ایک پتھرہی ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان ثبت ہوگئے ۔ہزاروں برس گزر چکے وہ پتھر نشان قدم سمیت محفوظ ہے ۔صفا و مروہ کی سعی کرنا ،مقام ابراہیم علیہ السلام کی تعظیم و تکریم کرنا مناسک حج میں سے ہے یہاں سے ثابت ہوا کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے مس ہو جائیں یا جن چیزوں کی نسبت مقبولانِ بارگاہ کیطرف ہو جائے وہ چیزیں بھی با برکت ہو جاتی ہیں ۔

انبیاءکرام سے لیکر صحابہ کرام بلکہ تابعین کرام تک علماءربانیین سے لیکراولیاءکاملین علماءسے لیکر عوام الناس تک سب کے سب ان تبرکات کو قابلِ صد تکریم متاعِ دنیا سے زیادہ قیمتی اور جان سے زیادہ عزیز سمجھتے اور ان سے برکتیں حاصل کرتے رہے ہیں ۔ آئیے چند حوالہ جات نظر قارئین کئے جاتے ہیں ۔

بال نبوی ﷺ سے برکت حاصل کرنا :حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی میں رسول اکرم ﷺ کے چند بال مبارک تھے ۔آپ خود فرماتے ہیں یہ ٹوپی جس غزوہ میں میرے پاس رہی مجھے اسکی برکت سے فتح حاصل ہوتی رہی ۔آپکی یہ ٹوپی کسی غزوہ میں گر گئی آپ نے اسے حاصل کرنے کے لئے سخت حملہ کیا جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے ۔صحابہ کرام نے اعتراض کیا کہ ایک ٹوپی کی خاطر آپ نے اتنے مسلمانوں کو شہید کرایا ہے تو انہوں نے جواب دیا یہ حملہ ٹوپی کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ موئے مبارک کے لئے کیا تھا ۔جو ٹوپی میں تھے کہ مبادا انکی برکت میرے پاس سے جاتی رہے ۔(شفاءشریف)

پیالہ نبوی ﷺ سے برکت حاصل کرنا: سیرت رسول عربی ﷺ میں اصابہ کے حوالے سے منقول ہے کہ ایک دن حضرت خداش بن ابی خداش مکی نے رسول اللہ ﷺ کو ایک پیالہ میں کھانا کھاتے دیکھا ۔انہوں نے وہ پیالہ بطور تبرک آپ سے لے لیا ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب کبھی حضرت خداش رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جاتے تو ان سے وہی پیالہ طلب فرماتے اسے آبِ زمزم سے بھر کر پیتے اور چہرے پر چھینٹے مارتے ۔یوں پیالہ نبویﷺ سے آپ برکتیں حاصل کرتے ۔(شفاءشریف)

عمامہ نبوی ﷺ سے برکت حاصل کرنا :حضرت عبد اللہ بن حازم کے پاس ایک سیاہ رنگ کا عمامہ شریف تھا جسے وہ جمعہ اور عیدین میں پہنا کرتے تھے ۔لڑائی میں جب فتح پاتے تو بطور تبرک اس عمامہ کو پہنتے اور فرماتے یہ عمامہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے پہنایا تھا ۔
(
شفا ءشریف)

عصائے نبوی ﷺ سے برکت حاصل کرنا :ایک موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو بطور انعام ایک عصا عنایت فرمایا زندگی بھر وہ عصا آپکے پاس رہا بوقت وصال آپ نے وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ کر میرے ساتھ دفن کر دینا ۔چنانچہ آپکی وصیت کے مطابق وہ عصا آپکے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔(شفاءشریف)

جبہ نبوی ﷺ سے برکت حاصل کرنا :امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ :حضرت اسماءبنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غلام حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماءرضی اللہ عنہا نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جبہ دیکر بھیجا اور فرمایا یہ رسول اکرم ﷺ کا جبہ مبارک ہے ۔۔۔۔جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک انکے پاس موجود تھا (یہ وہی جبہ تھا جس کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بڑے ادب و احترام سے زیارت کرایا کرتی تھیں جیسا کہ دوسری روایات میں ہے )حضرت اسماءفرماتی ہیں جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو میں نے اس جبہ مبارک کو اپنے قبضہ میں لے لیا نبی کریم ﷺ اس جبہ کو زیب تن فرمایا کرتے تھے ۔ہم اسے دھو کر اس کا پانی بیماروں کو پلاتے تھے اور ان کےلئے شفا طلب کرتے تھے ۔(صحیح مسلم جلد 2صفحہ192)

صحابہ کرام کے نزدیک بالِ نبوی ﷺ کی قدر و قیمت:امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ : حضرت امام ابن سیرین سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے چند بال مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ یا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کیطرف سے ملے ہیں تو اس پر حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال کا ہونا دنیا و مافیھا سے زیادہ محبوب ہے ۔(بخاری شریف، جلد1صفحہ29)

25 Apr 2012

ایک آتش پرست کا قبول اسلام


حضرت احمد بن حرب رحمۃ اللہ علیہ کے پڑوس میں ایک آتش پرست بہرام رہتا تھا۔ بڑا تاجر تھا آپ نے یہ سن کر کہ راستے میں ڈاکوؤں نے اس کا تمام مال تجارت لوٹ لیا۔ آپ کو یہ سن کر بہت افسوس ہوا اور مریدوں سے کہنے لگے کہ غیرمسلم ہے تو کیا ہے‘ ہے تو ہمارا ہمسایہ اس کی غمگساری ہم پر لازم ہے۔ چلو اظہار افسوس کرآئیں کہ بے چارہ بہت غمگین ہے چنانچہ آپ اس کے مکان پر تشریف لے گئے۔ اس نے بھی آپ کا بہت ادب کیا اور گھر کے اندر لیجا کر ایک آراستہ کمرہ میں بٹھا دیا۔ چونکہ سخت قحط پڑا ہوا تھا عزت و ادب تو کیا مگراس نے سمجھا کہ آپ شاید کچھ کھانے پینے کیلئے آئے ہیں آپ نے نورباطن سے سمجھ لیا اور فرمایا بہرام اطمینان رکھو ہم تمہارے یہاں کھانے پینے کیلئے نہیں آئے صرف تمہاری غم خواری کیلئے آئے ہیں کہ ہم نے تمہارا نقصان عظیم کا حال سنا تھا بولا واقعی میرا تو مال لٹا اور مجھے نقصان بھی بہت پہنچا پھر بھی تین امورایسے ہیں جن کا شکر مجھ پر واجب ہے۔
اولاً یہ کہ میں ہی تو لُٹا میں نے تو کسی کو نہیں لوٹا۔ ثانیاً یہ کہ پھر بھی نصف مال تو میرے پاس باقی رہ گیا۔ ثالثاً یہ کہ دنیوی متاع پر ڈاکہ پڑا۔ متاع آخرت تو بچ گئی۔ آپ نے مریدوں کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اس کی باتوں میں دوستی کی بو آتی ہے۔ پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ تو بتائیے کہ تم لوگ آگ کو کیوں پوجتے ہو بولا صرف اس لیے کہ قیامت کے روز میں اس میں جلنے سے محفوظ رہوں گا۔ آپ نے فرمایا دیکھو تم ایک عرصہ سے اس کی پرستش کررہے ہو اور میں نے کبھی ایک دن بھی اس کی اہمیت نہ سمجھی۔ آؤ ہم تم دونوں اس میں ہاتھ ڈالیں۔ معلوم ہوجائے گا کہ یہ تمہاری کتنی رعایت کرتی ہے۔ یہ بات کچھ بہرام کے دل کو لگ گئی اس نے کہا اچھا آپ چار امور مجھے سمجھا دیجئے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کیوں زندہ کیا؟ فرمایا پیدا کیا اس لیے کہ وہ مالک کو پہچانے‘ رزق دیااس لیے کہ اس کی وجہ ہی سے جان لیں‘ موت یوں دی کہ اس کی قہاری ہی کے سبب اسے سمجھیں پھر زندہ اس لیے کیا کہ اسے اس کی قدرت سے پہچانیں۔بہرام نے کہا اچھا لاؤ اس آگ کو بھی آزمالیں۔ آپ نے ہاتھ ڈالا تو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا۔ بہرام نے اسی وقت اسلام قبول کرلیا۔

29 Mar 2012

قربِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دفن ہونے کی خواہش

عالئ مرتبت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے حضرات شیخین سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہما کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اُنہیں قربِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دفن ہونا نصیب ہو، تاکہ عالم برزخ میں بھی قرب و وصالِ محبوب کے لمحات سے ان کی روحوں کو تسکین ملے۔ یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس نیک خواہش کے بارے مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
لما حضرت أبابکر الوفاة أقعدنی عند رأسه و قال لی : يا علي! إذا أنا مت فغسلني بالکف الذي غسلت به رسول اﷲ و حنطوني و اذهبوا بي إلي البيت الذي فيه رسول اﷲ فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلي مقابر المسلمين حتي يحکم اﷲ بين عباده. قال : فاغسل و کفن و کنت أول من يأذن إلي الباب فقلت : يا رسول اﷲ! هذا أبوبکر مستأذن، فرأيت الباب قد يفتح، و سمعت قائلا يقول : ادخلوا الحبيب إلي حبيبه فإن الحبيب إلي الحبيب مشتاق.
حلبي، السيرة الحلبية، 3 : 493
سيوطي، الخصائص الکبریٰ، 2 : 492
ابن عساکر، تاريخ دمشق، 30 : 436
’’جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے سرہانے بٹھایا اور فرمایا : اے علی! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اس ہاتھ سے غسل دینا جس سے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا تھا اور مجھے خوشبو لگانا اور مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کے پاس لیجانا، اگر تم دیکھو کہ دروازہ کھول دیا گیا ہے تو مجھے وہاں دفن کر دینا ورنہ واپس لا کر عامۃ المسلمین کے قبرستان میں دفن کر دینا تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کو غسل اور کفن دیا گیا اور میں نے سب سے پہلے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچ کر اجازت طلب کی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ابوبکر آپ سے داخلہ کی اجازت مانگ رہے ہیں، پھر میں نے دیکھا کہ روضہ اقدس کا دروازہ کھول دیا گیا اور آواز آئی۔ حبیب کو اس کے حبیب کے ہاں داخل کر دو بے شک حبیب ملاقاتِ حبیب کے لئے مشتاق ہے۔‘‘
اسی طرح امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی اپنے آقائے کریم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کے بہت ہی زیادہ خواہاں تھے۔ جب قاتلانہ حملے کے نتیجے میں آپ کی وفات کا وقت قریب آگیا تو آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کوسیدہ عائشہ رضی اﷲ عہنا کے پاس اجازت لینے کے لئے بھیجا اگرچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا خود یہ خواہش رکھتی تھیں اور انہوں نے فرمایا ہوا تھا کہ وہ اس جگہ کو اپنی تدفین کے لئے پسند کرتی ہیں مگر وہ فرمانے لگیں کہ اب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے اور اپنے والد کو خوشخبری سنائی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
ما کان شئ أهم إليّ من ذالک المضجع فإذا قبضت فاحملونی ثم سلموا، ثم قل : يستأذن عمر بن الخطاب فإن أذنت لي فادفنوني، و إلا فردوني إلي مقابر المسلمين.
بخاري، الصحيح، 1 : 469، کتاب الجنائز، رقم : 1328
ابن حبان، الصحيح، 15 : 353
بيهقي، السنن الکبریٰ، 4 : 58
ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 290
نووي، تہذيب الاسماء، 2 : 332
شوکاني، نيل الاوطار، 6 : 159
یہ روایت حاکم نے’ المستدرک( 3 : 99، رقم : 4519 )‘ میں ابن ابی شیبہ نے’ المصنف (7 : 440، رقم : 37074)‘میں اور ابن سعدنے ’الطبقات الکبریٰ ( 3 : 363) میں رواۃ اور الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ بیان کی ہے۔
’’میرے نزدیک اس آرام گاہ سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ جب میں انتقال کرجاؤں تو مجھے اٹھا کر (اس جگہ پر) لے جانا، سلام عرض کرنا اور عرض کرنا کہ عمر بن خطاب اجازت چاہتا ہے اگر وہ (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا) اجازت دے دیں تو دفن کر دینا ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔‘‘
سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی اس خواہش کی توجیہ صرف یہی ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دفن ہونا باعث برکت سمجھتے تھے۔

12 Mar 2012

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اپنے بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھٹی دلواتے

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اپنے بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھٹی دلواتے
مستند ترین کتبِ احادیث میں یہ مثالیں بھی بکثرت ملتی ہیں کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسے گھٹّی دلوانے اور اس کا نام رکھوانے کے لیے بارگاہِ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نومولود کے منہ میں اپنا مبارک لعابِ دہن ڈالتے اور یوں اس بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز پہنچتی وہ دوجہانوں کے والی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک لعابِ دہن ہوتا۔
2۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ عنھما بیان کرتی ہیں :
أنها حَملتْ بعبد اﷲ بن الزبير، قالتْ : فخرجتُ و أنا مُتِمٌّ، فأتيتُ المدينةَ فنزلتُ بقُبَاء، فولدتهُ بقُباء، ثم أتيتُ به النبی صلی الله عليه وآله وسلم فوضَعتُه فی حِجرِه، ثم دعا بتمرة، فَمَضَغَهَا، ثم تَفَل فی فيه، فکان أوّلَ شئ دخل جوفَه ريقُ رسولِ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، ثم حَنَّکَه بتمرة، ثم دعاله و بَرَّکَ عليه.
بخاری، الصحيح، 3 : 1422، کتاب فضائل الصحابة، رقم : 3697
بخاری، الصحيح، 5 : 2081، کتاب العقيقة، رقم : 5152
مسلم، الصحيح، 3 : 1691، کتاب الآداب، رقم : 2146
احمد بن حنبل، المسند، 6 : 347، رقم : 26983
حاکم، المستدرک، 3 : 632، رقم : 6330
بیهقی، السنن الکبری، 6 : 204، رقم : 11927
ابن ابی شيبه، المصنف، 5 : 37، رقم : 23483
ابن ابی شيبه، المصنف، 7 : 346، رقم : 36622
شیبانی، الآحاد والمثانی، 1 : 413، 412، رقم : 573 - 574 - 575
بخاری، التاريخ الکبير، 5 : 6، رقم : 9
ابن جوزی، صفوة الصفوة، 1 : 764
ابن عبدالبر، الاستيعاب، 3 : 906، رقم : 1535
ابن حبان، الثقات، 3 : 212، رقم : 707
ابونعيم، حلية الأولياء : 1 : 333 (ہشام بن عروہ اور فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے)
ابن حبان، مشاهير علماء الأمصار، 1 : 30، رقم : 154
’’کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ  کے ساتھ حاملہ تھیں انہوں نے کہا : میں مکہ سے (ہجرت کے لئے) اس حالت میں نکلی کہ میرے وضع حمل کے دن پورے تھے میں مدینہ آئی اور قبا میں اتری اور وہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ  پیدا ہوئے پھر میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود مبارک میں ڈال دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوائی اور اسے چبایا۔ پھر بچہ کے منہ میں لعابِ دہن ڈال دیا اور جو چیز سب سے پہلے اس کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب مبارک تھا۔ پھر اس کے تالو میں کھجور لگا دی، اس کے حق میں دعا کی اور اس پر مبارکباد دی۔‘‘
4۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
ذهبتُ بِعبدِ اﷲ بن أبی طلحة الأنصاری إلی رسولِ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم حين وُلِدَ، و رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في عَبَاءَ ةٍ يَهْنأُ بَعيرًا له فقال : هل معکَ تمرٌ؟ فقلتُ : نعم، فناولتهُ تَمَراتٍ، فألقاهُنَّ في فيه فَلاکَهُنَّ، ثم فَغَرَفا الصَّبِیَّ فمَجَّه في فيه، فجعل الصبي يَتَلَمَّظُهُ، فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : حُبُّ الأنصارِ التمر. و سماه عبدَ اﷲِ.
مسلم، الصحيح، 3 : 1689، کتاب الأداب : رقم : 2144
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 175، 212، 287، رقم : 12812، 13233، 14097
بيهقي، السنن الکبریٰ، 9 : 305
ابن حبان، الصحيح، 10 : 393، رقم : 4531
ابويعلي، المسند، 6 : 37، رقم : 3283
ابوداؤد، السنن، 4 : 288، کتاب الأدب، رقم : 4951
ابن سعد، الطبقات الکبری، 8 : 433
عبد بن حميد، المسند، 1 : 393، رقم : 1321
بخاري، الأدب المفرد، 1 : 429، رقم : 1254
ابوعوانه، المسند، 5 : 240، رقم : 8550
’’جب حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ  پیدا ہوئے تو میں ان کو لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر اوڑھے اپنے اونٹ کو روغن مل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کھجوریں ہیں؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ پھر میں نے کچھ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اپنے منہ میں ڈال کر چبائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کا منہ کھول کر اسے بچہ کے منہ میں ڈال دیا اور بچہ اسے چوسنے لگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انصار کو کھجوروں سے محبت ہے۔ اور اس بچے کا نام عبداللہ رکھا۔‘‘

9 Mar 2012

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن سے بیماروں کو شفایابی

مستند احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماروں کو دم فرماتے اور اپنا مبارک لعابِ دہن اپنی انگشتِ شہادت سے زمین پر ملتے اور اسے منجمد کر کے بیمار شخص کی تکلیف کی جگہ پر ملتے اور اﷲ تعالیٰ سے اس کی شفایابی کی دعا فرماتے۔
1۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا بیان کرتی ہیں کہ جب کسی انسان کو تکلیف ہوتی یا کوئی زخم ہوتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لعاب دہن مٹی کے ساتھ ملا کر لگاتے اور اس کی شفایابی کے لئے یہ مبارک الفاظ دہراتے :
بِسم اﷲ، تُربةُ أرضِنا، بريقة بعضنا، يُشفَی سَقِيْمُنا، بِإذنِ رَبِّنا.
بخاری، الصحيح، 5 : 2168، کتاب الطب، رقم : 5413
مسلم، الصحيح، 4 : 1724، کتاب السلام، رقم : 2194
ابوداؤد، السنن، 4 : 12، کتاب الطب، رقم : 3895
ابن ماجه، السنن، 2 : 1163، کتاب الطب، رقم : 3521
نسائی، عمل اليوم والليلة، 1 : 559، رقم : 1023
احمد بن حنبل، المسند، 6 : 93، رقم : 24661
حاکم، المستدرک، 4 : 457، رقم : 8266
ابن حبان، الصحيح، 7 : 238، رقم : 2973
ابویعلی، المسند، 8 : 22، رقم : 4527
بغوی، شرح السنة، 5 : 224، رقم : 1414
’’اللہ کے نام سے شفا طلب کر رہا ہوں، ہماری زمین کی مٹی اور ہم میں سے بعض کا لعاب اﷲ کے حکم سے ہمارے مریض کو شفا دیتا ہے۔‘‘
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ ’’ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے‘‘ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم فرماتے وقت مبارک لعابِ دہن لگایا کرتے تھے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث کا مطلب ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لعابِ دہن اپنی انگشتِ شہادت پر لے کر زمین پر ملتے اور اسے منجمد کر کے اسے تکلیف یا زخم کی جگہ پر ملتے اور ملتے ہوئے حدیث میں مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرماتے۔‘‘ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے ہر بیماری میں دم کرنے کا جواز ثابت ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم کے درمیان یہ امر عام اور معروف تھا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی انگلی مبارک زمین پر رکھنا اور اس پر مٹی ڈالنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دورانِ دم ایسا عمل کرنا درست اور جائز ہے۔۔ ۔ ۔ اور بیشک اس سے اسماءِ الٰہی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار سے تبرک حاصل کرنا ثابت ہے، پھر دم اور اسماء مبارکہ وغیرہ کے اثرات اس قدر حیران کن ہیں جن کی حقیقت سے عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔‘‘
عسقلانی، فتح الباری، 10 : 208

5 Mar 2012

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر سے ہمیشہ پاکیزہ خوشبو آتی تھی

 پسینہ مبارک سے حصولِ برکت
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر سے ہمیشہ پاکیزہ خوشبو آتی تھی، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اس خوشبو کو مشک و عنبر اور پھول کی خوشبو سے بڑھ کر پایا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اپنے لئے، اپنے بچوں کے لئے، اور شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹیوں کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کو حاصل کرتے، اس سے برکت کی امید رکھتے اور بڑے اہتمام کے ساتھ اس متاعِ عزیز کو سنبھال کر رکھتے۔
حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اﷲ عنھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک گدا بچھایا کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں اسی گدے پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کا) بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑے ہوتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک اور موئے مبارک کو ایک شیشی میں جمع کرتیں پھر ان کو خوشبو کے برتن میں ڈال دیتیں۔
حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
فلما حضر أنس بن مالک الوفاةُ أوصیٰ إلي أن يُجْعل فی حنوطه من ذالک السُّکِ، قال : فجُعل فی حنوطه.
بخاری، الصحيح، 5 : 2316، کتاب الاستئذان، رقم : 5925
شوکانی، نيل الاوطار، 1 : 69
(٭) حنوط : وہ خوشبو جو کافور اور صندل ملا کر میت اور کفن کے لئے تیار کی جاتی ہے۔
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے وصیت فرمائی کہ ان کے حنوط(٭) میں اس خوشبو کو ملایا جائے۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے حنوط میں وہ خوشبو ملائی گئی۔‘‘
2۔ حضرت حمید سے روایت ہے کہ :
توفی أنس بن مالک فجعل فی حنوطه سکة أو سک و مسکة فيها من عرق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم۔
طبراني، المعجم الکبير، 1 : 249، رقم : 715
بيهقي، السنن الکبري، 3 : 406، رقم : 6500
هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 21 (امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں)
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو ان کے حنوط میں ایسی خوشبو ملائی گئی جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کی خوشبو تھی۔‘‘
3۔ اسی طرح دوسری روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور میری والدہ ایک شیشی لیکر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
يا أم سليم! ما هذا الذي تصنعين؟ قالت : هذا عرقک نجعله في طِيبِنا و هو مِن أطيب الطيب.
مسلم، الصحيح، 4 : 1815، کتاب الفضائل، رقم : 2331
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 136، 287، رقم : 12419، 14091
نسائي، السنن، 8 : 218، کتاب الزينة، رقم : 5371
نسائي، السنن الکبری، 5 : 506، رقم : 9806
يوسف بن موسیٰ، معتصر المختصر، 1 : 17
ابو يعلي، المسند، 6 : 409، رقم : 3769
ذهبي، سير اعلام النبلاء، 2 : 308
عبد بن حميد، المسند، 1 : 378، رقم : 1268
طبراني، المعجم الکبير، 25 : 119، رقم : 289
اصبهاني، دلائل النبوة، 1 : 59، رقم : 40
ابو نعيم، حلية الاولياء، 2 : 61
بيهقي، شعب الايمان، 2 : 154، رقم : 1429
عسقلاني، فتح الباري، 11 : 72
’’اے ام سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا : یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے۔‘‘
4۔ ایک اور روایت میں حضرت ام سلیم رضی اﷲ عنہا نے پسینہ مبارک جمع کرنے کی وجہ برکت کا حصول بتایا۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :
ما تصنعين يا ام سليم؟ فقالت : يا رسول اﷲ! نرجو برکته لصبياننا. قال : أصبت.
مسلم، الصحيح، 4 : 1815، کتاب الفضائل، رقم : 2331
احمد بن حنبل، المسند : 3 : 226، رقم : 13390
بيهقي، السنن الکبریٰ، 1 : 254، رقم : 1130
عسقلاني، فتح الباري، 11 : 72
’’اے ام سلیم! تم کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اﷲ! ہم اس میں اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہاری امید درست ہے۔‘‘

3 Mar 2012

جنگ میں فتح کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم موئے مبارک کا توسل

۔ جنگ میں فتح کے لئے موئے مبارک کا توسل
حضرت صفیہ بنت نجدہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند موئے مبارک تھے۔ ایک دفعہ وہ ٹوپی کسی جہاد میں گرپڑی تواس کے لینے کیلئے تیزی سے دوڑے جبکہ اس معرکے میں بکثرت صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہوئے، اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
لم أفعلْها بسبب القَلَنْسُوة، بل لما تضَمَّنَتْه من شَعرِه صلی الله عليه وآله وسلم لئلا أسْلَب برکتها وتقع فی أيدی المشرکين.
قاضی عياض، الشفاء بتعريف حقوق المصطفیٰ، 2 : 619
’’میں نے صرف ٹوپی کے حاصل کرنے کیلئے اتنی تگ و دو نہیں کی تھی بلکہ اس لئے کہ اس ٹوپی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک تھے مجھے خوف ہوا کہ کہیں اس کی برکت سے محروم نہ ہو جاؤں اور دوسرا یہ کہ یہ کفار و مشرکین کے ہاتھ نہ لگ جائے۔‘‘
موئے مبارک کی برکت سے جنگ یرموک میں مسلمانوں کی فتح
تاریخ واقدی اور دیگر کتب سیر میں مروی ہے کہ جب شام میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جبلہ بن ایہم کی قوم کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے ایک روز مسلمانوں کے قلیل لشکر کا دُشمن سے آمنا سامنا ہوا تو اُنہوں نے رومیوں کے بڑے افسر کو مار دیا، اس وقت جبلہ نے تمام رومی اور عرب فوج کو یکبارگی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم کی حالت نہایت نازک تھی اور رافع ابن عمر طائی نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا ’’آج معلوم ہوتا ہے کہ ہماری قضا آگئی۔‘‘ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : سچ کہتے ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں وہ ٹوپی بھول آیا ہوں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک ہیں۔ ادھر یہ حالت تھی اور ادھر رات ہی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو جو فوج کے سپہ سالار تھے خواب میں زجر وتوبیخ فرمائی کہ تم اس وقت خواب غفلت میں پڑے ہو اٹھو اور فوراً خالد بن ولید کی مدد کو پہنچو کہ کفارنے ان کو گھیر لیا ہے۔ اگر تم اس وقت جاؤ گے تو وقت پر پہنچ جاؤ گے۔ ابو عبیدہ نے اسی وقت لشکر کو حکم دیا کہ جلد تیار ہو جائے چنانچہ وہاں سے وہ مع فوج یلغار کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں کیا دیکھتے ہیں کہ فوج کے آگے آگے نہایت سرعت سے ایک سوار گھوڑا دوڑاتے ہوئے چلا جا رہا ہے اس طرح کہ کوئی اس کی گرد کو نہیں پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے خیال کیا کہ شایدکوئی فرشتہ ہے جو مدد کے لئے جا رہا ہے مگر احتیاطاً چند تیز رفتار سواروں کو حکم کیا کہ اس سوار کا حال دریافت کریں، جب قریب پہنچے تو پکار کر اس جوان کو توقف کرنے کے لئے کہا یہ سنتے ہی وہ جسے ہم جوان سمجھ رہے تھے رکا تو ہم نے دیکھا کہ وہ تو خالد بن ولید کی اہلیہ محترمہ تھیں۔ ان سے حال دریافت کیا گیا تو وہ گویا ہوئیں : کہ اے امیر! جب رات کے وقت میں نے سنا کہ آپ نے نہایت بے تابی سے لوگوں سے فرمایا کہ خالد بن ولید کو دشمن نے گھیر لیا تو میں نے خیال کیا کہ وہ ناکام کبھی نہ ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک ہیں، مگر اتفاقاً ان کی ٹوپی پر نظر پڑی جو وہ گھر بھول آئے تھے اور جس میں موئے مبارک تھے۔ بعجلتِ تمام میں نے ٹوپی لی اور اب چاہتی ہوں کہ کسی طرح اس کوان تک پہنچا دوں۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جلدی سے جاؤ خدا تمہیں برکت دے۔ چنانچہ وہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر آگے بڑھ گئیں۔ حضرت رافع بن عمر جو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے بیان کرتے ہیں کہ ہماری یہ حالت تھی کہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے تھے یکبار گی تہلیل و تکبیر کی آوازیں بلند ہوئیں، حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو تجسس ہوا کہ یہ آواز کدھر سے آرہی ہے کہ اچانک ان کی رومی سواروں پر نظر پڑی جو بدحواس ہو کر بھاگے چلے آ رہے تھے اور ایک سوار ان کا پیچھا کر رہا تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑا کر اس سوار کے قریب پہنچے اور پوچھا کہ اے جوانمرد تو کون ہے؟ آواز آئی کہ میں تمہاری اہلیہ ام تمیم ہوں اور تمہاری مبارک ٹوپی لائی ہوں جس کی برکت سے تم دشمن پر فتح پایا کرتے تھے۔
راوئ حدیث قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب خالد رضی اللہ عنہ نے ٹوپی پہن کر کفار پر حملہ کیا تو لشکر کفار کے پاؤں اکھڑ گئے اور لشکر اسلام کو فتح نصیب ہوئی۔
محمد انوار اﷲ فاروقی، مقاصد الاسلام، 9 : 273 - 275
صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو موئے مبارک میں جو برکت دکھائی دیتی تھی وہ اہل عقول کی سمجھ میں نہیں آسکتی کہ وہ کیا چیز ہے حسی یا معنوی جو بالوں کے اندر رہتی ہے یا سطح بالائی پر وہ چاہے کتنی ہی موشگافیاں کریں ان کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس روایت سے سب مشکلات حل ہوگئیں اور معلوم ہوگیا کہ مشکل سے مشکل کاموں میں آسانی اور امداد غیبی کا مل جانا اس برکت کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے فتح موئے مبارک کی برکت سے حاصل ہوتی تھی۔
عبدالحمید بن جعفر سے روایت ہے کہ یرموک کی لڑائی میں یہ ٹوپی سر سے غائب تھی جب تک وہ نہیں ملی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نہایت الجھن میں رہے اور ملنے کے بعد اطمینان ہوا۔اس وقت آپ نے یہ ماجرا بیان فرمایا کہ :
فما وجهت فی وجه الا فتح لی.
ابو يعلی، المسند، 13 : 138، رقم : 7183
عسقلانی، الا صابه فی تمییز الصحابه، 1 : 414
واقدی، المغازی، 2 : 884
’’میں نے جدھر بھی رخ کیا اس موئے مبارک کی برکت سے فتح حاصل کی۔‘‘
اسی طرح تاریخ واقدی میں یہ واقعہ درج ہے کہ جنگ یرموک کے ایک معرکے میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ایک نسطور نامی پہلوان سے ہوا۔ یہ مقابلہ دیر تک رہا، اچانک حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا اور آپ کی ٹوپی زمین پر گرگئی۔ آپ ٹوپی اٹھانے میں لگ گئے اور اتنے میں وہ پہلوان آپ کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ آپ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ میری ٹوپی مجھے واپس دلادو۔ ٹوپی آپ کو دی گئی جسے پہن کر آپ رضی اللہ عنہ نسطور پر غالب آگئے اور اس کا کام تمام کر دیا۔ بعد میں لوگوں نے کہا آپ نے یہ کیا حرکت کی اور ایک ٹوپی کی خاطر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال لیا۔ آپ نے بتایا کہ وہ ٹوپی معمولی ٹوپی نہ تھی کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک سلے ہوئے تھے۔

29 Feb 2012

صحابی کی زبان کے نیچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بال رکھ کر دفنایا گیا

ثابت البنانی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
هذه شعرة من شعر رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فضعها تحت لساني. قال : فوضعتها تحت لسانه، فدفن و هي تحت لسانه.
عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، 1 : 127
’’یہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بال مبارک ہے، پس تم اسے میری زبان کے نیچے رکھ دینا۔ وہ کہتے ہیں : میں نے وہ بال آپ رضی اللہ عنہ کی زبان کے نیچے رکھ دیا اور انہیں اس حال میں دفنایا گیا کہ وہ بال ان کی زبان کے نیچے تھا۔‘‘
موئے مبارک کی برکت سے شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کی صحت یابی
موئے مبارک کے کرامات و برکات کے حوالے سے ائمہ و صالحین کے بعض ذاتی مشاہدات کا ذکر بھی کتب سیر و تواریخ میںملتا ہے۔ ائمہ متاخرین میں سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ جیسی عظیم علمی و فکری شخصیت سے کون متعارف نہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین‘‘ اور ’’انفاس العارفین‘‘ میں اپنے والد گرامی حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی قدس سرہ العزیز کی بیماری کا واقعہ ان کی زبانی خود بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک مرتبہ اتنا سخت بخار ہوا کہ زندہ بچنے کی امید نہ رہی۔ اسی دوران مجھ پر غنودگی سی طاری ہوئی، اندریں حال میں نے حضرت شیخ عبدالعزیز کو خواب میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیٹے عبدالرحیم (مبارک ہو)! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری عیادت کے لئے تشریف لانے والے ہیں اور سمت کا تعین کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرف تمہاری پائنتی ہے اس طرف سے آپ تشریف لائیں گے۔ سو تمہارے پاؤں اس رخ پر نہیں ہونے چاہئیں۔ مجھے غنودگی کے عالم سے کچھ افاقہ ہوا مگر بولنے کی طاقت نہ تھی چنانچہ حاضرین کو اشارے سے سمجھایا کہ میری چار پائی کا رخ تبدیل کردیں بس اسی لمحے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’کيف حالک يا بنی؟
بیٹے عبدالرحیم! تمہارا کیا حال ہے؟‘‘
بس پھر کیا تھا آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شیریں گفتار اور رس بھرے بول نے میری دنیا ہی بدل دی جس سے مجھ پہ وجد و بکاء اور اضطراب کی عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سرہانے تشریف فرما تھے اور مجھے اپنی آغوش میں لئے ہوئے تھے۔ فرطِ جذبات سے مجھ پر گریہ و زاری کی وہ کیفیت طاری ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قمیص مبارک میرے آنسوؤں سے تر ہو گیا اور آہستہ آہستہ اس رقت و گداز سے مجھے قرار و سکون نصیب ہوا۔ اچانک میرے دل میں خیال گزرا کہ میں تو مدت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کا آرزو مند ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کتنا بڑا کرم ہوگا اگر اس وقت میری یہ آرزو پوری فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اس خیال سے آگاہ ہوئے اور اپنی ریش مبارک پر ہاتھ پھیر کر دو موئے مبارک میرے ہاتھ میں تھما دیئے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو شاید خواب دیکھ رہا ہوں جب بیدار ہوں گا تو خدا جانے یہ بال محفوظ رہیں یا نہ رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خیال کو بھی جان گئے اور فرمایا کہ یہ عالم بیداری میں بھی تیرے پاس محفوظ رہیں گے۔ بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صحتِ کلی اور درازئ عمر کی بشارت عطا فرمائی۔ مجھے اسی لمحے افاقہ ہوا اور میں نے چراغ منگوا کر دیکھا تو وہ موئے مبارک میرے ہاتھ سے غائب تھے، اس پر مجھے سخت اندیشہ اور پریشانی لاحق ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آگاہ فرمایا کہ بیٹے میں نے دونوں بالوں کو تیرے تکیہ کے نیچے رکھا ہے یہ وہاں سے تجھے ملیں گے۔ جب مجھے افاقہ ہوا تو میں اٹھا اور انہیں اسی جگہ پایا۔ میں نے تعظیم و اکرام کے ساتھ انہیں ایک جگہ محفوظ کر لیا۔ اس کے بعد بخار ختم ہوا، تمام کمزوری دور ہو گئی اور مجھے صحتِ کلی نصیب ہوئی۔
ان موئے مبارک کے خواص میں سے تین کا ذکر کیا جاتاہے۔
1۔ یہ آپس میں جڑے ہوئے رہتے تھے جوں ہی درود شریف پڑھا جاتا یہ دونوں الگ الگ سیدھے کھڑے ہوجاتے تھے اور درود شریف ختم ہوتے ہی پھر اصلی حالت اختیار کرلیتے تھے۔

28 Feb 2012

صحابہ اکرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک زمین پر نہ گرنے دیتے

۔ حضرت عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہوئے فرمایا :
عندی من شعر رسول اﷲ مخضوب مصبوغ فی سکة.
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 437
’’ہمارے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال ہیں جو رنگین اور خوشبودار ہیں۔‘‘
موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصول کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پروانہ وار بڑھتے
9۔ اسی طرح ایک اور روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں :
لقد رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، والحَلّاق يَحلِقه وأطاف به أصحابه، فما يريدون أن تقع شعرة إلا في يد رجل.
مسلم، الصحيح، 4 : 1812، کتاب الفضائل، رقم : 2325
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 133، 137، رقم : 12386 - 12423
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 430
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 181
بيهقي، السنن الکبریٰ، 7 : 68، رقم : 13189
ابن کثير، البدايه والنهايه، 5 : 189
عبد بن حميد، المسند، 1 : 380، رقم : 1273
ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 188
’’میں نے دیکھا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک مونڈ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد گھوم رہے تھے اور چاہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بال بھی زمین پر گرنے کی بجائے ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرے۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پسِ مرگ بھی موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حصولِ برکت کے خواہاں تھے

27 Feb 2012

موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے بیمار شفایاب ہوئے

موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے بیمار شفایاب ہوئے
۔ حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أرسلَنی أهلی إلی أم سلمة بقدح من ماء، و قبض إسرائيل ثلاث أصابع من فضة فيه شعر من شعر النبي صلي الله عليه وآله وسلم، و کان إذا أصاب الإنسانَ عين أو شئ بعث إليها مِخْضَبَة. فاطلعت في الجُلْجُل فرأيتُ شعراتٍ حمرًا.
بخاري، الصحيح، 5 : 2210، کتاب اللباس، رقم : 5557
ابن راهويه، المسند، 1 : 173، رقم : 145
ابن کثير، البداية والنهاية، 6 : 21
شوکاني، نيل الاوطار، 1 : 69
مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 5 : 510
’’مجھے میرے گھر والوں نے حضرت ام سلمۃ رضی اﷲ عنہا کے پاس پانی کا (ایک چاندی کا) پیالہ دے کر بھیجا۔ (اسرائیل نے تین انگلیاں پکڑ کر اس پیالے کی طرح بنائیں) جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موئے مبارک تھا، اور جب کبھی کسی کو نظر لگ جاتی یا کچھ ہو جاتا تو وہ حضرت ام سلمۃ رضی اﷲ عنہا کے پاس (پانی کا) برتن بھیج دیتا۔ پس میں نے برتن میں جھانک کر دیکھا تو میں نے چند سرخ بال دیکھے۔‘‘
6۔ علامہ بدر الدین عینیرحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :
’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک چاندی کی بوتل میں تھے۔ جب لوگ بیمار ہوتے تو وہ ان بالوں سے برکت حاصل کرتے اور ان کی برکت سے شفا پاتے۔ اگر کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی بیمار ہوجاتا تو وہ اپنی بیوی کو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس برتن دیکر بھیجتے جس میں پانی ہوتا اور وہ اس پانی میں سے بال مبارک گزار دیتیں اور بیمار وہ پانی پی کر شفایاب ہوجاتا اور اس کے بعد موئے مبارک اس برتن میں رکھ دیا جاتا۔
عينی، عمدةالقاری، 22 : 49
۔ حضرت یحییٰ بن عباد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :
کان لنا جلجل من ذهب فکان الناس يغسلونه، و فيه شعر رسول اﷲ، قال : فتخرج منه شعرات قد غيرت بالحناء والکتم.
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 437
’’ہمارا ایک سونے کا برتن (جلجل) تھا جس کو لوگ دھوتے تھے، اس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تھے۔ چند بال نکالے جاتے تھے جن کا رنگ حنا اور نیل سے بدل دیا گیا تھا۔‘‘
 
Copyright © 2010 Shan-e-Mustafa. All rights reserved.