28 Jan 2012

تعظیم نام محمد سے 100 سال کے گناہ معاف اور جنت عطا ہو گئی

بنی اسرائیل میں ایک شخص نہایت ہی گناہ گار تھا۔ سو سال گناہوں اور معصیت میں اس نے گزارے، جب اس کی موت واقع ہوگئی تو لوگوں تو بہت خوشی ہوئی۔(لوگ اس کے فتنہ اور فساد سے بیزار تھے)نہ اس کو کسی نے غسل دیا نہ کفن پہنایا نہ نماز جنازہ ادا کی بلکہ اس کو گھسیٹ کر کچڑا کونڈی پر پھینک دیا۔حضر ت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حضرت سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام حاضر ہوئے اور عرض کیا۔اے موسیٰ علیہ السلام ! اللہ تعالی آپ کو سلام فرمارہا ہے۔اور اس نے فرمایا کہ میرا ایک ولی انتقال کرگیا ہے۔ لوگوں نے اس کو کچڑا کونڈی پر ڈال دیا ہے۔ اٹھواور اس جاکر وہاں سے اٹھالاواور اس کی تجہیز وتدفین کرو اوار بنی اسرائیل کو فرماؤ کہ اسکی نماز جنازہ پڑھیں۔تاکہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گناہ بخشے جا ئیں۔حضرت موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے بحکم رب الانام عزوجل جب اس کچڑا کونڈی کے پاس تشریف لائے تو اسے دیکھاتو یہ وہی شخص تھا جس نے سو سال نافرمانیوں میں گزارے ۔آپ کو تعجب ہوامگر اللہ عزوجل کا فرمان تھا۔چنانچہ غسل دلایا، کفن پہنایا ، نماز جنازہ پڑھ کرا س کو دفن کردیا۔پھر بارگاہ خداوندی عزوجل میں اس شخص کے بارےمیں ستفسار کیا۔ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ!(علیہ السلام ) وہ شخص واقعی فاسق و فاجر و گناہ گار تھا۔مگر اس نے ایک روز توریت شریف کھولی اس میں میرے حبیب ؐکا نام ِ نامی اسم گرامی محمد ؐلکھا ہوا پایااس نے اس مبارک نام کو چومااور اپنی انکھوں پر لگایا۔ اس کی یہ تعظیم و ادب مجھے پسند آگیا۔میں نے اس کے سو سال کے گناہوں کو بخش دیا۔اور اسے اپنے مقربین کی فہرست میں داخل کرلیا۔ (مدارج النبوت،

25 Jan 2012

جس گھر میں کوئی محمد نام والا ہو، اس گھر میں برکت ہوتی ہے۔

جس گھر میں کوئی محمد نام والا ہو، اس گھر میں برکت ہوتی ہے۔
سیّدنا امام مالک رضی  اللہ عنہ نے فرمایا، جس گھر میں کوئی محمد نام والا ہو اس گھر میں برکت ذیادہ ہوتی ہے۔زرقانی علی المواہب 302، احکام شریعت40۔

23 Jan 2012

جس گھرمیں محمد نام کا کوئی ہو اس گھر کا پہرا فرشتے دیتے ہیں

جس گھرمیں محمد نام کا کوئی ہو اس گھر کا پہرا فرشتے دیتے ہیں
کچھ اللہ تعالی کے ایسے فرشتے ہیں جو زمین پر چکر لگاتے رہتے ہیں ان کی ڈیوٹی یہ ہےکہ جس گھر میں کوئی محمد نام والا ہو اس کا پہرا دینا۔سیرت حلبیہ 79۔

21 Jan 2012

جب بچے کا نام محمد رکھو تو پھر اس کی تعظیم کرو

جب  بچے کا نام محمد رکھو تو پھر اس کی تعظیم کرو اور اسکی قباحت و برائی نہ کرو
حضرت علی رضی  اللہ عنہ نے فرمایا کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہےجب تم بچے کا نام محمد رکھو تو پھراس کی عزت کرو اور اس کے لیے جگہ فراخ کرو اور اس کی قباحت و برائی مت کرو۔زرقانی علی المواہب 302، احکام شریعت 40۔

19 Jan 2012

جو اپنے بیٹے کا نام محمد نہ رکھے وہ جاہل ہے

جو اپنے بیٹے کا نام محمد نہ رکھے وہ جاہل ہے۔
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
جس کے تین لڑکے پیدا ہوئے اور اس نے کسی کا نام محمد نہ رکھا وہ جاہل ہے۔
۔سیرت حلبیہ۔79۔احکمام شریعت 39۔

18 Jan 2012

جس مومن کا نام محمد ہو اس پر دوزخ حرام ہے

جس مومن کا نام محمد ہو اس پر دوزخ حرام ہے۔

سیدنا نبیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے، اے محبوب مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں کسی ایسے بندے کو دوزخ کا عذاب نہ دوںگا جس نے اپنانام ترے نام پر رکھا۔ زرقانی علی المواہب۔


--
**Asif Rao**
**Sargodha**

جس مومن کا نام محمد ہو اس پر دوزخ حرام ہے

جس مومن کا نام محمد ہو اس پر دوزخ حرام ہے۔
سیدنا نبیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے، اے محبوب مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں کسی ایسے بندے کو دوزخ کا عذاب نہ دوںگا جس نے اپنانام ترے نام پر رکھا۔ زرقانی علی المواہب

17 Jan 2012

میں نے اپنی ذات پر قسم کھائی ہے کہ جس کا نام محمد یا احمد ہوگا وہ دوزخ نہیں جائے گا



جس کا نام محمد یا احمد ہو وہ جنت داخل کر دیا جائیگا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
قیامت کے دن دو بندے دربار الہی میں کھڑے کیے جائیں گے اس میں سے ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام احمد ہوگا، اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوگا  کہ ان دونوں کو جنت لے جاو وہ دونوں عرض کریں گے یا اللہ ہم کس عمل کی وجہ سے جنت کے حقدار ہوئے  حالانکہ ہم نے تو کوئی عمل جنتیوں والا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالی فرمائے گا، تم دونوں جنت جاو کیونکہ میں نے اپنی ذات پر قسم کھائی ہے کہ جس کا نام محمد یا احمد ہوگا وہ دوزخ نہیں جائے گا.
زرقانی علی المواہب۔

16 Jan 2012

جو شخص اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ باپ بیٹا دونوں جنتی



جو شخص اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے  وہ باپ بیٹا دونوں جنتی
سید نا ابو امامہ رضي اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اس نے میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لیے بچے کا نام محمد رکھا تو وہ دونوں باپ بیٹا جنت جائیں گے۔زرقانی علی المواہب۔

14 Jan 2012

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آسمانوں سے نازل ہوا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب چھ ماہ گزر گئے تو خواب میں کوئی آنے والا آیا اور اس نے کہا۔
اے آمنہ تیرے شکم پاک میں وہ ہے کہ سارے جہانوں سے افضل و اعلي ہے اور جب اس کی ولادت ہو تو اس کا نام  محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھنا۔ مواہب لدنیہ۔

12 Jan 2012

عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اذانِ بلالی رضی اللہ عنہ

 وارفتگی عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اذانِ بلالی رضی اللہ عنہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :
ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308
’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک! یا سیدی یا رسول اﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.
سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27
’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘
اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :
فلما قال : اﷲ أکبر، اﷲ أکبر، ارتجَّت المدينة، فلما أن قال : أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ، ازداد رجّتها، فلما قال : أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ، خرجت العواتق من خدورهن، و قالوا : بعث رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فما رُئي يوم أکثر باکيا ولا باکية بالمدينة بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، من ذالک اليوم.
ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308
’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔
علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
 وارفتگی عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اذانِ بلالی رضی اللہ عنہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :
ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308
’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک! یا سیدی یا رسول اﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.
سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27
’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘
اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :
فلما قال : اﷲ أکبر، اﷲ أکبر، ارتجَّت المدينة، فلما أن قال : أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ، ازداد رجّتها، فلما قال : أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ، خرجت العواتق من خدورهن، و قالوا : بعث رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فما رُئي يوم أکثر باکيا ولا باکية بالمدينة بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، من ذالک اليوم.
ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308
’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔
علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

11 Jan 2012

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلقِ عشقی


حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلقِ عشقی
حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کی تربیت براہِ راست آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ بچوں میں سب سے پہلے دامنِ اسلام سے وابستہ ہونا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقدر میں لکھا گیا تھا۔ اس مقام پر سیدنا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے اس قول کا ذکر ضروری ہے جس میں آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی لذت آفرین کیفیت کو بیان کر کے ثابت کر دیا کہ عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پرچم سر بلند کرنا اور اطاعتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قندیل دل میں روشن رکھنا ہی ایمان کی اساس ہے۔
قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا :
کيف کان حبکم لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم؟
قاضی عياض، الشفا، 2 : 568
آپ (صحابہ کرام) کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قدر محبت تھی؟
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
کان و اﷲ! أحب إلينا من أموالنا وأولادنا و آباء نا و أمهاتنا و من الماء البارد علي الظمأ.
قاضي عياض، الشفاء، 2 : 568
’’اللہ کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنے اموال، اولاد، آباء و اجداد اور امہات سے بھی زیادہ محبوب تھے اور کسی پیاسے کو ٹھنڈے پانی سے جو محبت ہوتی ہے ہمیں اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر محبوب تھے۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا معمول تھا کہ وہ زیارتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مواقع تلاش کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اقدس کی خوشبو انہیں بتا دیتی کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرف گئے ہیں۔ وہ آسانی سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سراغ لگا لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی تابانیوں میں اپنی روح و جان کے ساتھ بھیگ جاتے۔ جناب حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی اور تقرب کا حال جاننے کے لئے یہ روایت ملاحظہ فرمائیے :
سورج کا پلٹنا اور نمازِ عصر کی ادائیگی
حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ غزوہء خیبر کے دوران قلعہ صہباء کے مقام پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سرِ انور رکھ کر اِستراحت فرما رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابھی نمازِ عصر ادا نہیں کی تھی۔ اس وقت چاہتے تو عرض کر دیتے کہ حضور صلی اﷲ علیک وسلم! تھوڑی دیر توقف فرمائیے کہ میں عصر کی نماز پڑھ لوں، پھر حاضرِ خدمت ہوجاتا ہوں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی تھا لیکن عقل کا کام تو بقولِ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ بہانے تلاش کرنا اور تنقید کرنا ہے۔ فرماتے ہیں :
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اَعمال کی بنیاد رکھ
عقل کا تو شیوہ ہی تنقید ہے، جبکہ عشق آنکھیں بند کر کے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے :
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
عقل سود و زیاں کے چکر میں اُلجھی رہتی ہے جب کہ عشق بے خطر آگ میں کود کر اُسے گل و گلزار میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عشق منزل کو پالیتا ہے اور عقل گردِ سفر میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔
بو علی اندر غبارِ ناقہ گم
دستِ رومی پردۂ محمل گرفت
(بو علی (جو کہ عقل کی علامت ہے محبوب کی) اونٹنی کے غبار میں گم ہو گیا (جبکہ عشق کے نمائندے) رومی نے ہاتھ آگے بڑھا کر (محبوب کے) کجاوے کو تھام لیا۔)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ’’عقل قرباں کن بہ پیشِ مصطفیٰ‘‘ کا مظہر بنتے ہوئے اپنی نماز محبوب کے آرام پر قربان کر دی، جس کے نتیجے میں اس کشتۂ آتشِ عشق اور پیکرِ وفا کو وہ نماز نصیب ہوئی جو کائناتِ انسانیت میں کسی دوسرے کا مقدر نہ بن سکی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ تو کب سے موقع کے متلاشی تھے کہ انہیں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اور قرب نصیب ہو۔ وہ ایسا نادر موقع کیونکر ہاتھوں سے جانے دیتے، وہ تو زبان حال سے کہہ رہے ہوں گے :
نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں
نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں
چنانچہ انہوں نے موقع غنیمت جانا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِانور کے لئے اپنی گود بچھا دی، جس پر آپ انے اپنا مبارک سر رکھا اور اِستراحت فرمانے لگے۔ اب نہ جیسا کہ ہم ابھی بتا چکے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اور نہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ نماز عصر ادا ہوئی کہ نہیں؟
اِدھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی خوش بختی کے کیف میں آفتابِ نبوت کو تکے جا رہے تھے اور ادھرآفتابِ جہاں تاب اپنی منزلیں طے کرتا ہوا غروب ہوتا جا رہا تھا۔ جب ان کی نظر ڈوبتے سورج پر پڑی تو چہرۂ اقدس کا رنگ متغیر ہونے لگا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی۔ کبھی نگاہ سورج پر ڈالتے اور کبھی محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخِ زیبا پر۔ کبھی مائل بہ غروب سورج کو تکتے تو کبھی آفتابِ رسالت کے طلوع کا منظر دیکھتے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ سورج ڈوب چلا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدا ر ہوئے تو دیکھا کہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں محوِ گریہ ہیں۔ پوچھا : کیا بات ہوئی؟ عرض کیا : آقا! میری نمازِ عصر رہ گئی ہے۔ فرمایا : قضا پڑھ لو۔ انہوں نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، جو زبانِ حال سے یہ کہہ رہی تھیں کہ آپ رضی اللہ عنہ لی اﷲ علیک وسلم کی غلامی میں نماز جائے اور قضا پڑھوں؟ اگر اس طرح نماز قضا پڑھوں تو پھر ادا کب پڑھوں گا؟
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ قضا نہیں بلکہ نماز ادا ہی کرنا چاہتا ہے تو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، اللہ جل مجدہ کی بارگاہ میں دستِ اقدس دعا کے لئے بلند کر دیئے اور عرض کیا :
اللّٰهم! إنّ عليا فی طاعتک و طاعة رسولک، فاردد عليه الشمس.
طبراني، المعجم الکبير، 24 : 151، رقم : 2390
هيثمي، مجمع الزوائد، 8 : 3297
قاضي عياض، الشفا، 1 : 4400
ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 6 : 583
سيوطي، الخصائص الکبري، 2 : 6137
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 103
’’اے اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا (کہ اس کی نماز قضا ہو گئی)، پس اس پر سورج کو پلٹا دے (تاکہ اس کی نماز ادا ہو)۔‘‘
نماز وقت پر ادا کرنا اللہ کی اطاعت ہے لیکن یہاں تو نماز قضا ہو گئی تھی اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قضا کو اﷲ کی اطاعت قرار دے رہے تھے۔ کیا معاذ اللہ آرام اللہ پاک فرما رہا تھا؟ نہیں، وہ تو آرام سے پاک ہے۔ کیا نیند اللہ کی تھی؟ نہیں، وہ تو نیند سے بھی پاک ہے۔ آرام حضور علیہ السلام کا تھا، نیند حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی، علی رضی اللہ عنہ کی نماز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند پر قربان ہو گئی۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ ’’اے اللہ! علی تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا‘‘، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے اطاعت کا مفہوم بھی واضح ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت گری جیسی بھی ہو رب کی اطاعت ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مصروف تھے اس لئے ان کی قضا بھی اطاعتِ الٰہی قرار پائی۔ فاضل بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے :
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اُس تاجور کی ہے
حدیثِ مبارک میں مذکور ہے کہ جب آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستِ اقدس دعا کے لئے بلند فرمائے تو ڈوبا ہوا سورج اس طرح واپس پلٹ آیا جیسے ڈوبا ہی نہ ہو۔ یہ تو ایسے تھا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں ڈوریاں ہوں جنہیں کھینچنے سے سورج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب کھنچا آرہا ہو۔ یہاں تک کہ سورج عصر کے وقت پر آگیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز عصر ادا کی۔

9 Jan 2012

ضرت عمر [رضی اللہ عنہ ] کی شہادت


حضرت عمر [رضی اللہ عنہ ] کی شہادت :خلیفہ دوئم امیر المومنین سیدنا عمر فاروق [رضی اللہ عنہ]کو جب شہید کیا گیا تو ان کی شہادت پر جنات نے بھی اظہار رنج وغم کیااور وہ روئے۔حضر ت حاکم[رحمتہ اللہ علیہ] نے مالک بن دینار [رحمتہ اللہ علیہ]سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر [رضی اللہ عنہ] کی شہادت پر جبل تبالہ سے یہ آواز آئی۔
''اہل اسلام بچھڑ گئے اور مسلمانوں میں ضعف نمودار ہوگیا۔دنیا کی اچھائیوں اور دنیا والوں نے اسلام سے منہ موڑ لیا اور جس کو موت کا یقین ہےوہ تو اس دنیا میں ملول ورنجیدہ ہی رہتا ہے۔''
[کرامات صحاب

31 Dec 2011

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مذہبی رواداری

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مذہبی رواداری
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت بھی زیادہ تر پر آشوب اور پرشور رہا‘ ان کی خلافت کی مدت پانچ سال رہی‘ لڑائیوں اوربغاوتوں کی بدولت ان کو وہ سکون حاصل نہ ہوسکاجو حکمرانی کیلئے ضروری ہے مگر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ میں تربیت پائی تھی اس لیے زہد‘ تقویٰ‘ عبادت‘ تواضع‘ انفاق فی سبیل اللہ اور حسن سلوک میں جو اعلیٰ نمونے پیش کیے جاسکتے ہیں وہ ان کی زندگی میں ملتے ہیں‘ شجاعت میں کوئی معاصران کا حریف نہ تھا مگر وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر عمل فرماتے رہے کہ بہادر وہ نہیں ہے جو دشمن کو بچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کرے۔ ان کی زندگی کا یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ ایک لڑائی میں ایک یہودی کو پچھاڑ کر اس کے سینے پر سوار ہوگئے اور اس کو ہلاک کرنا چاہتے تھے کہ اس نے ان کے منہ پر تھوک دیا تو یکایک اس کے سینے پر سے اتر کر علیحدہ ہوگئے‘ یہودی نے متعجب ہوکر اس طرح علیحدہ ہونے کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ پہلے تمہیں اللہ کی خاطر ہلاک کرنا چاہتا تھا تم نے میرے منہ پر تھوکا تو اب میں تم کو ہلاک کرتا تو اپنے نفس کی خاطر کرتا جو صحیح نہیں ہوتا‘ یہ سن کر یہودی مسلمان ہوگیا۔
وہ اپنے حسن سلوک کی وجہ سے بے حد مقبول رہے‘ ان کے اسی وصف پر بھروسہ کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے اشاعت اسلام کاکام برابر لیتے رہے‘ فتح مکہ کے بعد حضرت خالدرضی اللہ تعالیٰ عنہ بنوخزیمہ میں تبلیغ اسلام کیلئے مامور ہوئے اس قبیلہ نے پہلے تو اسلام قبول کرلیا پھر منحرف ہوگیا‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کچھ لوگوں کو قید اور کچھ کو قتل کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حسن معاملہ کی کارکردگی پر پورا اعتماد تھا‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلطی کی تلافی کیلئے ان کو بنی خزیمہ کے پاس بھیجا‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رواداری سے کام لیا‘ قیدیوں کو رہا کردیا اور مقتولین کے وارثوں کو خون بہا دیا۔ (فتح الباری ج8 ص 46)

14 Dec 2011

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا



ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہء نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ ئِ رسالت کا انمول ہیرا، جس کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ جس کو تعلیمات نبوی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر عبور حاصل تھا ۔ جسے اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی۔ جسے ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا۔ جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔

ولادت :
حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر کے عقد میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمن اور عائشہ ۔حضرت عائشہ کی تاریخ ولادت سے تاریخ وسیر کی تمام کتابیں خاموش ہیں ۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔

نام :
نام عائشہ تھا ۔ ان کا لقب صدیقہ تھا ۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا ۔ نبی مکرم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے ۔اور کبھی کبھار حمیرا سے بھی پکارتے تھے۔

کنیت :
عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے ۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو''۔
چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔

نکاح:
ہجرت سے ٣ برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ٩ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی ۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی ۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیا وآخرت میں رفیقہ ئِ حیات ہے۔ سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا ۔

فضائل وکمالات:
حضرت عمرو بن عاص نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ''عائشہ'' عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔
رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :
''مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر''۔
امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ، فاضلہ ، فقیہہ تھیں ۔
عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کے کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ٩ باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں ۔
1۔ خواب میں فرشتے نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔
2۔ جب میں سات برس کی تھی تو آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ۔
3۔ جب میرا سن ٩ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی ۔
4۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی ۔
5۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی ۔
6۔ میں آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی ۔
7۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں ۔
8۔ میں نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
9۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔

حضرت عائشہ اور احادیث نبوی :
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا ۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں ۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ۔
دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو ۔
صدیقہ کائنات سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں ۔

وفات :
سن ٥٨ ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔



12 Dec 2011

ُام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ


ُام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام ونسب
خدیجہ نام‘ ام ہند کنیت‘ طاہرہ لقب۔ سلسلہ نسب یہ ہے خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی‘ قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا اور لوی بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد اپنے قبیلہ میں نہایت معزز شخص تھے مکہ آکر اقامت کی۔ عبدالدار ابن قصی کے‘ جوا ان کے ابن عم تھے‘ حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی ہے جن کے بطن سے عام الفیل سے 15سال قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں۔
سن شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بناءپر طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔

تجارت
باپ اور شوہر کے مرجانے کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو سخت دقت واقع ہوئی ذریعہ معاش تجارت تھی جس کا کوئی نگران نہ تھا۔ تاہم اپنے اعزہ کو معاوضہ دیکر مال تجارت بھیجتی تھیں۔ ایک مرتبہ مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم کو خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جاکر ملنا چاہیے ان کا مال شام جائے گا۔ بہتر ہوگا کہ تم بھی ساتھ جاتے۔ میرے پاس روپیہ نہیں‘ ورنہ میں خود تمہارے لیے سرمایہ مہیا کردیتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت امین کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن معاملت‘ راست بازی‘ صدق ودیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا عام چرچا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فوراً پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لیکر شام کو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا اور مال تجارت لیکر میسرہ (غلام خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے ہمراہ بصرہ تشریف لے گئے‘ اس سال کا نفع سالہائے گزشتہ کے نفع سے دوگنا تھا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا لیکن کارکنان قضاو قدر کی نظر انتخاب کسی اور پر پڑچکی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مال تجارت لیکر شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شادی کا پیغام بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا اور شادی کی تاریخ مقرر ہوگئی۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 25سال کے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔

اسلام
پندرہ برس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ پیغام سنایا‘ وہ سننے سے پہلے مومن تھیں کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کرسکتا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء رئویائے صادقہ سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوکچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہوجاتا۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزین ہوگئے چنانچہ کھانے پینے کا سامان لیکر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے جب سامان ہوختم ہوجاتا تو پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جاکر مراقبہ میں مصروف ہوتے‘ یہاں تک کہ ایک فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں‘ اس نے زور سے دبایا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں‘ پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اورکہا پڑھ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں‘ اسی طرح تیسری بار دبا کر کہا پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا‘ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الٰہی سے لبریز تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا ” مجھ کو ڈر ہے“ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا آپ متردد نہ ہوں خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں‘ بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں‘ مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں‘ پھر وہ آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے اب وہ بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے‘ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ اپنے بھتیجے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی باتیں سنو۔ بولے ابن الاخ تم نے کیا دیکھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ ؑ پر اترا تھا‘ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر بدر کرے گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں۔ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اس کی دشمن ہوجاتی ہے اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو تمہاری وزنی مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہوگیا اور وحی کچھ دنوں کیلئے رک گئی۔
اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی آپ کے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں۔ ابن سعد کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھتے رہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چندسال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے اس میں بڑی حد تک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا اثر کام کررہا تھا اوپر گزر چکا ہے کہ آغازنبوت میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ مجھ کو ڈر ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں خدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑے گا۔ جب مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور تشفی دی۔

وفات
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نکاح کے بعد پچیس برس تک زندہ رہیں اور گیارہ رمضان ہجرت سے تین سال قبل انتقال فرمایا۔ اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد ان ہی سے پیدا ہوئی۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ مقدس خاتون ہیں جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی چھوڑ دی تھی ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو جو محبت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور اس دولت و ثروت کے جو ان کو حاصل تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں ۔ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابرتن میں کچھ لارہی ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بے انتہا محبت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی ان کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ گو میںنے خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نہیں دیکھا لیکن مجھ کو جس قدر ان پر رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭

7 Dec 2011

صحابہ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ اگرچہ کمسن تھے لیکن استقامت و جانثاری میں کسی سے پیچھے نہ تھے قبول اسلام کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ کسی نے مشہور کردیا کہ مشرکین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرلیا ہے یہ سننا تھا کہ جذبہ عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بے خود ہوکر اسی وقت ننگی تلوار کھینچ کر مجمع کو چیرتے ہوئے آستانہ اقدس پر حاضر ہوئے' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو پوچھا "زبیر! یہ کیا ہے؟ عرض کی مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔" ننھے زبیر کا یہ جذبہ دیکھ کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور ان کیلئے دعا خیر فرمائی۔
اہل سیر فرماتے ہیں کہ یہ پہلی تلوار تھی جو راہ فدویت وجانثاری میں ایک بچہ کے ہاتھ سے برہنہ ہوئی۔

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا خوف آخرت
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے پوچھا "آخر کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور فلاں فلاں صاحب کو احادیث بیان کرتے سنا ہے۔" یہ سن کر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے فرمایا " میں اسلام لانے کے بعد کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا لیکن میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جملہ فرماتے ہوئے سنا ہے" جس نے جان بوجھ کر کسی بات کو میری طرف منسوب کیا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی دولت
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے تمول اور مالداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے تمام مال کا تخمینہ پانچ کروڑ دو لاکھ درہم (یا دینار) کیا گیا تھا لیکن اس قدر مال کے باوجود بائیس لاکھ کے مقروض تھے اس کی وجہ سے تھی کہ عموماً لوگ اپنا مال ان کے پاس جمع کرتے تھے لیکن یہ احتیاط کے خیال سے سب سے کہہ دیتے تھے کہ امانت نہیں بلکہ قرض کی حیثیت سے لیتا ہوں' اسی طرح بائیس لاکھ کے مقروض ہوگئے۔جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جنگ جمل کیلئے تیار ہوئے تو انہوں نے اپنے صاحبزادہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا "جان پدر! مجھے سب سے زیادہ خیال اپنے قرضہ کا ہے' اس لیے میرا مال ومتاع بیچ کر سب سے پہلے قرضہ ادا کرنا اور جو باقی بچے اس میں سے ایک تہائی تمہارے بچوں کووصیت کرتا ہوں ہاں! اگر کفایت نہ کرے تو میرے مولیٰ کی طرف رجوع کرنا۔" حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا "آپ کا مولیٰ کون ہے؟" فرمایا "میرامولیٰ خدا ہے جس نے مصیبت کے وقت میری دستگیری کی ہے۔"
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حسب وصیت مختلف آدمیوں کے ہاتھ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی جاگیر بیچ کر قرضہ ادا کرنے کا انتظام کیا اور چار برس تک زمانہ حج میں اعلان کرتے رہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو آکر مجھ سے وصول کرلے' غرض اس طرح سے قرض ادا کرنے کے بعد اتنی رقم باقی رہی کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویوں میں سے ہر ایک کو بارہ بارہ لاکھ حصہ ملا' موصی لہ اور دوسرے وارث اس کے علاوہ تھے۔

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی فکر آخرت
حضرت عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ان آیات کا نزول ہوا۔ ترجمہ: "آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے' پھر قیامت کے دن تم مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کروگے۔" (الزمر: 31,30)
توحضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا "یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم خاص خاص گناہوں کے ساتھ ہم پر وہ جھگڑے بھی بارہا پیش کیے جائیں گے جو دنیا میں ہمارے آپس میں تھے؟" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ہاں! یہ مقدمات بار بار پیش کیے جاتے رہیں گے' یہاں تک کہ ہر حق والے کو اس کا حق مل جائے گا۔" یہ سن کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا "اللہ کی قسم! پھر تو معاملہ بہت سخت ہے۔"

مجلس کا کفارہ
ایک مرتبہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا "یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ہم زمانہ جاہلیت کی باتیں شروع کردیتے ہیں۔" حضور صلی اللہ علیہ وسلم اقدس نے ارشاد فرمایا: " جب تم ایسی مجلسوں میں بیٹھو جن میں تمہیں اپنے بارے میں ڈر ہو کہ تم سے غلط باتیں ہوگئی ہوں گی تو اٹھتے وقت یہ کلمات پڑھ لیا کرو: سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمدِکَ نَشھَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ نَستَغفِرُکَ وَنَتُوبُ اِلَیکَ۔ اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہوگا یہ کلمات اس کیلئے کفارہ بن جائیں گے۔"

اے حراء! ٹھہر جا
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جبل حراءپر تھے کہ اچانک اس پر لرزہ طاری ہوا اور وہ حرکت کرنے لگا' حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے حراءٹھہر جا! تجھ پر ایک نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )' صدیق رضی اللہ عنہ ہے اور (باقی) شہید ہیں' اس وقت پہاڑ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ' حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ' حضرت عمر رضی اللہ عنہ ' حضرت علی رضی اللہ عنہ ' حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ' حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔امام نووی "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں "یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر دی کہ یہ حضرات شہادت کا رتبہ حاصل کریں گے اور اس وقت پہاڑ پر موجود حضرات میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب کی وفات شہادت کے ساتھ ہوئی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نزدیک مقام زبیر رضی اللہ عنہ
ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس قدر بیمار ہوگئے کہ حج کیلئے بھی نہ جاسکے اور اپنا وصی بھی مقرر فرما دیا' اس بیماری کے دوران ایک قریشی آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا " آپ اپنا نائب مقرر فرمادیجئے" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا " میں ایسا کرچکا ہوں" اس شخص نے پوچھا "آپ نے کس کو اپنا نائب مقرر کیا ہے؟" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بات کا جواب نہ دیا اور خاموشی اختیار فرمالی۔ اس کے بعد دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی وہی گفتگو کی جو پہلے نے کی تھی' حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے جیسی گفتگو فرمانے کے بعد کہا: " یہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں" پھر فرمایا "خدا کی قسم! میرے علم کے مطابق یہ لوگوں میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
--
**Asif Rao**

**Sargodha**

29 Nov 2011

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق اچھا سلوک رہتا


عراق‘ مصر اور شام کے دفتر مال گزاری کا حساب کتاب وہاں کی زبانوں میں رکھا جاتاتھا اس لیے حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں وہاں کے حساب کتاب کرنے والے مجوسی‘ عیسائی یا قبطی تھے۔ ان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق اچھا سلوک رہتا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بستر مرگ پر بھی ذمیوں کا خیال رہا۔انہوں نے فرمایا میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو ذمیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کرتا ہوں‘ ان سے جو عہد کیا جائے اس کی پابندی کی جائے‘ ان کے دشمنوں کے خلاف ان کا دفاع کیا جائے اور ان پر ان کی برداشت سے زیادہ بار نہ ڈالا جائے۔وہ عمال (گورنر وغیرہ) کی خطائوں کی سخت گرفت کرتے‘ ایک بار عوام سے مخاطب ہوکر فرمایا: اللہ کی قسم میں اپنے عمال (گورنر) کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا ہوں کہ وہ تمہارے منہ پر تم کو چانٹے ماریں‘ تمہارا مال چھین لیں‘ وہ اس لیے بھیجے جاتے ہیں کہ تم کو تمہارا دین اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سکھائیں‘ اگر کوئی ذمہ دار کسی سے دین اور سنت سے ہٹ کر سلوک کرے تو میں اس سے مظلوم کا بدلہ لیکر رہوں گا یہ سن کر عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ اٹھے کہ اگر کوئی مسلمان گورنر اپنی رعایا کی تادیب کرے تو کیا اس سے بھی قصاص لیا جائےگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ہاں! میں اس سے ضرور قصاص لونگا‘ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنے سے قصاص دلواتے دیکھا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوجاتا کہ کوئی حکومتی ذمہ دار اپنے نمود و ترفع کا اظہار کرتا ہے‘ بیمار کی عیادت نہیں کرتا ہے‘ کمزور اس کے دربار میں پہنچ نہیں پاتے ہیں تو اس کو معزول کردیتے‘ انہوں نے عمال (گورنروغیرہ)کو ہدایت دے رکھی تھی کہ وہ ترکی گھوڑے پر نہ سوار ہوں‘ باریک کپڑے نہ پہنیں‘ چھنا ہوا آٹا نہ کھائیں‘ دروازہ پر دربان نہ رکھیں‘ اہل حاجت کیلئے ہمیشہ دروازہ کھلا رکھیں۔ اگر کوئی ان ہدایتوں کی خلاف ورزی کرتا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے۔

28 Nov 2011

خیبر کے یہودیوں نے ایسی باغیانہ روش اختیار کی کہ



خیبر کے یہودیوں نے ایسی باغیانہ روش اختیار کی کہ نہ صرف مسلمانوں کے معاملات میں خیانت کی اور ان میں تباہی پھیلانی چاہی بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بالاخانہ سے نیچے پھینک دیا جس سے ان کے ہاتھ ٹوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خیبر سے جلاوطن کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ نصف زمین اور نصف پیداوار کے حصہ دار ہوں گے اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلاوطن کرتے وقت نصف زمین اور نصف پیداوار کے معاوضے میں سونے چاندی اور اونٹوں کے پالان دئیے۔
فدک کے یہودیوں نے بھی سیاسی بغاوت کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی جلاوطن پر مصالحت کی تھی اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلاوطن کرتے وقت نخلستان اور اراضی میں ان کا جتنا حصہ ہوتا تھا اس کی عادلانہ قیمت تجویز کرنے کیلئے چند واقف کاروں کو بھیجا اور انہوں نے جو تجویز کی اس کے مطابق قیمت دیدی گئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی مملکت میں کسی باغیانہ سازش کی خبر مل جاتی تو اس کو فرو کرنے میں بھی پوری سختی سے کام لیتے، یہ سازش اگر غیرمسلموں کی ہوتی تو ان کو سزا دینے میں تامل تو نہیں کرتے لیکن اس میں بھی ان کی رحم لیئت اور رواداری بروئے کار آجاتی۔ شام فتح ہوا تو اس کی آخری سرحد پر ایک شہر عربوس تھا، یہاں کے لوگوں سے معاہدہ ہوگیا مگر وہ چپکے چپکے ایشیائے کوچک کے رومیوں سے سازباز کرکے مسلمانوں کے راز ان کو بتاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہاں کے حاکم عمیر رضی اللہ عنہ بن سعد کو لکھ بھیجا کہ انکو ایک برس کی مہلت دو کہ وہ اپنی سازش سے باز آئیں اور اگر باز نہ آئیں تو ان کی جائیداد زمین، مویشی اور اسباب کو شمار کرکے ایک ایک چیز کی دو چند قیمت دے دو اور ان سے کہو کہ کہیں اور چلے جائیں، اس حکم کی تعمیل کی گئی۔
 
Copyright © 2010 Shan-e-Mustafa. All rights reserved.