27 Oct 2011

ایک صحابی کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا


ایک صحابی کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا
کائنات کا سارا حسن و جمال نبی آخر الزماں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور میں سمٹ آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی زیارت سے مشرف ہونے والا ہر شخص جمالِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس طرح کھو جاتا کہ کسی کو آنکھ جھپکنے کا یارا بھی نہ ہوتا اور نگاہیں اٹھی کی اٹھی رہ جاتیں۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت کرتی ہیں :
کان رجل عند النبی صلي الله عليه وآله وسلم ينظر إليه لا يطرف.
حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے چہرۂ انور) کو (اِس طرح ٹکٹکی باندھ کر) دیکھتا رہتا کہ (وہ اپنی آنکھ تک نہ جھپکتا)۔''
حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس جاں نثار صحابی کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا :
ما بالک؟
''اِس( طرح دیکھنے) کا سبب کیا ہے؟''
اس عاشقِ رسول صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
بأبی و أمی! أتمتع من النظر إليک.
قاضی عياض، الشفاء، 2 : 2566
قسطلانی، المواهب اللدنيه، 2 : 94
''میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کے چہرۂ انور کی زیارت سے لطف اندوز ہو تا ہوں۔''
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ جاں نثاران مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خودسپردگی کی ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال میں اس طرح کھو جاتے کہ دنیا کی ہر شے سے بھی بے نیاز ہو جاتے۔
--
***Asif Rao***
**Sargodha**

26 Oct 2011

حُبِّ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم



حُبِّ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
ہروہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عقل و فہم کی دولت عطا فرمائی ہے وہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ حب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی روح ہے۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
شریعت مطہرہ نے ہر مسلمان پر حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے تمام خویش و اقارب، اعزہ و احباب سے زیادہ لازم کی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْ ھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتیّٰ یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَO (التوبہ:24)
میرے حبیب! فرما دیجئے کہ اے لوگو تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری عورتیں ، تمہارا کنبہ، تمہاری کمائی کے مال اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں ڈر رہتا ہے اور تمہاری پسند کے مکان، ان میں سے کوئی چیز بھی اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے تو انتظار کرو کہ اللہ اپنا عذاب اتارے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَاکَان لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ (التوبہ:120)
مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پیچھے بیٹھےرہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔
حضرت انس بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتیّٰ اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری ص7)
تم میں کوئی مومن نہ ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ و اولاد اور سب آدمیوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
اور انہی سے روایت ہے کہ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے:
ثَلاَثٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلاَ وَۃَ الْاِیْمَانِ اَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَا ھُمَا وَاَنْ یُّحِبَّ الْمَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ اِلاَّ لِلّٰہِ وَاَنْ یَّکْرَہَ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ (بخاری ص7)
جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت و حلاوت پالے گا۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کو تمام ماسوا سے زیادہ پیارے ہوں، دوسری یہ کہ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرے، تیسری یہ کہ وہ کفر میں لوٹ جانا ایسا بُرا سمجھے جیسا کہ آگ میں پھینکے جانے کو بُرا سمجھتا ہے۔
حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مَنْ لَّمْ یَرَوَ لاَ یَۃَ الرَّسُوْلِا فِی جَمِیْعِ اَحْوَالِہٖ وَلَمْ یَرَنَفْسَہٗ فِیْ مِلْکِہٖ لَمْ یَذُقْ حَلاَوَۃَ سُنَّۃٍ لِاَنَّہٗا قَالَ لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتیّٰ اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَّفْسِہٖ۔
جوہر حالت میں میں رسول اللہ ا کو اپنا مالک نہ جانے اور اپنی ذات کو ان کی ملکیت میں نہ سمجھے وہ حلاوت سنت سے محروم ہے کیونکہ آپ ا کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے زیادہ اس کو محبوب نہ ہو جاؤں۔ (زرقانی علی المواہب ص6 /313، شرح شفا للقاری ص 2 /25، 2 /6)
ان دو آیتوں اور تین حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ماں باپ و اولاد، عزیز و اقارب، دوست و احباب، مال و دولت، مسکن و وطن اور اپنی جان غرض کہ ہر چیزکی محبت سے زیادہ ضروری و لازم ہے اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و محبت نہ رکھے یا ان کی مخالفت کرے تو خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو اس سے دوستی اور محبت رکھنا جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَتَّخِذُوْآ اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوَلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلیَ الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَO (التوبہ: 23)
اے ایمان والو اپنے باپ اور بھائیوں کو بھی دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں اور جو تم میں سے ان سے دوستی کرے گا وہی ظالموں میں ہے۔
نیز فرمایا:
لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْکَانُوْآ اٰبَآئَ ھُمْ اَوْاَبْنَآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْط اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِینَ فیْھَاط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَO (المجادلہ:22)
تم نہ پاؤ گے انہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر کہ محبت کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرمادیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح سے ان کی امداد فرمائی اور ان کو داخل کرے گا باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ راضی ہوگیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوگئے اللہ سے، یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں آگاہ ہو جاؤ بے شک اللہ ہی کی جماعت فلاح پانے والی ہے۔
ان آیتوں سے صراحتہً ثابت ہوا کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی مخالفت کریں اور ایمان پر کفر کو پسند کریں اگر چہ وہ بہت ہی زیادہ قریبی ہوں ان سے دوستی و محبت رکھنا جائز نہیں بلکہ ظلم ہے اور بے دینی ہے۔ اس مضمون کی متعدد آیتیں اور حدیثیں موجود ہیں جب یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان و نجات کا دارومدار حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہے تو جس مومن کے دل میں آپ کی محبت کامل ہوگی اس کا ایمان بھی کامل ہوگا ورنہ ناقص اور اگر آپ کی محبت مطلقاً نہیں تو وہ قطعاً ایمان سے محروم ہے۔
اس مقام پر یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ اسلام کے دعوے دار تمام فرقے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مدعی ہیں۔ محبت ایسی چیز نہیں جو ظاہر ہو، اس کا تعلق دل سے ہے، اور ظاہر ہے کہ دلوں کا حال ہمیں معلوم نہیں۔ ایسی صورت میں ہم کس گروہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محب قرار دے کر مومن سمجھیں اور کس فرقہ کے دعویٔ محبت کو غلط جان کر اسے ناری قرار دیں؟
اس الجھن کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دین متین اور عقل سلیم کی روشنی میں محبت کا ایسا معیار تلاش کریں جس کے ذریعے حقیقت واقعیہ منکشف ہوجائے اور ہم بخوبی جان لیں کہ اصلی محبت کا حامل کون ہے۔
معیار محبت
اس سلسلہ میں بعض حضرات کا مسلک تویہ ہے کہ محبت کا معیار محبوب کی اتباع اور اس کی پیروی ہے کیونکہ محب، محبوب کا مطیع اور متبع ہوتا ہے۔
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٌ
قرآن کریم میں بھی فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران : 31)
میرے حبیب آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو
میری اتباع کرو (پھر) اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔
آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ محبت کی شرط اتباع و اطاعت ہے، لہٰذا جو گروہ متبع سنت اور پابند شریعت ہے، وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محب اور صحیح معنی میں مومن ہے۔
اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ اتباع و اطاعت جسے معیار محبت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال مبارکہ و اعمال مقدسہ کے مطابق مطلقاً عمل کرنے کا نام اتباع و اطاعت ہے یا اس میں کوئی قید بھی ملحوظ ہے؟ اگر ''مطلق عمل'' یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعمال مقدسہ کی صرف نقل کو اتباع و اطاعت قرار دیا جائے جن کی موافقت شرعاً مطلوب ہے تو وہ منافقین اور دشمنان دین بھی حضور کے متبع اور اللہ تعالیٰ کے محبوب قرار پائیں گے جو باوجود منافق ہونے اور اپنے دل میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت رکھنے کے نماز روزہ اور دیگر اعمال حسنہ کرتے تھے بلکہ صحیح احادیث میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ ایک بے دین و گمرہ قوم آخر زمانہ میں پیدا ہوگی وہ قرآن پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، سچے اور خالص مسلمان ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانیں گے، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں ہوں گی اور دل بھیڑیوں کے مثل ہوں گے، ان کے پاجامے ٹخنوں سے اونچے اور سر منڈے ہوئے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔
ایسی صورت میں اس ظاہری اتباع و سنت اور سنن کریمہ کے نقل کو کیونکر معیار محبت اور دلیل ایمان قرار دیا جاسکتا ہے؟ یہ تو نری نقالی ہے جو کسی حال میں محمود و مستحسن نہیں ہوسکتی، اس لئے ضروری ہے کہ اتباع و اطاعت کے معنی پر غور کیا جائے اور صحیح معیار محبت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فَاتَّبِعُوْنِیْ یُجْبِبْکُمُ اللّٰہُ فرما کر ہمیں بتا دیا کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ اللہ کی محبوبیت ہے۔ محبوب کا دشمن کبھی محبوب نہیں ہوسکتا پھر اللہ تعالیٰ کے محبوب کا دشمن اللہ تعالیٰ کا محبوب کیونکر ہوسکتا ہے، ثابت ہوا کہ اس آیۂ مبارکہ میں اتباع کے معنی محبت رسول کے بغیر صرف ان کے سنن کریمہ کی نقل کرنا نہیں بلکہ فَاتَّبِعُوْنِیْ کے معنی یہ ہیں کہ حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نشے میں مخمور اور ان کی الفت کے جذبات سے معمور ہو کر بتقاضائے الفت و محبت ان کی اداؤں کے سانچے میں ڈھل جاؤ گے، تو تم بھی محبوب و پیارے ہوجاؤ گے۔ یہ اتباع قطعاً حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی دلیل ہے۔
مگر بات جہاں تھی وہیں رہی، سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ فلاں گروہ یا فلاں شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت و محبت کے ساتھ ان کے سنن کریمہ پر عمل کررہا ہے، اور فلاں آدمی بغیر محبت کے محض نقالی میں مصروف ہے۔ آئیے اس سوال کا حل اور معیارِ محبت تلاش کریں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم: حُبُّکَ الَّشْیَٔ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ (مسند امام احمد، ابوداؤد 334ج2)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (کہ انسان کو جب کسی سے محبت ہوجاتی ہے تو) وہ محبت اس کو (محبوب کا عیب دیکھنے سے) اندھا اور (محبوب کا عیب سننے سے) بہرہ کردیتی ہے۔
اس مبارک حدیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ محبت کی ناقابل تردید دلیل اور صحیح معیار یہ ہے کہ مدعی محبت کی آنکھ اور کان محبوب کا عیب دیکھنے اور سننے سے پاک ہو، عقل سلیم کے نزدیک بھی محبت کا صحیح معیار یہی ہے کیونکہ محبت کا مرکز حسن و جمال ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ محبت والی آنکھ محبوب کی ذات میں کوئی عیب نظر آئے اوراگر کسی کو محبوب میں عیوب و نقائص نظر آتے ہیں تو وہ اپنے دعوی محبت میں جھوٹا ہے۔ محبت والی آنکھ کو واقعی عیب نظر نہیں آتا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو بے عیب ہیں۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عرض کرتے ہیں:
وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآئٗ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآئٗ
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھ نے آپ سا حسین و جمیل اور کوئی نہیں دیکھا کیونکہ آپ سا حسین و جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا کہ آپ ایسے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ آپ خود چاہتے تھے۔
ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے عیب ہیں اور جسے بے عیب میں عیب نظر آئے اس کا دعویٔ محبت کیوں کر درست ہوگا۔ اسی معیار پر موجود فرقوں کو پرکھ لیجئے۔
کوئی گروہ خلفائے راشدین اور محبوبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافر منافق کہہ کر ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کفر و نفاق کی محبت کا عیب لگا رہا ہے۔
کوئی آلِ اطہار کی شان میں گستاخیاں کر کے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچا رہا ہے۔ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال خاتمیت کا انکار کرکے تنقیص شانِ نبوت پر کمر باندھی ہوئی ہے۔
کوئی گرو ہ، تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کا انکار کرکے سرکار کی توہین و تکذیب میں مصروف ہے۔
کسی نے آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات علمیہ وعملیہ کا انکار کرکے تنقیصِ رسالت کی۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے، وہ ہمارے ہی جیسے بشر تھے، وہ ہمارے بڑے بھائی کے برابرتھے اور ان کی تعظیم فقط بڑے بھائی کی سی کرنی چاہیئے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ جیسا علم ان کو ہے ایسا تو ایرا غیرا نتھو خیرا، اور ہر پاگل، اور ہر نابالغ، اور ہر حیوان اور ہر چار پائے کو بھی ہے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ حضور کا علم تو شیطان لعین اور ملک الموت کے علم سے بھی کم ہے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ ان کا میلاد شریف کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ہنود کنھیا کا جنم دن مناتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے نماز میں ان کی طرف خیال لے جانا، زنا کے وسوسے اپنی بی بی کی مجامعت کے خیال اور بیل اور گدھے کے خیال میں ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے۔
اور کوئی علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ ان سے بے شمار غلطیاں ہوئیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا۔
کسی نے کہا کہ جس طرح ہم بھول جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی بھولا کرتے تھے (معاذاللہ)
غرض کہ کیا کیا لکھا جائے۔ معمولی سمجھ رکھنے والا انسان اس حقیقت کو نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ عقل و شرع سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اہل محبت کو محبوب میں کوئی عیب نظر نہیں آتا اور نہ ان کا کان محبوب کا عیب سن سکتا ہے، تو جس قوم کا شب و روز یہی وتیرہ ہو کہ قرآن و حدیث اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں عیوب و نقائص ثابت کرنے کے درپے ہو وہ کیونکر سرکار کی محبت کے دعوے میں صادق ہوسکتی ہے؟
خدا کی قسم! حضور تو محمد ہیں اور محمد کے معنی ہی بے عیب ہیں، تو جس نے محمد کے اندر عیب مانا، اس نے محمد کو محمد ہی نہیں مانا۔ حضور کو محمد وہی مانتا ہے جو حضور کو بے عیب مانتا ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) پس ثابت ہوا کہ تمام فرقوں میں وہ فرقہ اپنے دعویٔ محبت میں سچا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عیوب و نقائص سے منزہ اور پاک مانتا ہے۔
علامت محبت
گزشتہ سطور میں ثابت ہوچکا کہ ایمان کا دار و مدار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہے اور محبت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ محب اپنے محبوب کا کثرت سے ذکر کرتا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہٗ کہ جس کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے وہ اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے۔ (زرقانی علی المواہب ص314 ج6)
پس جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی زیادہ محبت ہوگئی وہ اتنا ہی کثرت سے آپ کا ذکر کرے گا۔ معلوم ہوا آپ کا کثرت سے ذکر کرنا تقاضائے محبت و ایمان ہے۔
علامہ محاسبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عَلاَمَۃُ الْمُحِبِّیْنَ کَثْرَۃُ الذِّکْرِ لِلْمَحْبُوْبِ عَلیٰ طَرِیْقِ الدَّوَامِ لَاَیَنْقَطِعُوْنَ وَلاَ یَمْلُوْنَ وَلاَ یَفْتَرُوْنَ وَقَدْ اَجْمَعَ الْحُکَمَآئُ عَلیٰٓ اَنْ مَّنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِہٖ فِذِکْرُ الْمَحْبُوْبِ ھُوَالْغَالِبُ عَلیٰ قُلُوْبِ الْمُحِبِّیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ بِہٖ بَدَلاً وَّلاَ یَبْغُوْنَ عَنْہُ حَوْلاً وَلَوْ قَطَعُوْا عَنْ ذِکْرِ مَحْبُوْبِھِمْ لَفَسَدَ عَیْشُھُمْ وَمَا تَلَذَّ ذُالْمُتَلَذِّذُوْنَ بِشْئٍی اِلَّا مِنْ ذِکْرِ الْمَحْبُوْبِ (زرقانی علی المواہب ص314 ج6)
محبوں کی علامت یہ ہے کہ وہ محبوب کا ذکر کثرت سے دائمی طور پر اس طرح کرتے ہیں کہ نہ تو کبھی ذکر سے جدا ہوتے ہیں اور نہ کبھی چھوڑتے اور نہ کبھی کوتاہی کرتے ہیں اور حکماء کا اس پر اجماع ہے کہ محب محبوب کا ذکر کثرت سے کرتا ہے اور محبوب کا ذکر محبوں کے دلوں پر ایسا غالب ہوتا ہے کہ نہ تو وہ اس کا بدل چاہتے ہیں اور نہ ہی اس سے پھرنا۔ اور اگر ان کے محبوب کا ذکر ان سے جدا ہوجائے تو ان کی زندگی تباہ ہوجائے اور وہ کسی چیز میں لذت و حلاوت نہیں پاتے جو ذکر محبوب میں پاتے ہیں۔
وَمِنْ عَلاَمَاتِ مَحَبَّتِہٖ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ تَعْظِیْمُہٗ عِنْدَ ذِکْرِہٖ وَاِظْہَارُ الْخُشُوْعِ وَالْخُضُوْعِ وَالاِنْکِسَارِ مَعَ سِمَاعِ اسْمِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم (زرقانی علی المواہب ص315 ج6)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ آپ کے ذکر شریف کے وقت آپ کی تعظیم کی جائے اور خصوصاً آپ کے نام مبارک کے سننے کے وقت خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری کا اظہار کیا جائے۔
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وَمِنْ عِلاَمَاتِ مَحَبَّتِہ صلی اللہ علیہ وسلم کَثْرَۃُ الشَّوْقِ اِلیٰ لِقَآئِہٖ اِذْ کُلُّ حَبِیْبٍ یُّحِبُّ لِقَآئَ حَبِیْبِہٖ۔ (زرقانی علی المواہب ص317 ج6)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوںمیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی زیارت اقدس کا بہت زیادہ شوق ہو کیونکہ ہر محب اپنے محبوب کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے۔
وَمِنْ عِلاَمَاتِ مَحَبَّتِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یَّلْتَذَّ مُحِبُّہٗ بِذِکْرِہِ الشَّرِیْفِ وَیَطْرَبُ عِنْدَ سِمَاعِ اسْمِہِ الْمُنِیْفِ۔ (زرقانی علی المواہب ص322 ج6)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوںمیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کا محب آپ کے ذکر شریف سے روحانی لذت و سرور پائے اور آپ کے نام مبارک کے سننے کے وقت خوش ہو۔
اب ان لوگوں کی حالت کا اندزہ کیجئے جو آپ کے ذکر پاک، فضائل و کمالات صورت و سیرت کے بیان سے مسرور و شاداں نہیں، بلکہ دل تنگ ہوتے ہیں، کیا ان کا آپ کے ذکر پاک سے دل تنگ ہونا ایمان و محبت سے محروم ہونے کی کھلی ہوئی دلیل نہیں؟
آپ کا ذکر ذکرخدا ہے
حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جَعَلْتُ تَمَامَ الْاِیْمَانِ بِذِکْرِکَ مَعِیَ وَقَالَ اَیْضًا جَعَلْتُکَ ذِکْرًا مِّنْ ذِکْرِیْ فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرَنِیْ۔ (شفا شریف ص12 ج1)
میں نے ایمان کا مکمل ہونا اس بات پر موقوف کردیا کہ (اے محبوب) میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہو اور میں نے تمہارے ذکر کو اپنا ذکر ٹھہرا دیا ہے، پس جس نے تمہارا ذکر کیا، اس نے میرا ذکر کیا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقُوْلُ أَتَدْرِیْ کَیْفَ رَفْعَتُ ذِکْرَکَ قُلْتُ اللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِیَ۔
(زرقانی علی المواہب و درمنشور ص264 ج6)
میرے پاس جبریل آئے اور کہا بے شک آپ کا رب فرماتا ہے کہ (اے حبیب) تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذکر کیسا بلند کیا ہے۔ میں نے کہا اللہ خوب جانتا ہے۔ فرمایا کہ جب میرا ذکر ہوگا تو میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہوگا۔
چنانچہ قرآن پاک میں اللہ جل شانہ کے ذکر کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے دیکھئے۔
لِتُؤُمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (فتح:9) اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (حجرات:15) وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:62) اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:62) اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (مائدہ:92) اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (انفال:20) وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (نساء:13) وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (توبہ:71) وَاِنْ یُّطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حجرات:14) اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ (انفال:24) وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (نسائ:14) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:57) بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:ا) وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:3) مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلاَ رَسُوْلِہٖ(توبہ:16) اِنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ(توبہ:63) اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (مجادلہ:5) اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (مائدہ:33) وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:29) قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (انفال:13) فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (النساء) وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (انفال:13) ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حشر:4) مَااٰتَاھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:59) سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:59) اِنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:54) اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:74) فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ (انفال:41) اَلَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (توبہ:90) وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:94) وَاِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:48) اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَسُوْلُہٗ (نور:50) وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:31) اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:29) وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (احزاب:31) اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:36) لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (حجرات:12) وَیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حشر:8) وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ (منافقون:8) مَاوَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:22) وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:36) اَطَعْنَااللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ (احزاب:66)
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
اَقْبَلَ اٰدَمُ عَلیٰٓ ابْنِہٖ شِیْثَ فَقَالَ اَیْ بُنَیَّ اَنْتَ خَلِیْفَتِیْ مِنْم بَعْدِیْ فَخُذْھَا بِعَمَارَۃِ التَّقْوٰی وَالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی فَکُلَّمَا ذَکَرْتَ اللّٰہَ فَاذْکُرْ اِلیٰ جَنْبِہٖ اسْمَ مُحَمَّدٍ فَاِنِّیْ رَاَیْتُ اسْمَہٗ مَکْتُوْبًا عَلیٰ سَاقِ الْعَرْشِ وَاَنَا بَیْنَ الرُّوْحِ وَالطِّیْنِ ثُمَّ اِنِّیْ طُفْتُ السَّمٰوٰتِ فَلَمْ اَرَفِی السَّمٰوٰتِ مَوْضِعًا اِلاَّ رَاَیْتُ اسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلَیْہِ وَاَنَّ رَبِّی اَسْکَنَنِی الْجَنَّۃَ فَلَمْ اَرَفِی الْجَنَّۃِ قَصْرًا وَّلاَ غُرْفَۃً اِلاَّ وَجَدْتُّ اِسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلَیْہِ وَلَقَدْ رَاَیْتُ اسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلیٰ نُحُوْرِ الْحُوْرِ الْعِیْنِ وَعَلیٰ وَرْقِ قَصْبِ لِجَامِ الْجَنَّۃِ وَعَلیٰ وَرَقِ شَجَرَۃِ طُوْبیٰ وَعَلیٰ وَرَقِ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی وَعَلیٰٓ اَطْرَافِ الْحُجُبِ وَبَیْنَ اَعْیُنِ الْمَلٰٓئِکَۃِ فَاَکْثِرْ ذِکْرَہٗ فَاِنَّ الْمَلَآئِکَۃَ مِنْ قَبْلٍ تَذْکُرُ فِیْ کُلِّ سَاعَاتِھَا (زرقانی علی المواہب)
آدم علیہ السلام اپنے بیٹے شیث علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے میرے بیٹے تم میرے بعد میرے خلیفہ ہو۔ پس خلافت کو تقوی کے تاج اور محکم یقین کے ساتھ پکڑے رہو اور جب تم اللہ کا ذکر کرو تو اس کے متصل نام محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکر کرو کیونکہ میں نے ان کا نام عرش کے ستونوں پر لکھا ہوا دیکھا ہے جب کہ میں روح و مٹی کے درمیان تھا۔ پھر میں نے تمام آسمانوں پر نظر کی تو مجھے کوئی جگہ ایسی نظر نہیں آئی جہاں نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا نہ ہو۔ اور میرے رب نے مجھے جنت میں رکھا تو میں نے جنت کے ہر محل اور ہر بالا خانے اور برآمدے پر اور تمام حوروں کے سینوں پر اور جنت کے تمام درختوں کے پتوں پر اور شجر طوبیٰ اور سدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر اور پردوں کے کناروں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا دیکھا ہے، لہٰذا تو کثرت سے ان کا ذکر کیا کر۔ کیونکہ فرشتے ہر وقت ان کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔
آپ کی تعظیم فرض عین ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر فرض عین ہے بلکہ تمام فرائض کی اصل ہے اور آپ کی ادنیٰ توہین یا تکذیب کفر ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاصِیْلاً (الفتح: 9)
(اے نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا شاہد و مبشر و نذیر بنا کر تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔
اس آیۂ کریمہ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ اوّل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ دوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کرنا۔ سوم تسبیح یعنی اللہ کی عبادت کرنا۔ ایمان کو پہلے اس لئے رکھا کہ بغیر ایمان، تعظیم کچھ مفید نہیں اور تعظیم حبیب کو عبادت پر مقدم اس لئے فرمایا کہ بغیر تعظیم کے عمر بھر کی عبادت بے کار و مردود ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیّٓ اُنْزِلَ مَعَہٗ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الاعراف:157)
پس جو اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیۂ کریمہ میں بھی وہی ترتیب جمیل ہے۔ اوّل ان پر ایمان، دوم ان کی تعظیم اور سوم ان کے دین کی نصرت اور قرآن کریم کی اتباع، ثابت ہوا کہ ایک مومن پر ایمان لاتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر فرض ہوجاتی ہے۔ اور اگر اس تعظیم میں فرق آجائے تو سارے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ فرمایا:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لاَتَشْعُرُوْنَ o اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ لِلتَّقْوٰی لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ o (الحجرات:2)
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز سے اونچی نہ کرو اور ان کی حضوری میں بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ بیشک وہ جو اپنی آوازیں رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور پست کرتے ہیں وہ ہیں جن کا دل اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لئے رکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
اس آیۂ کریمہ میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام اور اجلال و اکرام تعلیم فرمایا گیا ہے کہ ادب و احترام کا پورا لحاظ رکھیں ورنہ نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور پھر جب صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر پورا پورا عمل کیا، اور خدمت اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی اور ان کو عظیم الشان مژدے سنائے اور جنہوں نے ترک ادب کیا ان کو بے عقل بتایا چنانچہ فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْقِلُوْنَo وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْاحَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (الحجرات:5)
بے شک وہ جو (اے حبیب) تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جب کہ وہ دوپہر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ اس وقت آرام فرمارہے تھے، انہوں نے آپ کا نام لے کر پکارنا شروع کیا، آپ باہر تشریف لائے۔ اس پر فرمایا گیا کہ اس طرح آپ کو پکارنا ادب کے خلاف اور جہالت و بے عقلی ہے بلکہ بہتر یہ تھا کہ یہ لوگ اتنا صبر کرتے کہ آپ ان کے پاس خود تشریف لاتے۔ فرمایا:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلیْمٌ (البقرہ:104)
اے ایمان والوں (ہمارے حبیب کو) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور سن لو! کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کرتے رَاعِنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی حضور ہمارے حال کی رعایت فرمائیے اور کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہی لفظ ''رَاعِنَا'' یہود کی زبان میں گستاخی و بے ادبی کا لفظ تھا۔ انہوں نے یہی لفظ گستاخی و بے ادبی کی نیت سے بولنا شروع کردیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اے ایمان والو ایسا کلمہ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مت کہو جس سے دشمن کو گستاخی و بدگوئی کا موقع مل جائے۔ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ؎
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

دیدارِ مصطفی سے بھوک کا مداوا

 دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھوک کا مداوا
اربابِ تاریخ و سیر لکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں قحط سالی کے دور میں حکومت کے جمع شدہ ذخیرے سے قحط زدہ عوام میں غلے کی تقسیم کا نظام قائم فرمایا۔ ابھی آئندہ فصل کے آنے میں تین ماہ باقی تھے کہ غلے کا سٹاک ختم ہو گیا۔ اس پر حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ فکر لاحق ہو گئی کہ افلاس زدہ لوگوں کو غلے کی فراہمی کیسے ہو گی۔ وہ اس فکر میں غلطاں تھے کہ اللہ رب العزت نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بذریعہ جبرئیل علیہ السلام یہ پیغام دیا کہ اپنے چہرے کو بے نقاب کر دیجئے، اس طرح بھوکے لوگوں کی بھوک کا مداوا ہو جائے گا۔ روایات میں ہے کہ جو بھوکا شخص حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار کر لیتا اس کی بھوک مٹ جاتی۔
شمائل الترمذی : 27، حاشيه : 3
قرآنِ حکیم نے زنانِ مصر کا ذکر کیا ہے کہ وہ کس طرح حسنِ یوسف علیہ السلام کی دید میں اتنا محو اور بے خود ہو گئیں کہ انہیں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کٹ جانے کا احساس بھی نہ رہا ۔
یہ تو حسنِ یوسفی کی بات ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تمام انبیاء علیہم السلام کی صفات و کمالات کے جامع ہیں۔ اس لئے حسن و جمال کی بے خود کر دینے والی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس میں اس درجہ موجود تھی کہ اسے حیطۂ بیان میں نہیں لایا جاسکتا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت بھوکوں کی بھوک رفع کرنے کا ذریعہ بنتی تھی، چہرۂ اقدس کے دیدار کے بعد بھوک اور پیاس کا احساس کہاں رہتا؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت کا شانۂ نبوت سے باہر تشریف لائے کہ :
لا يخرج فيها و لا يلقاه فيها أحد.
''آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے کبھی اس وقت باہر تشریف نہ لاتے تھے اور نہ ہی کوئی آپ سے ملاقات کرتا۔''
پھر یوں ہوا کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بھوک سے مغلوب باہر تشریف لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رفیقِ غار سے پوچھا :
ما جاء بک يا أبا بکر؟
اے ابوبکر! تم اس وقت کیسے آئے ہو؟
اس وفا شعار عجزو نیاز کے پیکر نے ازراہِ مروّت عرض کیا :
خرجت ألقی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وأنظر فی وجهه و التسليم عليه.
''یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف آپ کی ملاقات، چہرہ انور کی زیارت اور سلام عرض کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔''
تھوڑی دیر بعد ہی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوگئے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا :
ما جاء بک يا عمر؟
''اے عمر! تمہیں کون سی ضرورت اس وقت یہاں لائی؟''
شمعِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانے نے عرض کی :
الجوع، یا رسول اﷲ!
''یا رسول اللہ! بھوک کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں۔''
والی کون و مکان رحمتِ کل جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
و أنا قد وجدت بعض ذلک.
ترمذی، الجامع الصحيح، 4 : 583، ابواب الزهد، رقم : 22369
ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 312، رقم : 3373
حاکم، المستدرک، 4 : 145، 47178
طبری، الرياض النضره، 1 : 340
''اور مجھے بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔''
تو ہادیء برحق نبی مکرم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں جاں نثاروں کے ہمراہ اپنے ایک صحابی حضرت ابو الہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ کا شمار متمول انصار میں ہوتا تھا۔ آپ کھجوروں کے ایک باغ کے مالک تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے وقت صاحبِ خانہ گھر پر موجود نہ تھے، اُن کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ جب دیکھا کہ آج سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے غریب خانے کو اعزاز بخشا ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دو صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ اپنے گھر میں دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کریں، کیسے بارگاہِ خداوندی میں سجدۂ شکر بجا لائیں؟ ایک عجیب سی کیف و سرور اور انبساط کی لہر نے اہلِ خانہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور گھر کے در و دیوار بھی خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔ حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ پر جو کیفیت طاری ہوئی اس کے بارے میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
يلتزم النبی صلی الله عليه وآله وسلم و يفديه بأبيه و أمه.
ترمذی، الجامع الصحيح، 4 : 583، ابواب الزهد، رقم : 22369
ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 312، رقم : 3373
حاکم، المستدرک، 4 : 145، رقم : 47178
طبری، الرياض النضره، 1 : 340
''(حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ آتے ہی) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہتے جاتے میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ عليک وسلم پر قرباں ہوں۔''
بعد ازاں حضرت ابو الہیشم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ان دو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو اپنے باغ میں لے گئے، تازہ کھجوریں پیش کیں اور کھانا کھلایا۔
شمائلِ ترمذی کے حاشیہ پر مذکورہ حدیث کے حوالے سے یہ عبارت درج ہے :
لعل عمر رضی الله عنه جاء ليتسلي بالنظر في وجه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کما کان يصنع أهل مصر في زمن يوسف عليه السلام، و لعل هذا المعني کان مقصود أبي بکر رضی الله عنه و قد أدي بالطف وجه کأنه خرج رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لما ظهر عليه بنور النبوة أن أبابکر طالب ملاقاته، و خرج أبوبکر لما ظهر عليه بنور الولاية أنه صلي الله عليه وآله وسلم خرج في هذا الوقت لانجاح مطلوبه.
شمائل الترمذي : 27، حاشيه : 3
''حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس لئے تشریف لائے تھے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی زیارت سے اپنی بھوک مٹانا چاہتے تھے، جس طرح مصر والے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن سے اپنی بھوک کو مٹا لیا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عمل میں بھی یہی راز مضمر تھا۔ مگر رفیقِ سفر نے اپنا مدعا نہایت ہی لطیف انداز میں بیان کیا اور یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پُر نورِ نبوت کی وجہ سے آشکار ہو چکا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ طالبِ ملاقات ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر نورِ ولایت کی وجہ سے واضح ہو چکا تھا کہ اس گھڑی آقائے مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار انہیں ضرور نصیب ہو گا۔''

--
***Asif Rao***
**Sargodha**

نور کے معنٰی اور حضور نے سب کو چمکایا ، نور آفتاب و نور محمدی میں فرق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


نور کے معنٰی اور حضور نے سب کو چمکایا ، نور آفتاب و نور محمدی میں فرق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 

قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ پارہ 6 سورہ مائدہ رکوع 3)بے شک اللہ کی طرف سے تمہارے پاس نور آیا اور روشن کتاب۔یہ آیت کریمہ حضور اقدس صلے اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان نعت ہے، اس میں اہل کتاب کو مخاطب فرما کر ارشاد ہو رہا ہے کہ اے اللہ کے بندو تمہارے پاس بڑی شان والا نور اور کھلی ہوئی کتاب آپہنچی۔ اس آیت میں حضور علیہ السلام کو نور فرمایا۔ نور وہ ہے کہ جو آپ تو خود ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاہر کردے۔ دیکھو آفتاب نور ہے کہ آفتاب کو دیکھنے کےلئے کسی روشنی کی ضرورت نہیں وہ خود روشن ہے اور جس پر اس نے خود توجہ کردی وہ بھی چمک گیا۔ دنیا میں کوئی اپنے خاندان سے مشہور ہوتا ہے۔ کوئی پیشہ کی وجہ سے، کوئی سلطنت کی وجہ سے، لیکن حضور علیہ السلام کسی وجہ سے نہیں چمکے، وہ تو خود نور ہیں، ان کو کون چمکاتا۔ بلکہ ان کی وجہ سے سب چمک گئے۔ اسی لئے کسی بادشاہی خاندان میں پیدائش پاک نہ ہوئی۔ دولتمند گھرانے میں جلوہ گری نہ فرمائی، حتٰی کہ ولادت پاک سے پہلے والد کا سایہ بھی سر سے اٹھالیا گیا۔ نبوت کے ظہور سے پہلے تقریباً سارے اہل قرابت آگے پیچھے دنیا سے چلے گئے، اور بعد نبوت جو باقی رہے وہ خون کے پیاسے، تاکہ کوئی نہ کہہ سکے کہ حضور علیہ السلام کی یہ شہرت ان کے خاندان یا اہل قرابت کی وجہ سے ہے۔ غرضکہ اس قدر بے سروسامانی ہے۔ مگر تمام دنیا پہچانتی ہے۔ کیسی پہچانتی ہے کہ ولادت پاک سے پہلے دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ کہ نبی آخر الزمان کا زمانہ قریب آگیا۔ دوستوں میں خوشی اور دشمنوں میں رنج پھیل گیا۔ جیسے کہ سورج کے نکلنے سے پہلے آسمان پر روشنی پھیل جاتی ہے، بچپن شریف میں تمام لوگ تو کیا جانور اور پتھر بھی پہچانتے ہیں کہ یہ نبی آخرالزمان ہیں۔حلیمہ دائی حضور علیہ السلام کو لے کر اپنے گھر چلیں، تو خچر نے کہا کہ اے حلیمہ! میری پشت پر نبی آخر الزمان ہیں (مدارج) پھر حضور کی وہ نورانیت ہے کہ آپ کو زمین جانے، آسمان پہچانے، فرشی جانیں اور عرشی خدمتگاری کریں، اشارے سے سورج ڈوبا ہوا لوٹے، پورا چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوجاوے کیونکہ جانتا ہے کہ حضور کا اشارہ ہے۔بعد وفات شریف آج تیرہ سو سال سے زیادہ سال گزر چکے ہیں مگر زمین کے ہر گوشہ میں دنیا کے ہر ملک میں آپ کا نام آپ کے سارے کام آپ کی زندگی مبارک کا ایک ایک حال شریف دنیا والوں کے سامنے ہے۔ اتنے عرصہ میں دنیا میں معشوق گزرے، بادشاہ بھی گزرے، بڑے بڑے عالم و فاضل بھی گزرے مگر کسی کا نام بھی نہ رہاکیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئےپر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبییہ ذکر تھا آپ کے ظاہر ہونے کا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کی برکت سے دوسرے کس طرح ظاہر ہوئے۔ اس کے متعلق مختصراً یہ عرض ہے کہ دنیا میں بڑے بڑا اولاد والے، مال والے، بادشاہت والے، گذرے اور انہوں نے اپنا نام باقی رکھنے کےلئے بہت کوشش کی، کسی نے کوئی عمارت بنوا کر چھوڑی جیسے کہ تاج محل وغیرہ کسی نے کوئی کتاب لکھوائی، غرضکہ اپنا نام چلانے کی بہت تدبیریں کیں، لیکن نام نہ چلا، لیکن حضور علیہ السلام کے والدین کریمین حضرت آمنہ خاتون، حضرت عبداللہ، عبدالمطلب و ہاشم وغیرھم۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کی خدمت پرورش انجام دینے والے لوگ جیسے کہ حضرت حلیمہ دائی وغیرہ تمام دنیا میں قیامت تک کےلئے مشہور ہوگئے۔ کیونکہ صرف اس لئے کہ حضور علیہ السلام کی ذات سے ان کو نسبت ہوگئی، غرضکہ اپنے خاندان کو چمکایا اور اپنے ملک کو چمکایا، جس جگہ قدم پاک پہنچ گئے وہ جہان والوں کےلئے زیارت گاہ بن گئی۔ اگر ملک عرب میں آپ کا ظہور نہ ہوتا تو آج کعبہ کو کون جانتا اور مدینہ کو کون جانتا، دیکھو اس ملک میں نہ کوئی تماشاگاہ ہے، نہ کشمیر اور پیرس کی طرح تفریح کے انتظام نہ سبز زمین نہ میوے کے باغ مگر تمام دنیا اس کی طرف کچھی جارہی ہے۔ کیوں اس لئے کہ عرب کے چمن میں حضرت خلیل کے چمن سے ایک ایسا پھول کھلا کہ جس کی مہک سے دنیا معطر ہوگئی۔وہ پھول مدینہ کی کیاری میں جلوہ گر ہے، اس کی کشش سے سب ادھر بھاگے جارہے ہیں غرضکہ زمین و آسمان کی چکی سب کو پیس دیتی ہے، لیکن جو مدینہ والی کھونٹی مرکز عالم سے لگ جاتا ہے وہ اس چکی سے نہیں پس سکتا، سچ بچ جاتا ہے۔چکی کے پاٹن دیکھ کر اور دیا کبیرا روئےجو پاٹن میں آگیا سو ان میں بچانہ کوئےچکی چکی سب کہیں اور کیلی کہے نہ کوئےجو کیلی سے لاگا اس کا بال نہ بیکا ہوئےیہ تو دوستوں کا ذکر تھا جنہوں نے دشمنی کی وہ بھی مشہور ہوگئے جیسے ابو جہل وغیرہ۔ یہ تو نور کے معنے کی تحقیق تھی۔اب دو باتیں اور بھی قابل غور ہیں۔ ایک تو یہ کہ نور کو کتاب کے ساتھ کیوں جمع فرمایا گیا؟ وجہ یہ ہے کہ کوئی کتاب بھی اندھیرے میں نہیں پڑھی جاتی، روشنی چاہئیے۔ اسی طرح کتاب الٰہی کو وہ جان اور سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں وہ نور الٰہی جلوہ گر ہو، جب وہ دل میں آئے تو قرآن ہاتھ میں آیاوہ جس کو ملے ایمان ملا، ایمان تو کیا رحمان ملاقرآن بھی جب ہی ہاتھ آیا، جب دل نے وہ نور ہدٰی پایادوسرے یہ کہ نور کی تنوین تعظیم کےلئے ہے یعنی بڑا نور۔ حضور کا بڑا نور ہونا چند طرح ہے اولاً یہ کہ سورج کی روشنی دنیا میں کم و بیش ہوتی رہتی ہے۔ صبح کی ہلکی، دوپہر کو زیادہ، شام کو پھر کم، رات میں بالکل غائب مگر نور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کبھی کم نہیں، پھر سورج ہر وقت آدھی زمین کو روشن کرتا ہے۔ مگر نور حبیب علیہ السلام ساری زمین کو بلکہ فرش و عرش کو، سورج بدن کے ظاہر کو چمکاتا ہے، اور نور حبیب علیہ السلام دل و دماغ کو، خیال کو غرضکہ سب کو ہی چمکاتا ہے جو آدمی سورج سے بچنے کےلئے تہہ خانہ کوٹھڑی میں چھپ جاوے، تو دھوپ سے بچ جاوے گا۔ مگر نور محمدی تو تہہ خانہ میں، کوٹھڑی میں، پہاڑ پر، جہاں خدا کی خدائی ہے وہاں پہنچتا ہے، کسی کو محروم نہیں کرتا، جو خود اس سے فائدہ نہ اٹھائے وہ بدبخت ہے۔حضور کی ولادت مکہ معظمہ میں ہوئی، مکہ شریف بیچ زمین میں واقع ہے۔ کیونکہ محفل میں کناروں کے گیس خاص خاص جگہ روشنی دیتے ہیں، مگر درمیان کا بہت تیز گیس ساری محفل کو منور کرتا ہے دیگر انبیاء کرام اطراف عالم کے گیس تھے جو خاص جماعتوں کو ہدایت دیتے رہے۔ مگر حضور علیہ السلام ساری خدائی کے نور ہیں۔ لہٰذا بیچ میں جلوہ گری فرمائی۔ اسی لئے فرمایا۔ یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ حضرت یوسف مصر میں جاکر چمکے، جج کچہری میں، مولوی مدرسہ میں، بابو اسٹیشن پر مگر حضور علیہ السلام ہر وقت ہر جگہ چمکے، ان کا سکہ عرش و فرش، ہر بازار میں چلتا ہے۔رب نے اس آیت میں تو حضور کو نور فرمایا اور قرآن کو فرمایا مبین یعنی ظاہر کرنے والا، نور میں اور مبین میں کیا فرق ہے؟ نور تو آنکھ سے نظر آتا ہے بلکہ اندھے بھی کچھ نہ کچھ محسوس کرلیتے ہیں اس معنی سے تو حضور علیہ السلام نور ہوئے۔ کہ اندھے ابو جہل وغیرہ بھی آپ کے قائل ہوگئے۔ یعرفونہ کما یعرفون ابناءھم مگر قرآن کریم کو وہ ہی پہچان سکا جو ایمان لے آیا۔ اور اس سے مسائل وہ ہی نکا سکتا ہے۔ جو علم و اجتہاد رکھتا ہو، قرآن کو پالینا ہر ایک کا حصہ نہیں، قرآن فرماتا ہے۔ فانھم لا یکذبونک ولٰکن الظٰلمین باٰیٰت اللہ یجحدون ۔ یعنی اے محبوب یہ کافر آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ یہ تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ کافر بھی محبوب علیہ السلام کو امین، سچا، راستباز جانتے تھے، ہاں قرآن کو نہ مانتے تھے۔ یہ فرق ہے نور میں اور مبین میں۔ یا یوں سمجھ لو کہ قرآن کو حضور نے چمکایا کیونکہ آپ نور ہیں اور قرآن نے حضور علیہ السلام کے اوصاف جگہ جگہ بیان فرمائے، کیونکہ وہ بیان کرنے والا، مبین ہے صلی اللہ علیہ وعلٰی اٰلہ واصحابہ وبارک وسلم


-- 

***Asif Rao***

**Sargodha**

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نور بھی ہیں اور بشر بھی


حضور صلی اللہ علیہ وسلم نور بھی ہیں اور بشر بھی ،
امام اجل سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور امام ابجل سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے استاذ اور امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ حافظ الحدیث احد الاعلام عبد الرزاق ابوبکر بن ہمام نے اپنی تصنیف میں حضرت سیدنا و ابن سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ::
یعنی وہ فرماتے ہیں میں*نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں*باپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ قربان مجھے بتادیجیے کہ سب سے پہلے اللہ عزوجل نے کیا چیز بنائی فرمایا اے جابر بے شک بالیقین اللہ تعالٰی نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا وہ نور قدرت الٰہی سے جہاں*خدا نے چاہا دورہ کرتا رہا اس وقت لوح و قلم جنت دوذخ فرشتے آسمان زمین سورج چاند جن آدمی کچھ نہ تھا پھر جب اللہ تعالٰی نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا اس نور کے چار حصے فرمائے پہلے سے قلم ، دوسرے سے لوح ، تیسرے سے عرش ، پھر چوتھے کے چار حصے کیے پہلے سے فرشتگان حامل عرش دوسرے سے کرسی تیسرے سے ملائکہ پھر چوتھے کے چارحصے فرمائے پہلے سے آسمان دوسرے سے زمین تیسرے سے بہشت و دوذخ بنائے پھر چوتھے کے چار حصے کئے ۔۔۔ الی اخر الحدیث ۔۔
علامہ حسین بن محمد دیار بکری تاریخ الخمیس ج 1 ص 22 ، شاہ عبد الحق محدث دہلوی مدارج النبوۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ج 2 ص 2 ، علامہ قسطلانی مواہب مع زرقانی ج 1 ص 55 علامہ زرقانی شرح مواہب ج 1 ص 55 علامی فاسی مطالع المرات مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ص 221 اور عالم محقق عارف باللہ سیدی عبداق الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقئہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں قد خلق کل شیء من نورہ صلی اللہ علیہ وسلم کما ورد بہ الحدیث الصحیح ۔ علامہ عبد الغنی نابلسی الحدیقہ الندیہ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ج 2 ص 305 ۔
ترجمہ بے شک ہر چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے بنی جیسا کہ حدیث صحیح اس معنی میں*وارد ہوئی ۔
مطالع المرات شرح دلائل الخیرات میں ہے :
ترجمہ امام اجل امام اہلسنت سیدنا ابو الحسن اشعری قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نور ہے نہ نوروں کی مانند اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پاک اسی نور کی تابش ہے اور ملائکہ ان نوروں*کے ایک پھول ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے میرا نور بنایا اور میرے نور سے ہر چیز پیدا فرمائی ۔ ( علامہ فاسی مطالع المرات ،مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ص 265 )
اس کی مثال یوں سمجھئے ایک ایسا چراغ*جس سے بے شمار چراغ روشن ہوئے اس کے باوجود اپنی اصلی حالت پر باقی ہے اور اس کے نورمیں*کمی واقع نہیں ہوئی مزید واضح مثلا سورج ہے جس سے تمام سیارے روشن ہیں جن کا اپنا کوئی نور نہیں بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ سورج کا نور ان سیاروں*میں منقسم ہوگیاہے جبکہ فی الواقع ان سیاروں میں سورج ہی کا نور ہے جو سورج سےنہ تو جدا ہوا اور نہ ہی کم ہوا ، سیارے تو صرف اپنی قابلیت کی بناء پر چمکے اور سورج کی روشنی میں سے منور ہوئے ۔
اسی طرح نبی مکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو اللہ جل مجدہ نے اپنے نور سے پیدا فرمایا ہے نہ تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے نور کا ٹکڑا ہیں جس سے یہ لازم آئے کہ اللہ عزوجل سے نور کا ٹکڑا جدا ہوا بلکہ اللہ تعالٰی نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نور کے فیض سے پیدا فرمایا جسے کہ ہم نے مثال سے اسے سمجھا دیا ۔ 
سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک بشر ہیں لیکن ہماری طرح بشر نہیں ۔
انسا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ 
علماء اہلسنت اور سیدی اعلٰی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمدرضا خان رضی اللہ عنہ نے متعدد مقامات پر اس بات کی صراحت کی ہے کہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا مطلقا انکار کفر ہے چنانچہ فتاوٰی رضویہ شریف میں آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں جو یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت ظاہری بشری ہے حقیقت باطنی بشریت سے ارفع و اعلٰی ہے یا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اوروں کی مثل بشر نہیں وہ سچ کہتا ہے اور جو مطلقا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے ۔ قال اللہ تعالٰی قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا ( فتاوٰی رضویہ ج 7 صفحہ 67 مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی )
آیت مذکور کا ترجمہ از کنزالایمان تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اللہ کا بھیجا ہوا ( سورۃ بنی اسرائیل آیت 93 )

حُبِّ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

حُبِّ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
ہروہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عقل و فہم کی دولت عطا فرمائی ہے وہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ حب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی روح ہے۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
شریعت مطہرہ نے ہر مسلمان پر حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے تمام خویش و اقارب، اعزہ و احباب سے زیادہ لازم کی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْ ھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتیّٰ یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَO (التوبہ:24)
میرے حبیب! فرما دیجئے کہ اے لوگو تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری عورتیں ، تمہارا کنبہ، تمہاری کمائی کے مال اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں ڈر رہتا ہے اور تمہاری پسند کے مکان، ان میں سے کوئی چیز بھی اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے تو انتظار کرو کہ اللہ اپنا عذاب اتارے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَاکَان لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ (التوبہ:120)
مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پیچھے بیٹھےرہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔
حضرت انس بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتیّٰ اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری ص7)
تم میں کوئی مومن نہ ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ و اولاد اور سب آدمیوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
اور انہی سے روایت ہے کہ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے:
ثَلاَثٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلاَ وَۃَ الْاِیْمَانِ اَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَا ھُمَا وَاَنْ یُّحِبَّ الْمَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ اِلاَّ لِلّٰہِ وَاَنْ یَّکْرَہَ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ (بخاری ص7)
جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت و حلاوت پالے گا۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کو تمام ماسوا سے زیادہ پیارے ہوں، دوسری یہ کہ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرے، تیسری یہ کہ وہ کفر میں لوٹ جانا ایسا بُرا سمجھے جیسا کہ آگ میں پھینکے جانے کو بُرا سمجھتا ہے۔
حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مَنْ لَّمْ یَرَوَ لاَ یَۃَ الرَّسُوْلِا فِی جَمِیْعِ اَحْوَالِہٖ وَلَمْ یَرَنَفْسَہٗ فِیْ مِلْکِہٖ لَمْ یَذُقْ حَلاَوَۃَ سُنَّۃٍ لِاَنَّہٗا قَالَ لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتیّٰ اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَّفْسِہٖ۔
جوہر حالت میں میں رسول اللہ ا کو اپنا مالک نہ جانے اور اپنی ذات کو ان کی ملکیت میں نہ سمجھے وہ حلاوت سنت سے محروم ہے کیونکہ آپ ا کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے زیادہ اس کو محبوب نہ ہو جاؤں۔ (زرقانی علی المواہب ص6 /313، شرح شفا للقاری ص 2 /25، 2 /6)
ان دو آیتوں اور تین حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ماں باپ و اولاد، عزیز و اقارب، دوست و احباب، مال و دولت، مسکن و وطن اور اپنی جان غرض کہ ہر چیزکی محبت سے زیادہ ضروری و لازم ہے اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و محبت نہ رکھے یا ان کی مخالفت کرے تو خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو اس سے دوستی اور محبت رکھنا جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَتَّخِذُوْآ اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوَلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلیَ الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَO (التوبہ: 23)
اے ایمان والو اپنے باپ اور بھائیوں کو بھی دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں اور جو تم میں سے ان سے دوستی کرے گا وہی ظالموں میں ہے۔
نیز فرمایا:
لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْکَانُوْآ اٰبَآئَ ھُمْ اَوْاَبْنَآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْط اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِینَ فیْھَاط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَO (المجادلہ:22)
تم نہ پاؤ گے انہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر کہ محبت کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرمادیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح سے ان کی امداد فرمائی اور ان کو داخل کرے گا باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ راضی ہوگیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوگئے اللہ سے، یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں آگاہ ہو جاؤ بے شک اللہ ہی کی جماعت فلاح پانے والی ہے۔
ان آیتوں سے صراحتہً ثابت ہوا کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی مخالفت کریں اور ایمان پر کفر کو پسند کریں اگر چہ وہ بہت ہی زیادہ قریبی ہوں ان سے دوستی و محبت رکھنا جائز نہیں بلکہ ظلم ہے اور بے دینی ہے۔ اس مضمون کی متعدد آیتیں اور حدیثیں موجود ہیں جب یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان و نجات کا دارومدار حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہے تو جس مومن کے دل میں آپ کی محبت کامل ہوگی اس کا ایمان بھی کامل ہوگا ورنہ ناقص اور اگر آپ کی محبت مطلقاً نہیں تو وہ قطعاً ایمان سے محروم ہے۔
اس مقام پر یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ اسلام کے دعوے دار تمام فرقے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مدعی ہیں۔ محبت ایسی چیز نہیں جو ظاہر ہو، اس کا تعلق دل سے ہے، اور ظاہر ہے کہ دلوں کا حال ہمیں معلوم نہیں۔ ایسی صورت میں ہم کس گروہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محب قرار دے کر مومن سمجھیں اور کس فرقہ کے دعویٔ محبت کو غلط جان کر اسے ناری قرار دیں؟
اس الجھن کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دین متین اور عقل سلیم کی روشنی میں محبت کا ایسا معیار تلاش کریں جس کے ذریعے حقیقت واقعیہ منکشف ہوجائے اور ہم بخوبی جان لیں کہ اصلی محبت کا حامل کون ہے۔
معیار محبت
اس سلسلہ میں بعض حضرات کا مسلک تویہ ہے کہ محبت کا معیار محبوب کی اتباع اور اس کی پیروی ہے کیونکہ محب، محبوب کا مطیع اور متبع ہوتا ہے۔
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٌ
قرآن کریم میں بھی فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران : 31)
میرے حبیب آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو
میری اتباع کرو (پھر) اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔
آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ محبت کی شرط اتباع و اطاعت ہے، لہٰذا جو گروہ متبع سنت اور پابند شریعت ہے، وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محب اور صحیح معنی میں مومن ہے۔
اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ اتباع و اطاعت جسے معیار محبت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال مبارکہ و اعمال مقدسہ کے مطابق مطلقاً عمل کرنے کا نام اتباع و اطاعت ہے یا اس میں کوئی قید بھی ملحوظ ہے؟ اگر ''مطلق عمل'' یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعمال مقدسہ کی صرف نقل کو اتباع و اطاعت قرار دیا جائے جن کی موافقت شرعاً مطلوب ہے تو وہ منافقین اور دشمنان دین بھی حضور کے متبع اور اللہ تعالیٰ کے محبوب قرار پائیں گے جو باوجود منافق ہونے اور اپنے دل میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت رکھنے کے نماز روزہ اور دیگر اعمال حسنہ کرتے تھے بلکہ صحیح احادیث میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ ایک بے دین و گمرہ قوم آخر زمانہ میں پیدا ہوگی وہ قرآن پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، سچے اور خالص مسلمان ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانیں گے، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں ہوں گی اور دل بھیڑیوں کے مثل ہوں گے، ان کے پاجامے ٹخنوں سے اونچے اور سر منڈے ہوئے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔
ایسی صورت میں اس ظاہری اتباع و سنت اور سنن کریمہ کے نقل کو کیونکر معیار محبت اور دلیل ایمان قرار دیا جاسکتا ہے؟ یہ تو نری نقالی ہے جو کسی حال میں محمود و مستحسن نہیں ہوسکتی، اس لئے ضروری ہے کہ اتباع و اطاعت کے معنی پر غور کیا جائے اور صحیح معیار محبت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فَاتَّبِعُوْنِیْ یُجْبِبْکُمُ اللّٰہُ فرما کر ہمیں بتا دیا کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ اللہ کی محبوبیت ہے۔ محبوب کا دشمن کبھی محبوب نہیں ہوسکتا پھر اللہ تعالیٰ کے محبوب کا دشمن اللہ تعالیٰ کا محبوب کیونکر ہوسکتا ہے، ثابت ہوا کہ اس آیۂ مبارکہ میں اتباع کے معنی محبت رسول کے بغیر صرف ان کے سنن کریمہ کی نقل کرنا نہیں بلکہ فَاتَّبِعُوْنِیْ کے معنی یہ ہیں کہ حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نشے میں مخمور اور ان کی الفت کے جذبات سے معمور ہو کر بتقاضائے الفت و محبت ان کی اداؤں کے سانچے میں ڈھل جاؤ گے، تو تم بھی محبوب و پیارے ہوجاؤ گے۔ یہ اتباع قطعاً حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی دلیل ہے۔
مگر بات جہاں تھی وہیں رہی، سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ فلاں گروہ یا فلاں شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت و محبت کے ساتھ ان کے سنن کریمہ پر عمل کررہا ہے، اور فلاں آدمی بغیر محبت کے محض نقالی میں مصروف ہے۔ آئیے اس سوال کا حل اور معیارِ محبت تلاش کریں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم: حُبُّکَ الَّشْیَٔ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ (مسند امام احمد، ابوداؤد 334ج2)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (کہ انسان کو جب کسی سے محبت ہوجاتی ہے تو) وہ محبت اس کو (محبوب کا عیب دیکھنے سے) اندھا اور (محبوب کا عیب سننے سے) بہرہ کردیتی ہے۔
اس مبارک حدیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ محبت کی ناقابل تردید دلیل اور صحیح معیار یہ ہے کہ مدعی محبت کی آنکھ اور کان محبوب کا عیب دیکھنے اور سننے سے پاک ہو، عقل سلیم کے نزدیک بھی محبت کا صحیح معیار یہی ہے کیونکہ محبت کا مرکز حسن و جمال ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ محبت والی آنکھ محبوب کی ذات میں کوئی عیب نظر آئے اوراگر کسی کو محبوب میں عیوب و نقائص نظر آتے ہیں تو وہ اپنے دعوی محبت میں جھوٹا ہے۔ محبت والی آنکھ کو واقعی عیب نظر نہیں آتا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو بے عیب ہیں۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عرض کرتے ہیں:
وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآئٗ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآئٗ
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھ نے آپ سا حسین و جمیل اور کوئی نہیں دیکھا کیونکہ آپ سا حسین و جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا کہ آپ ایسے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ آپ خود چاہتے تھے۔
ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے عیب ہیں اور جسے بے عیب میں عیب نظر آئے اس کا دعویٔ محبت کیوں کر درست ہوگا۔ اسی معیار پر موجود فرقوں کو پرکھ لیجئے۔
کوئی گروہ خلفائے راشدین اور محبوبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافر منافق کہہ کر ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کفر و نفاق کی محبت کا عیب لگا رہا ہے۔
کوئی آلِ اطہار کی شان میں گستاخیاں کر کے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچا رہا ہے۔ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال خاتمیت کا انکار کرکے تنقیص شانِ نبوت پر کمر باندھی ہوئی ہے۔
کوئی گرو ہ، تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کا انکار کرکے سرکار کی توہین و تکذیب میں مصروف ہے۔
کسی نے آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات علمیہ وعملیہ کا انکار کرکے تنقیصِ رسالت کی۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے، وہ ہمارے ہی جیسے بشر تھے، وہ ہمارے بڑے بھائی کے برابرتھے اور ان کی تعظیم فقط بڑے بھائی کی سی کرنی چاہیئے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ جیسا علم ان کو ہے ایسا تو ایرا غیرا نتھو خیرا، اور ہر پاگل، اور ہر نابالغ، اور ہر حیوان اور ہر چار پائے کو بھی ہے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ حضور کا علم تو شیطان لعین اور ملک الموت کے علم سے بھی کم ہے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ ان کا میلاد شریف کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ہنود کنھیا کا جنم دن مناتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے نماز میں ان کی طرف خیال لے جانا، زنا کے وسوسے اپنی بی بی کی مجامعت کے خیال اور بیل اور گدھے کے خیال میں ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے۔
اور کوئی علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ ان سے بے شمار غلطیاں ہوئیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا۔
کسی نے کہا کہ جس طرح ہم بھول جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی بھولا کرتے تھے (معاذاللہ)
غرض کہ کیا کیا لکھا جائے۔ معمولی سمجھ رکھنے والا انسان اس حقیقت کو نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ عقل و شرع سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اہل محبت کو محبوب میں کوئی عیب نظر نہیں آتا اور نہ ان کا کان محبوب کا عیب سن سکتا ہے، تو جس قوم کا شب و روز یہی وتیرہ ہو کہ قرآن و حدیث اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں عیوب و نقائص ثابت کرنے کے درپے ہو وہ کیونکر سرکار کی محبت کے دعوے میں صادق ہوسکتی ہے؟
خدا کی قسم! حضور تو محمد ہیں اور محمد کے معنی ہی بے عیب ہیں، تو جس نے محمد کے اندر عیب مانا، اس نے محمد کو محمد ہی نہیں مانا۔ حضور کو محمد وہی مانتا ہے جو حضور کو بے عیب مانتا ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) پس ثابت ہوا کہ تمام فرقوں میں وہ فرقہ اپنے دعویٔ محبت میں سچا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عیوب و نقائص سے منزہ اور پاک مانتا ہے۔
علامت محبت
گزشتہ سطور میں ثابت ہوچکا کہ ایمان کا دار و مدار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہے اور محبت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ محب اپنے محبوب کا کثرت سے ذکر کرتا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہٗ کہ جس کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے وہ اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے۔ (زرقانی علی المواہب ص314 ج6)
پس جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی زیادہ محبت ہوگئی وہ اتنا ہی کثرت سے آپ کا ذکر کرے گا۔ معلوم ہوا آپ کا کثرت سے ذکر کرنا تقاضائے محبت و ایمان ہے۔
علامہ محاسبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عَلاَمَۃُ الْمُحِبِّیْنَ کَثْرَۃُ الذِّکْرِ لِلْمَحْبُوْبِ عَلیٰ طَرِیْقِ الدَّوَامِ لَاَیَنْقَطِعُوْنَ وَلاَ یَمْلُوْنَ وَلاَ یَفْتَرُوْنَ وَقَدْ اَجْمَعَ الْحُکَمَآئُ عَلیٰٓ اَنْ مَّنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِہٖ فِذِکْرُ الْمَحْبُوْبِ ھُوَالْغَالِبُ عَلیٰ قُلُوْبِ الْمُحِبِّیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ بِہٖ بَدَلاً وَّلاَ یَبْغُوْنَ عَنْہُ حَوْلاً وَلَوْ قَطَعُوْا عَنْ ذِکْرِ مَحْبُوْبِھِمْ لَفَسَدَ عَیْشُھُمْ وَمَا تَلَذَّ ذُالْمُتَلَذِّذُوْنَ بِشْئٍی اِلَّا مِنْ ذِکْرِ الْمَحْبُوْبِ (زرقانی علی المواہب ص314 ج6)
محبوں کی علامت یہ ہے کہ وہ محبوب کا ذکر کثرت سے دائمی طور پر اس طرح کرتے ہیں کہ نہ تو کبھی ذکر سے جدا ہوتے ہیں اور نہ کبھی چھوڑتے اور نہ کبھی کوتاہی کرتے ہیں اور حکماء کا اس پر اجماع ہے کہ محب محبوب کا ذکر کثرت سے کرتا ہے اور محبوب کا ذکر محبوں کے دلوں پر ایسا غالب ہوتا ہے کہ نہ تو وہ اس کا بدل چاہتے ہیں اور نہ ہی اس سے پھرنا۔ اور اگر ان کے محبوب کا ذکر ان سے جدا ہوجائے تو ان کی زندگی تباہ ہوجائے اور وہ کسی چیز میں لذت و حلاوت نہیں پاتے جو ذکر محبوب میں پاتے ہیں۔
وَمِنْ عَلاَمَاتِ مَحَبَّتِہٖ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ تَعْظِیْمُہٗ عِنْدَ ذِکْرِہٖ وَاِظْہَارُ الْخُشُوْعِ وَالْخُضُوْعِ وَالاِنْکِسَارِ مَعَ سِمَاعِ اسْمِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم (زرقانی علی المواہب ص315 ج6)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ آپ کے ذکر شریف کے وقت آپ کی تعظیم کی جائے اور خصوصاً آپ کے نام مبارک کے سننے کے وقت خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری کا اظہار کیا جائے۔
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وَمِنْ عِلاَمَاتِ مَحَبَّتِہ صلی اللہ علیہ وسلم کَثْرَۃُ الشَّوْقِ اِلیٰ لِقَآئِہٖ اِذْ کُلُّ حَبِیْبٍ یُّحِبُّ لِقَآئَ حَبِیْبِہٖ۔ (زرقانی علی المواہب ص317 ج6)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوںمیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی زیارت اقدس کا بہت زیادہ شوق ہو کیونکہ ہر محب اپنے محبوب کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے۔
وَمِنْ عِلاَمَاتِ مَحَبَّتِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یَّلْتَذَّ مُحِبُّہٗ بِذِکْرِہِ الشَّرِیْفِ وَیَطْرَبُ عِنْدَ سِمَاعِ اسْمِہِ الْمُنِیْفِ۔ (زرقانی علی المواہب ص322 ج6)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوںمیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کا محب آپ کے ذکر شریف سے روحانی لذت و سرور پائے اور آپ کے نام مبارک کے سننے کے وقت خوش ہو۔
اب ان لوگوں کی حالت کا اندزہ کیجئے جو آپ کے ذکر پاک، فضائل و کمالات صورت و سیرت کے بیان سے مسرور و شاداں نہیں، بلکہ دل تنگ ہوتے ہیں، کیا ان کا آپ کے ذکر پاک سے دل تنگ ہونا ایمان و محبت سے محروم ہونے کی کھلی ہوئی دلیل نہیں؟
آپ کا ذکر ذکرخدا ہے
حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جَعَلْتُ تَمَامَ الْاِیْمَانِ بِذِکْرِکَ مَعِیَ وَقَالَ اَیْضًا جَعَلْتُکَ ذِکْرًا مِّنْ ذِکْرِیْ فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرَنِیْ۔ (شفا شریف ص12 ج1)
میں نے ایمان کا مکمل ہونا اس بات پر موقوف کردیا کہ (اے محبوب) میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہو اور میں نے تمہارے ذکر کو اپنا ذکر ٹھہرا دیا ہے، پس جس نے تمہارا ذکر کیا، اس نے میرا ذکر کیا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقُوْلُ أَتَدْرِیْ کَیْفَ رَفْعَتُ ذِکْرَکَ قُلْتُ اللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِیَ۔
(زرقانی علی المواہب و درمنشور ص264 ج6)
میرے پاس جبریل آئے اور کہا بے شک آپ کا رب فرماتا ہے کہ (اے حبیب) تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذکر کیسا بلند کیا ہے۔ میں نے کہا اللہ خوب جانتا ہے۔ فرمایا کہ جب میرا ذکر ہوگا تو میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہوگا۔
چنانچہ قرآن پاک میں اللہ جل شانہ کے ذکر کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے دیکھئے۔
لِتُؤُمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (فتح:9) اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (حجرات:15) وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:62) اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:62) اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (مائدہ:92) اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (انفال:20) وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (نساء:13) وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (توبہ:71) وَاِنْ یُّطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حجرات:14) اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ (انفال:24) وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (نسائ:14) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:57) بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:ا) وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:3) مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلاَ رَسُوْلِہٖ(توبہ:16) اِنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ(توبہ:63) اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (مجادلہ:5) اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (مائدہ:33) وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:29) قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (انفال:13) فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (النساء) وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (انفال:13) ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حشر:4) مَااٰتَاھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:59) سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:59) اِنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:54) اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:74) فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ (انفال:41) اَلَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (توبہ:90) وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:94) وَاِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:48) اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَسُوْلُہٗ (نور:50) وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:31) اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:29) وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (احزاب:31) اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:36) لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (حجرات:12) وَیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حشر:8) وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ (منافقون:8) مَاوَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:22) وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:36) اَطَعْنَااللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ (احزاب:66)
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
اَقْبَلَ اٰدَمُ عَلیٰٓ ابْنِہٖ شِیْثَ فَقَالَ اَیْ بُنَیَّ اَنْتَ خَلِیْفَتِیْ مِنْم بَعْدِیْ فَخُذْھَا بِعَمَارَۃِ التَّقْوٰی وَالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی فَکُلَّمَا ذَکَرْتَ اللّٰہَ فَاذْکُرْ اِلیٰ جَنْبِہٖ اسْمَ مُحَمَّدٍ فَاِنِّیْ رَاَیْتُ اسْمَہٗ مَکْتُوْبًا عَلیٰ سَاقِ الْعَرْشِ وَاَنَا بَیْنَ الرُّوْحِ وَالطِّیْنِ ثُمَّ اِنِّیْ طُفْتُ السَّمٰوٰتِ فَلَمْ اَرَفِی السَّمٰوٰتِ مَوْضِعًا اِلاَّ رَاَیْتُ اسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلَیْہِ وَاَنَّ رَبِّی اَسْکَنَنِی الْجَنَّۃَ فَلَمْ اَرَفِی الْجَنَّۃِ قَصْرًا وَّلاَ غُرْفَۃً اِلاَّ وَجَدْتُّ اِسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلَیْہِ وَلَقَدْ رَاَیْتُ اسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلیٰ نُحُوْرِ الْحُوْرِ الْعِیْنِ وَعَلیٰ وَرْقِ قَصْبِ لِجَامِ الْجَنَّۃِ وَعَلیٰ وَرَقِ شَجَرَۃِ طُوْبیٰ وَعَلیٰ وَرَقِ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی وَعَلیٰٓ اَطْرَافِ الْحُجُبِ وَبَیْنَ اَعْیُنِ الْمَلٰٓئِکَۃِ فَاَکْثِرْ ذِکْرَہٗ فَاِنَّ الْمَلَآئِکَۃَ مِنْ قَبْلٍ تَذْکُرُ فِیْ کُلِّ سَاعَاتِھَا (زرقانی علی المواہب)
آدم علیہ السلام اپنے بیٹے شیث علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے میرے بیٹے تم میرے بعد میرے خلیفہ ہو۔ پس خلافت کو تقوی کے تاج اور محکم یقین کے ساتھ پکڑے رہو اور جب تم اللہ کا ذکر کرو تو اس کے متصل نام محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکر کرو کیونکہ میں نے ان کا نام عرش کے ستونوں پر لکھا ہوا دیکھا ہے جب کہ میں روح و مٹی کے درمیان تھا۔ پھر میں نے تمام آسمانوں پر نظر کی تو مجھے کوئی جگہ ایسی نظر نہیں آئی جہاں نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا نہ ہو۔ اور میرے رب نے مجھے جنت میں رکھا تو میں نے جنت کے ہر محل اور ہر بالا خانے اور برآمدے پر اور تمام حوروں کے سینوں پر اور جنت کے تمام درختوں کے پتوں پر اور شجر طوبیٰ اور سدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر اور پردوں کے کناروں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا دیکھا ہے، لہٰذا تو کثرت سے ان کا ذکر کیا کر۔ کیونکہ فرشتے ہر وقت ان کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔
آپ کی تعظیم فرض عین ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر فرض عین ہے بلکہ تمام فرائض کی اصل ہے اور آپ کی ادنیٰ توہین یا تکذیب کفر ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاصِیْلاً (الفتح: 9)
(اے نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا شاہد و مبشر و نذیر بنا کر تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔
اس آیۂ کریمہ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ اوّل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ دوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کرنا۔ سوم تسبیح یعنی اللہ کی عبادت کرنا۔ ایمان کو پہلے اس لئے رکھا کہ بغیر ایمان، تعظیم کچھ مفید نہیں اور تعظیم حبیب کو عبادت پر مقدم اس لئے فرمایا کہ بغیر تعظیم کے عمر بھر کی عبادت بے کار و مردود ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیّٓ اُنْزِلَ مَعَہٗ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الاعراف:157)
پس جو اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیۂ کریمہ میں بھی وہی ترتیب جمیل ہے۔ اوّل ان پر ایمان، دوم ان کی تعظیم اور سوم ان کے دین کی نصرت اور قرآن کریم کی اتباع، ثابت ہوا کہ ایک مومن پر ایمان لاتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر فرض ہوجاتی ہے۔ اور اگر اس تعظیم میں فرق آجائے تو سارے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ فرمایا:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لاَتَشْعُرُوْنَ o اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ لِلتَّقْوٰی لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ o (الحجرات:2)
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز سے اونچی نہ کرو اور ان کی حضوری میں بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ بیشک وہ جو اپنی آوازیں رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور پست کرتے ہیں وہ ہیں جن کا دل اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لئے رکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
اس آیۂ کریمہ میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام اور اجلال و اکرام تعلیم فرمایا گیا ہے کہ ادب و احترام کا پورا لحاظ رکھیں ورنہ نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور پھر جب صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر پورا پورا عمل کیا، اور خدمت اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی اور ان کو عظیم الشان مژدے سنائے اور جنہوں نے ترک ادب کیا ان کو بے عقل بتایا چنانچہ فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْقِلُوْنَo وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْاحَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (الحجرات:5)
بے شک وہ جو (اے حبیب) تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جب کہ وہ دوپہر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ اس وقت آرام فرمارہے تھے، انہوں نے آپ کا نام لے کر پکارنا شروع کیا، آپ باہر تشریف لائے۔ اس پر فرمایا گیا کہ اس طرح آپ کو پکارنا ادب کے خلاف اور جہالت و بے عقلی ہے بلکہ بہتر یہ تھا کہ یہ لوگ اتنا صبر کرتے کہ آپ ان کے پاس خود تشریف لاتے۔ فرمایا:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلیْمٌ (البقرہ:104)
اے ایمان والوں (ہمارے حبیب کو) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور سن لو! کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کرتے رَاعِنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی حضور ہمارے حال کی رعایت فرمائیے اور کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہی لفظ ''رَاعِنَا'' یہود کی زبان میں گستاخی و بے ادبی کا لفظ تھا۔ انہوں نے یہی لفظ گستاخی و بے ادبی کی نیت سے بولنا شروع کردیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اے ایمان والو ایسا کلمہ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مت کہو جس سے دشمن کو گستاخی و بدگوئی کا موقع مل جائے۔ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ؎
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا


--
***Asif Rao***
**Sargodha**

 
Copyright © 2010 Shan-e-Mustafa. All rights reserved.