7 Sept 2014

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ

باب: اس بارے میں کہ غسل سے پہلے وضو کر لینا چاہیے
(1) CHAPTER. The performance of ablution before taking a bath.
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مالک نے ہشام سے خبر دی، وہ اپنے والد سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اسی طرح وضو کرتے جیسا نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔ پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے۔
Narrated `Aisha: Whenever the Prophet took a bath after Janaba he started by washing his hands and then performed ablution like that for the prayer. After that he would put his fingers in water and move the roots of his hair with them, and then pour three handfuls of water over his head and then pour water all over his body.

USC-MSA web (English): Volume 1, Book 5, Number 248

6 Sept 2014

اگر جنبی ہو جاؤ تو خوب اچھی طرح پاکی حاصل کرو

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ سورة المائدة آية 6 ، وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلا جُنُبًا إِلا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا سورة النساء آية 43 .
اگر جنبی ہو جاؤ تو خوب اچھی طرح پاکی حاصل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا کوئی تم میں پاخانہ سے آئے یا تم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور ہاتھ پر اسے مل لو ۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور پوری کرے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم اس کا شکر کرو ۔ ( سورۃ المائدہ : 6 ) اور اللہ کا دوسرا فرمان ہے کہ ” اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو ۔ یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر حالت سفر میں یہاں تک کہ غسل کر لو اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں یا آئے تم میں سے کوئی قضائے+حاجت سے یا تم پاس گئے ہو عورتوں کے ، پھر نہ پاؤ تم پانی تو ارادہ کرو پاک مٹی کا ، پس ملو اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو ، بیشک اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے “ ۔ ( سورۃ النساء : 43 )
The Statement of Allah: If you are in a state of Janaba (i.e., after a sexual discharge), purify yourselves (bathe your whole body). But if you are ill or on a journey or any of you comes from answering the call of nature, or you have had been in contact with women (i.e. sexual intercourse) and you find no water then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands. Allah does not want to place you in difficulty, but He wants to purify you and to complete His Favour to you, that you may be thankful.” (V.5:6) And also the Statement of Allah: “O you who believe! Approach not As-Salat (the prayer) when you are in a drunken state until you know (the meaning) of what you utter, nor when you are in a state of Janaba (i.e., in a state of sexual impurity and not have yet taken a bath) except when travelling on the road (without enough water, or just passing through a mosque), till you wash your whole body. And if you are ill or on a journey or one of you comes after answering the call of nature, or you have been in contact with women (by sexual relations) and you find no water then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands (Tayammum). Truly Allah is Ever Oft-Pardoning, Oft-Forgiving.” (V.4:43).


12 Feb 2014

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اپنے بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھٹی دلواتے

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اپنے بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھٹی دلواتے
مستند ترین کتبِ احادیث میں یہ مثالیں بھی بکثرت ملتی ہیں کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسے گھٹّی دلوانے اور اس کا نام رکھوانے کے لیے بارگاہِ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نومولود کے منہ میں اپنا مبارک لعابِ دہن ڈالتے اور یوں اس بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز پہنچتی وہ دوجہانوں کے والی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک لعابِ دہن ہوتا۔
2۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ عنھما بیان کرتی ہیں :
أنها حَملتْ بعبد اﷲ بن الزبير، قالتْ : فخرجتُ و أنا مُتِمٌّ، فأتيتُ المدينةَ فنزلتُ بقُبَاء، فولدتهُ بقُباء، ثم أتيتُ به النبی صلی الله عليه وآله وسلم فوضَعتُه فی حِجرِه، ثم دعا بتمرة، فَمَضَغَهَا، ثم تَفَل فی فيه، فکان أوّلَ شئ دخل جوفَه ريقُ رسولِ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، ثم حَنَّکَه بتمرة، ثم دعاله و بَرَّکَ عليه.
بخاری، الصحيح، 3 : 1422، کتاب فضائل الصحابة، رقم : 3697
بخاری، الصحيح، 5 : 2081، کتاب العقيقة، رقم : 5152
مسلم، الصحيح، 3 : 1691، کتاب الآداب، رقم : 2146
احمد بن حنبل، المسند، 6 : 347، رقم : 26983
حاکم، المستدرک، 3 : 632، رقم : 6330
بیهقی، السنن الکبری، 6 : 204، رقم : 11927
ابن ابی شيبه، المصنف، 5 : 37، رقم : 23483
ابن ابی شيبه، المصنف، 7 : 346، رقم : 36622
شیبانی، الآحاد والمثانی، 1 : 413، 412، رقم : 573 - 574 - 575
بخاری، التاريخ الکبير، 5 : 6، رقم : 9
ابن جوزی، صفوة الصفوة، 1 : 764
ابن عبدالبر، الاستيعاب، 3 : 906، رقم : 1535
ابن حبان، الثقات، 3 : 212، رقم : 707
ابونعيم، حلية الأولياء : 1 : 333 (ہشام بن عروہ اور فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے)
ابن حبان، مشاهير علماء الأمصار، 1 : 30، رقم : 154
’’کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ  کے ساتھ حاملہ تھیں انہوں نے کہا : میں مکہ سے (ہجرت کے لئے) اس حالت میں نکلی کہ میرے وضع حمل کے دن پورے تھے میں مدینہ آئی اور قبا میں اتری اور وہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ  پیدا ہوئے پھر میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود مبارک میں ڈال دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوائی اور اسے چبایا۔ پھر بچہ کے منہ میں لعابِ دہن ڈال دیا اور جو چیز سب سے پہلے اس کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب مبارک تھا۔ پھر اس کے تالو میں کھجور لگا دی، اس کے حق میں دعا کی اور اس پر مبارکباد دی۔‘‘
4۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
ذهبتُ بِعبدِ اﷲ بن أبی طلحة الأنصاری إلی رسولِ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم حين وُلِدَ، و رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في عَبَاءَ ةٍ يَهْنأُ بَعيرًا له فقال : هل معکَ تمرٌ؟ فقلتُ : نعم، فناولتهُ تَمَراتٍ، فألقاهُنَّ في فيه فَلاکَهُنَّ، ثم فَغَرَفا الصَّبِیَّ فمَجَّه في فيه، فجعل الصبي يَتَلَمَّظُهُ، فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : حُبُّ الأنصارِ التمر. و سماه عبدَ اﷲِ.
مسلم، الصحيح، 3 : 1689، کتاب الأداب : رقم : 2144
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 175، 212، 287، رقم : 12812، 13233، 14097
بيهقي، السنن الکبریٰ، 9 : 305

میلاد نامۂ آدم علیہ السلام


۔ میلاد نامۂ آدم علیہ السلام
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنے محبوب اور برگزیدہ بندوں میں سے سب سے پہلے ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً.
’’اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔‘‘

اﷲ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام کے میلاد کا ذکر ان کی تخلیق سے بھی پہلے فرما دیا، جس کا ذکر مذکورہ بالا آیتِ کریمہ میں ہوا ہے۔ پھر جب خالقِ کائنات نے آدم علیہ السلام کے پیکرِ بشری کی تخلیق فرمائی اور تمام فرشتوں کو اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا تو ابلیس نے نافرمانی کی اور راندۂ درگاہ ہوا۔ تخلیقِ آدم علیہ السلام کی اس پُرکیف داستان کا ذکر قرآن مجید نے تفصیلاً کر دیا ہے :

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَO فَسَجَدَ الْمَلآئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَO إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَO

’’اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایاکہ میں سن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوںo پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لاچکوں اور اس پیکر (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑناo پس (اس پیکرِ بشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی) سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیاo سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیاo‘‘

الحجر، 15 : 28 - 31


قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے، صرف پیدائش کا ہی نہیں بلکہ ان کی حیاتِ طیبہ کے کئی پہلوؤں کا ذکر موجود ہے، جیسے جنت میں ان کے رہن سہن، تخلیقِ آدم پر فرشتوں کے خیالات، شیطان مردود کا اعتراض اور پیکرِ آدم کو سجدہ نہ کرنے کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ انسانی تخلیق سے متعلق جتنی آیات ہیں ان کا اوّلین مصداق سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جن کے احوال کو تفصیل سے قرآنِ مجید کی زینت بنایا گیا ہے۔ یہی ان کا ’’میلاد نامہ‘‘ ہے۔

6 Feb 2014

جس نے دیکھ لیا وہ نبی کی بارگاہ میں ہاتھ باندھ کر مسجد نبوی میں یوں کہتا ہے

click here to watch video



جس نے دیکھا نہیں وہ بکتا پھرتا ہے تیرے جیسا تھا  میرے جیسااُسکے جیسا  تھا
اور جس نے دیکھ لیا وہ نبی کی بارگاہ میں ہاتھ باندھ کر مسجد نبوی میں یوں  کہتا ہے  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   آپ سے ذیادہ حسن   جمال والا میرے انکھ نے کسی کو دیکھا ہی نہیں۔۔۔آپ  سے ذیادہ کمال والا کیسی عورت نے جنا  ہی  نہیں
Dewan e Hassan Biin Sabit Pag. 66 

حضرت حسان بن ثابت شاعر رسول صلی اللہ علیہ وسلم

4 Feb 2014

حضرت امیر حمزا رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا


میلادِ انبیاء علیہم السلام

میلادِ انبیاء علیہم السلام کی اہمیت

ولادت ہر انسان کے لیے خوشی و مسرت کا باعث ہوتی ہے۔ اس حوالے سے یومِ پیدائش کی ایک خاص اہمیت نظر آتی ہے، اور یہ اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ان دنوں کی نسبت انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف ہو۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی ولادت فی نفسہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ ہے۔ ہر نبی کی نعمتِ ولادت کے واسطہ سے اس کی اُمت کو باقی ساری نعمتیں نصیب ہوئیں۔ ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعثت و نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمتِ ہدایتِ آسمانی اور وحی ربانی کی نعمتِ نزولِ قرآن اور ماہ رمضان کی نعمت، جمعۃالمبارک اور عیدین کی نعمت، شرف و فضیلت اور سنت و سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت، الغرض جتنی بھی نعمتیں ایک تسلسل کے ساتھ عطا ہوئیں، ان ساری نعمتوں کا اصل موجب اور مصدر ربیع الاوّل کی وہ پرنور، پرمسرت اور دل نشین و بہار آفریں سحر ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی اور وہ بابرکت دن ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دنیائے آب و گل میں تشریف آوری ہوئی۔ لہٰذا حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت پر خوش ہونا اور جشن منانا ایمان کی علامت اور اپنے آقا نبئ محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قلبی تعلق کا آئینہ دار ہے۔

قرآن مجید نے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کے ایام ولادت کا تذکرہ فرما کر اس دن کی اہمیت و فضیلت اور برکت کو واضح کیا ہے :

1۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَسَلاَمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّاO

’’اور یحییٰ پر سلام ہو، ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گےo‘‘

مريم، 19 : 15

2۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کلام کی نسبت کرکے قرآن مجید فرماتا ہے :

وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّاO

’’اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گاo‘‘

مريم، 19 : 33

3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر مبارک قسم کے ساتھ بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا :

لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِO وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِO وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَO

’’میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرّم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo (اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئیo‘‘

البلد، 90 : 1 - 3

اگر ولادت کا دن قرآن و سنت اور شریعت کے نقطہ نظر سے خاص اہمیت کا حامل نہ ہوتا تو اس دن پر بطور خاص سلام بھیجنا اور قسم کھانے کا بیان کیا معنی رکھتا ہے؟ لہٰذا اسی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کا ذکر فرمایا ہے۔ بطور حوالہ ذیل میں چند جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے میلاد کا تذکرہ کیا جاتا ہے :


Urdu Dictionary- Software



Download





22 Jan 2014

ولادت مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم

ولادت مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم

نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت تاریخ انسان کا سب سے بڑا اہم واقعہ ہے جسے پہلی امتوں کے ہر دور میں بھی سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل رہی، خواص و عوام اپنی دینی محفلوں میں بڑی دلچسپی اور محبت سے اس کا ذکر کرتے تھے اور ایمان کی حرارت سے اپنے دلوں کو گرماتے تھے۔
وجود نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے مراحل ثلاثہ
1۔ خلقت نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے پیدائش کا سب سے پہلے مرحلا یہ ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو عالم عدم سے عالم وجود میں منتقل فرمایا۔
2۔ ظہور نورانیت محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم:
حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ نور مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم پشت در پشت پاکیزہ صلبوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ حضرت عبداللہ کی پیشانی سے چمکا اور حضرت بیبی آمنہ کی گود میں اتر آیا۔
3۔ ولادت محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: آپ کا حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے عالم دنیا میں تشریف لے آنا۔
آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف
آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف بن قصی بن کلاب بن مسرۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن عدنان اور عدنان کا نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ ( نبی رحمت صفحہ 102)
آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ: حضرت آمنہ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرہ۔ (تاریخ طبری جلد اول)
حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت
تاریخ ولادت: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت پیر کے دن ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو ہوئی۔ (ضیاء النبی جلد دوئم)
بمطابق 20 اگست 570ع نوشیرواں کے عہد حکومت کا چالیسواں سال تھا اور واقعہ اصحاب فیل کے 50 روز گذرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ (ضیاء النبی)
قبل ولادت کے واقعات انبیاء کرام کے دور میں
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام جنت سے زمین پر اترے تو وہ ہندوستان میں (جزیرہ سراندیپ) میں اترے تھے، تو اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کو اکتاہٹ محسوس ہوئی۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے آذان دی اللہ اکبر دو مرتبہ، اشہد ان لاالٰہ الاللہ دومرتبہ، دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو حضرت آدم علیہ السلام نے استفسارکیا کہ یہ حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ آپ کی اولاد میں سب سے آخری نبی ہیں۔ (خصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ 27)
2۔ حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت سے بھی آگاہ فرمادیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا دیا تھا کہ جب فلاں ستارہ اپنی جگہ سے حرکت کرے گا تو وہ ظہور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا وقت ہوگا۔ یہ آگاہی علماء بنی اسرائیل نسل در نسل حاصل کرتے رہے تھے۔ (صفوۃ الصفوۃ ابن جوزی)
3۔ حضرت دانیال علیہ السلام کے زمانے میں بخت نصر مشہور بادشاہ تھا۔ ایک مرتبہ بخت نصر نے خواب دیکھا مگر بیدار ہوتے ہی بھول گیا، صرف اتنا یاد رہا کہ خواب بڑا حیرت انگیز تھا۔ پھر ارکان سلطنت کو بلاکر شاہی حکم جاری کیا کہ بتاؤ میں نے کیا خواب دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم کیا کہہ سکتے ہیں، بادشاہ نے کہا اگر تین دن کے اندر خواب تعبیر کے ساتھ پیش نہیں کیا تو تمہاری گردنیں اڑادی جائیں گی۔ جب یہ خبر حضرت دانیال علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے اپنے ایک ساتھی کو فرمایا کہ جاکر بادشاہ کو بتاؤ میں اس کے خواب کی تعبیر بیان کروں گا۔ آپ کے ساتھی نے عرض کیا کہ حضرت بادشاہی مزاج بہت نازک ہوتے ہیں، اگر آپ کا جواب ان کی طبعیت کے مطابق نہ ہوا تو پھر آپ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آپ نے فرمایا ”لاتخف علی فان لی ربا یخبرنی بماشئت من حاجتی“ تو کوئی اندیشہ نہ کر میرا رب مجھے ضرورت پڑتے وقت حسب ضرورت ہر چیز کا علم دے دیتا ہے۔ جب پیغام بادشاہ کو ملا تو اسی وقت حضرت دانیال علیہ السلام کو بادشاہ نے اپنی دربار میں بلایا۔ بخت نصر بادشاہ اپنے سر پر تاج شاہی رکھے تخت پر پورے جاہ و جلال کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، بادشاہ کے دربار میں یہ بات لازم تھی کہ ہر آنے والا بادشاہ کو سجدہ کرے لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا۔ یہ بات بادشاہ کو سخت ناگوار گذری لیکن لوگوں کے سامنے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام کو تنہائی میں بلایا۔ بادشاہ نے کہا آپ نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ حضرت دانیال علیہ السلام نے جواب دیاکہ ”ان لی ربا اتانی ہٰذ العلم الذی سمعت بہ علی ان لااسجد لغیرہ خشیت ان اسجد لک فینسخ علی ہٰذا العلم ثم اسیر فی یدک امیا فلا تنتفع بی فتقتلیٰ فرأیت ترک السجدۃ اہون من قتلیٰ“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ”یہ علم عطا کرنے والا میرا ایک رب ہے، اس کا حکم ہے میں اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کروں، مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے تجھے سجدہ کردیا تو وہ میرا علم چھین لے گا پھر میں تیرے سامنے بے علم رہ جاؤں گا اور تو مجھے قتل کردے گا، اس لیے میں نے قتل ہونے کے بجائے سجدہ نہ کرنے کو آسان سمجھا“ یہ جواب سن کر بخت نصر خوش ہوگیا اور بولا اپنے مالک کے وفادار اور اطاعت گذار لوگ مجھے پسند ہیں، اپنے رب کو راضی رکھنے کے لیے تونے جو کچھ کیا میں اس سے بہت خوش ہوں۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام نے پہلے خواب بتایا پھر اس کی تعبیر کی۔ آپ نے بتایا کہ خواب میں تونے ایک بہت بڑا بت دیکھا ہے جس کے پاؤں زمین پر تھے مگر سر آسماں پر تھا، اس کا بالائی حصہ سونے کا تھا، اس کا پیٹ چاندی کا، نچلا حصہ تانبے کا تھا اور پاؤں مٹی کے بنے ہوئے تھے اچانک آسمان سے ایک پتھر گرا جس نے بت کے تمام حصوں کو پاش پاش کردیا۔ پھر وہ پتھر بڑھنے لگا حتیٰ کہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ گیا اور ہر طرف پھیل گیا کہ اور چیزیں آنا بند ہوگئیں۔ تعبیر: بت سے مراد وہ مروجہ مذاہب و رسوم اور بت پرستی کے طور طریقے ہیں، پتھر سے مراد اللہ کا دین ہے جو باطل ادیان کو مٹاکر رکھ دیگا اور خود ہر طرف پھیل جائے گا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ایک نبی امی کو مبعوث فرمائے گا، وہ تمام جھوٹے ادیان و امم کو ختم کردے گا، اس نبی کے ذریعے حق کو خالص کردے گا باطل کو مٹادیگا، گمراہوں کو ہدایت اور ان پڑھوں کو علم عطا کرے گا، اس کی بدولت ضعیفوں کو قوت اور ذلیلوں کوعزت بخشے گا اور کمزور اور ناتواں لوگوں کی مدد فرمائے گا۔ (دلائل النبوۃ)
حضرت عبداللہ والد رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے دیت
تاریخ طبری میں ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبدالمطلب کا زم زم کے کھودنے کے وقت قریش سے جھگڑا ہوا اور ان کو دبنا پڑا تو اس وقت حضرت عبدالمطلب نے نذر مانی کہ اگر میرے دس بیٹے پیدا ہوکر بالغ ہوئے اور میری حمایت کرنے کی عمر تک پہنچ گئے تو ایک بیٹے کو ذبح کروں گا۔ جب حضرت عبدالمطلب کو دس بیٹے پیدا ہوئے تو آپ نے اپنے بیٹوں کو اپنی نذر بتائی پھر آپ نے قرعہ اندازی کی تو حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ اس وقت آپ نے چھری اٹھائی تو قریش کے لوگوں نے کہا آپ اس کو ذبح نہ کریں۔ پھر ایک عورت سے پوچھا اس نے کہا آپ کے ہاں جان کی دیت کیا ہے؟ حضرت عبدالمطلب نے کہا 10 اونٹ، پھر اس عورت نے کہا 10 اونٹ اور حضرت عبداللہ کے نام کی قرعہ اندازی کرو۔ پھر اس میں 10 بڑھاؤ پھر اسی طرح جب اونٹوں کے نام نکلیں تو پھر اسی تعداد میں اونٹ ذبح کرنا۔ پھر 100 اونٹ پر قرعہ اندازی میں اونٹوں کا نام نکلا، پھر حضرت عبدالمطلب نے 100 اونٹ ذبح کیے۔
حضرت عبداللہ کے پیشانی میں ام قتال بنت نوفل نے نور محمد دیکھا
حضرت عبدالمطلب 100 اونٹ قربانی کرنے کے بعد حضرت عبداللہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کعبہ سے واپس جانے لگے تو راستے میں بنی اسد کی ایک عورت ام قتال بنت نوفل سے گذر ہوا تو اس عورت نے حضرت عبداللہ کی پیشانی کو دیکھ کر کہا تم کہاں جاتے ہو۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں اپنے والد کے ساتھ جاتا ہوں۔ پھر عورت نے کہا جس قدر تمہارے فدیہ میں اونٹ ذبح کیے گئے ہیں میں اسقدر تمہیں اونٹ دیتی ہوں تم اس وقت مجھ سے شادی کرو۔ حضرت عبداللہ نے کہا میں اس وقت اپنے باپ کے ساتھ ہوں ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
حضرت عبداللہ کا نکاح
حضرت عبدالمطلب کعبہ سے واپسی کے وقت حضرت عبداللہ کو وہب بن عبدمناف بن زہرہ کے پاس لے آئے اور حضرت آمنہ بنت وہب سے نکاح کرایا۔ جب شادی ہوگئی تو حضرت عبداللہ نے حضرت آمنہ سے شادی کے تین دن گذرنے کے بعد پھر پہلی عورت ام قتال بنت نوفل کے پاس آئے۔ پھر اس عورت نے حضرت عبداللہ کی پیشانی کو دیکھ کر کہا کیا تم نے مجھ سے ملنے کے بعد کسی عورت سے شادی کی ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے آمنہ بنت وہب سے شادی کی ہے۔ اس وقت ام قتال بنت نوفل نے کہا اے عبداللہ میں نے آپ کی پیشانی میں ایک نور دیکھا تھا، میں نے اس لیے آپ کو کہا تھا کہ مجھ سے شادی کرو۔ لیکن اب وہ نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم بیبی آمنہ کے نصیب میں آگیا اب میں تجھ سے شادی نہیں کروں گی۔
نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبدالمطلب کی پیشانی میں چمکنا
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ان نور رسول اللہلما صار الیٰ عبدالمطلب وادرک نام یوما فی الحجر فانتبہ مکحولا مدہونا قد کسی حلۃ النہاء والجمال فبقی متحیرا لایدری من فعل بہ ذالک فاخذہ ابوہ بیدہ ثم انطلق بہ الیٰ کہنۃ قریش فاخبرہم بذالک فقالو لہ اعلم ان الہ السموات قداذن لہٰذا الغلام ان یتزوج فزوجہ قیلۃ فولدت لہ الحارث ثم ماتت فزوجہ بعدہا ہند بنت عمرو۔“ (مواہب اللدنیہ) جب حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک حضرت عبدالمطلب میں منتقل ہوا اور وہ جوان ہوگئے تو ایک دن حطیم میں سوکر اٹھے تو آنکھ میں سرمہ اور بالوں میں تیل لگاہوا تھا اور حسن و جمال میں بڑا اضافہ ہوچکا تھا انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ ان کے والد انہیں قریش کے کاہنوں کے پاس لے گئے اور سارا ماجرا بیان کیا، انہوں نے سن کر کہا کہ اللہ نے اس جوان کی شادی کا حکم دیا ہے چنانچہ اس نے پہلا نکاح ”قیلہ“ سے کیا جس سے ایک بیٹا حارث پیدا ہوا۔ پھر ان کی وفات کے بعد ہند بنت عمرو (فاطمہ) سے نکاح کیا تو ان کے نصیب میں نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم آیا اور ان کے بطن سے حضرت عبداللہ پیدا ہوئے۔ روایت میں اس طرح آتا ہے کہ ”کان عبدالمطلب یفوح من رائحۃ المسک الأخذ ونور صلّی اللہ علیہ وسلم یعنی فی عزتہ“ حضرت عبدالمطلب کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی اور رسول اللہ کا نور ان کی پیشانی میں چمکتا تھا (مواہب اللدنیہ)
نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے باران رحمت کا نزول
کانت قریش اذااصابہا قحط تاخذ بیدہ عبدالمطلب فتخرج بہ الیٰ جبل شبیر فیتقربون الیٰ تعالیٰ ویسألونہ ان یستقیم الغیث فکان یغیثہم ویسقیہم ببرکۃ نور محمدصلّی اللہ علیہ وسلم غیثا عظیما“ (مواہب اللدنیہ)
جب قریش میں قحط ہوتا تو وہ عبدالمطلب کا ہاتھ پکڑ کر جبل شبیر پر لے جاتے اور ان کے واسطے اور وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے اور بارش کی دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ اس نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے انہیں باران رحمت سے نوازتا تھا۔
نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ آمنہ کے بطن میں منتقلی
جب اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ان کے والدہ کے بطن سے تخلیق کا ارادہ فرمایا تو رجب مہینہ جمع کی رات تھی اللہ تعالیٰ نے اس رات جنتوں کے پہریدار خازن کو حکم دیا جنت الفردوس کھول دے اور ایک منادی کرنے والا آسمانوں اور زمین میں ندادے کہ آگاہ ہوجاؤ کہ وہ نور جو ایک محفوظ اور مخفی خزانہ تھا جس نبی ہادی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے متولد ہونا تھا وہ آج کی رات اپنی والدہ کے بطن میں منتقل ہوگیا، اس کے جسم عنصری کی تکمیل ہوگی اور وہ لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بن کر دنیا میں تشریف لائے گا۔ (مواہب اللدنیہ)
حضرت ابوہریرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ آمنہ بنت وہب نے اپنے خواب میں دیکھا کہ ان سے کہا گیا آپ تمام عالم کے سردار اور خیرالبرید سے حاملہ ہیں، تو جب ان کی ولادت ہو تو ان کا نام احمد اور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم رکھنا اور اس دوران اپنے حال کو چھپائے رکھنا۔ (دلائل النبوۃ)
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا کے حاملہ ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ اس رات قریش کی تمام سواریاں بول پڑیں اور یہ کہا کہ ”رب کعبہ کی قسم حضرت آمنہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاملہ ہوئیں“۔
مخدومہ کائنات حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس نور نبوت کی امین قرار پانے کے بعد عرصہ دراز تک مجھے احساس تک نہ ہوا کہ میرے جسم میں ایک نیا وجود پرورش پارہا ہے اور میں کچھ عرصہ بعد ماں بننے والی ہوں۔ خواتین جن تخیلات سے دوچار ہوتی ہیں میں ان سے بالکل محفوظ رہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت بیبی آمنہ نے فرمایا ”لقد علمت بہ فما وجدت لہ مشقۃ حتیٰ وضعۃ“۔ (الطبقات الکبریٰ)
آپ فرماتی ہیں کہ ”میں باردار ہوگئی تھی لیکن اول سے آخر تک میں نے کوئی دقت اور مشقت محسوس نہ کی۔“ حضرت عبداللہ بن عباس سے یہ بھی روایت ہے کہ ”وبقی فی بطن أمۃ تسعۃ کمالا تشکو وجعا ولا ریحاولا مغصا ولامایعرض للنساء ذوات الحمل۔“ (خصائص الکبریٰ) اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم والدہ ماجدہ کے بطن میں نو ماہ تک جلوہ گر رہے۔ اس دوران انہوں نے کسی قسم کی تکلیف، قے، متلی، بے چینی اور جو عوارض عورتوں کو ان ایام میں پیش آتے ہیں ان کی شکایت کا اظہار نہیں کیا۔
آمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی آسمانی بشارت
حضرت بیبی آمنہ کو دوران حمل جو لطافت و سہولت تھی اس عظیم امانت کا علم ہی نورانی بشارات کے ذریعے ہوا، پہلے اس کا پتہ نہ چل سکا۔ حضرت بیبی آمنہ فرماتی ہیں: اتانی آت وانا بین النائم والیقظان فقل ہل شعرت انک حملت فکانی اقول ما ادری فقال انک قد حملت بسید ہٰذہ الامۃ ونبیہا۔ (مواہب اللدنیہ) میں سونے اور جاگنے کی کیفیت میں تھی کہ کوئی آنے والا (فرشتہ) آیا، اس نے کہا کیا آپ کو علم ہے کہ آپ ماں بننے والی ہیں؟ گویا کہ میں نہ جانتی تھی تو اس نے کہا آپ اس امت کے سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہیں۔
حضرت بیبی آمنہ فرماتی ہیں ”میرے پاس آنے والا فرشتہ آیا اس نے ہدایت کی جب اس کی ولادت ہوجائے تو یہ دعا پڑھنا اعیذہ اعیذہ بالواحد من شر کل حاسد“ یعنی میں ہر حاسد و بدخواہ کے شر سے اسے اللہ وحدہ لاشریک کی پناہ و حفاظت میں دیتی ہوں“ پھر اس کا نام محمد صلّی اللہ علیہ وسلم رکھنا کیونکہ ان کا نام تورات و انجیل میں احمد صلّی اللہ علیہ وسلم ہے زمین و آسمان والے سب ان کی تعریف کریں گے قرآن ان کی کتاب ہے۔ (تاریخ طبری)

مذکورہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہر طرح سے دنیا کو خبردار کیا گیا کہ یہی وہ ہستی ہے جس کی وجہ سے دنیا کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے، یہی وہ ہستی ہے جس کی ذات بابرکات کعبۃ اللہ شریف کو بتوں کی غلاظتوں سے پاک کردے گی۔ بالآخر وہ سہانی گھڑی آگئی جب نور مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم سیدہ آمنہ کی گود میں آیا تو اس شب اللہ تعالیٰ نے حوض کوثر کے کنارے مہکتی کستوری کے ستر ہزار درخت لگائے جن کے پھل اہل جنت کے لیے بخور کا کام دیں گے۔ اس واقعہ کی یادگار میں پھر آسمان پر ایک ستون زمرد کا اور ایک ستون یاقوت کا نصب کیا گیا، تین جھنڈے مشرق، مغرب اور کعبہ کی چھت پر نصب کیے گئے۔ اس رات شیاطین کو مقید کیا گیا، کاہنوں کی خبریں بند ہوگئیں، سارے جہاں کے بت سر بسجود ہوگئے۔ اس رات بادشاہوں کے تخت الٹ گئے، ایوان کسریٰ میں زلزلہ برپا ہوا جس سے اس کے چودہ کنگرے گرگئے جو بزبان اشارہ یہ کہہ رہے تھے کہ بادشاہ وقت کی چودہ پشت تک سلطنت رہے گی، اور اس بات کا اعلان کررہے تھے کہ اب ظلم و بربریت کا دور ختم ہوجائے گا۔ غرضیکہ تاجدار کائنات پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر اس قسم کے بہت سے قدرتی اشارات و واقعات ایسے ظہور میں آئے کہ جن کی نظیر نہیں ملتی

17 Oct 2012

قرآن اور اہل بیت

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر میرے بعد تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میری عترت یعنی اہل بیت اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گی پس دیکھو کہ تم میرے بعد ان سے کیا سلوک کرتے ہو؟‘‘ (ترمذی‘ نسائی‘ احمد)

8 Oct 2012

تم جس سے لڑوگے میں اس کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں


حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی‘ حضرت فاطمہ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: تم جس سے لڑوگے میں اس کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جس سے تم صلح کرنے والے ہو میں بھی اس سے صلح کرنے والا ہوں۔‘‘ (ترمذی‘ ابن ماجہ)


5 Oct 2012

یااللہ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی: ’’آپ 

فرمادیں آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے‘‘ تو حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی‘ حضرت 

فاطمہ‘ حضرت حسن اور حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلایا‘ پھر فرمایا: یااللہ! یہ میرے اہل 

(بیت) ہیں۔‘‘ (مسلم‘ ترمذی

4 Oct 2012

عشق رسول میں اونٹ کا بھوکا پیسا مر جانا


اونٹ اور عشق رسول ﷺ
ایک روز غضبا نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے آپﷺ سے ایک درخواست کرنی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا وہ کیا۔ عرض کی! آپ اللہ سے یہ بات منظور کرادیجئے کہ جنت میں آپ ﷺ کی سواری بنایا جائے۔ دوسری بات یہ کہ مجھے آپ ﷺ کے وصال سے پہلے موت آجائے تاکہ میری پشت پر کوئی دوسرا سواری نہ کرسکے۔ آپ ﷺ نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری پشت پر کوئی سواری نہ کرے گا میرے سوا۔
جب حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بلا کر وصیت کی کہ غضبا پر میرے بعد کوئی سواری نہ کرے کیونکہ میں نے اس سے عہد کیا ہوا ہے۔ بیٹی! تم خود اس کی دیکھ بھال کرنا۔ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اونٹ نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے فراق میں گم سم رہنے لگا۔
ایک رات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اس اونٹ کے نزدیک سے گزریں وہ اونٹ آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر یوں گویا ہوا ’’اے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی! جب سے میرے آقا و مولاﷺ کا وصال ہوا ہے میں نے گھاس کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا ہے۔ خدا کرے مجھے جلد موت آجائے کیونکہ مجھے اس زندگی سے حضورﷺ کی غلامی زیادہ پسند ہے۔ میں حضور ﷺ کی خدمت میں جارہا ہوں‘ اگر آپ کا کوئی پیغام ہوتو میں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچادو۔ حضرت فاطمۃ الزہرا؍ء رضی اللہ عنہا اونٹ کی باتیں سن کر بہت مغموم ہوئیں اور رونے لگیں اور پیار سے اپنے ہاتھ اونٹ کے چہرے پر ملنے لگیں۔ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اونٹ نے جان دے دی۔ علی الصبح حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کیلئے کفن تیار کرایا اور ایک گہرا سا گڑھا کھدوا کراسے دفن کردیا۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اونٹ کے مرنے کے تین دن بعد اس گڑھے پر تشریف لائیں اور قبر اکھاڑنے کا حکم دیا مگر اس گڑھے میں اونٹ کا نام و نشان نہ تھا۔ گوشت پوست اور ہڈیاں سب کچھ غائب تھا۔ (معارج النبوت‘ حصہ سوم‘ صفحہ 201)

3 Oct 2012

اونٹ کا عشق مصطفیٰ میں درود پڑھنا


اونٹ کا عشق مصطفیٰ ﷺمیں درود پڑھنا

ایک بار حضور نبی اکرم ﷺ مومنین کو صدقہ کی تلقین فرمارہے تھے کہ ایک اعرابی آپہنچا جس کے پاس بڑا خوبصورت اونٹ تھا۔ بڑا خوش رفتار اور خوش خرام۔ اس نے اسے ایک جگہ کھڑا کردیا۔ سحری کے وقت جب حضور اکرم ﷺ گھر سے نکلے تو یہ اونٹ فصیح و بلیغ انداز میں پڑھ رہا تھا۔ 
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَازَیْنَ الْقِیَامۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَیْرَ الْبَشَرِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَافَاتِحَ الْجَنَانِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَافِعَ الْاُمَمِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاقَائِدَ الْمُؤمِنِیْنَ فِی الْقِیَامَۃِ اِلَی الْجَنَّۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْک یَارَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
حضور ﷺ نے یہ کلمات سنتے ہی اونٹ کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگا۔ یارسول اللہ ﷺ میں اس اعرابی کے پاس تھا وہ مجھے ایک سنسان جنگل میں باندھ دیا کرتا۔ رات کے وقت جنگل کے جانور میرے اردگرد جمع ہوجاتے اور کہتے ’’اسے نہ چھیڑنا یہ حضور ﷺ کی سواری ہے‘‘ میں اس دن سے آپ ﷺ کے ہجر و فراق میں تھا۔ آج اللہ نے احسان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ تک پہنچا ہوں۔ آپ ﷺ اونٹ کی یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوئے اور اس کی طرف زیادہ التفات فرمانے لگے اور اس کانام ’’غضبا‘‘ رکھا۔



 
Copyright © 2010 Shan-e-Mustafa. All rights reserved.