17 Oct 2011

براکات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔



۔ حضرت عمر بن تغلب کے چہرے اور سر پر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پھیرا۔ انہوں نے سو برس کی عُمر میں وفات پائی مگر چہرے اور سرکے وہ بال جن کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک نے چھوا تھا سفید نہ ہوئے۔

22
۔ حضرت اسید بن ابی ایاس کنانی کے سینے پر حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک رکھا اور چہرے پر پھیرا، وہ تاریک گھر میں داخل ہوتے تو روشن ہو جاتا۔

21۔ حضرت عمر بن تغلب کے چہرے اور سر پر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پھیرا۔ انہوں نے سو برس کی عمر میں وفات پائی مگر چہرے اور سر کے وہ بال جن کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک نے چھوا تھا سفید نہ ہوئے۔

22۔ حضرت اسید بن ابی ایاس کنانی کے سینے پر حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک رکھا اور چہرے پر پھیرا، وہ تاریک گھر میں داخل ہوتے تو روشن ہو جاتا۔

23۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نکاح حضرت زینب بنت حجش سے ہوا تو میری والدہ ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خرما، گھی اور پنیر سے حیس تیار کیا۔ اسے ایک تور میں ڈال دیا، پھر کہا اے انس! اس کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے جا۔ وہاں عرض کرنا کہ یہ میری والدہ نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیلئے بھیجا ہے۔ وہ سلام پیش کرتے ہوئے عرض کرتی ہیں ہے کہ یارسول اللہصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ تھوڑا سا کھانا ہماری طرف سے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیلئے ہے۔ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور والدہ نے جو کچھ کہا تھا عرض کر دیا۔ حضور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو یہاں رکھ دو اور فلاں فلاں تین شخصوں کو بلا لاؤ، اگر اور بھی ملیں ان کو بھی لے آؤ۔ میں نے تعمیل ارشاد کی، جب واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گھر اہل خانہ سے بھرا ہوا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس اس حیس پر رکھا اور دعائے برکت فرمائی، پھر آپ حاضرین میں سے دس دس کو بلاتے رہے اور فرماتے رہے کہ اللہ عزوجل کا نام لے کر کھاؤ اور ہر ایک اپنے سامنے سے کھائے۔ اس طرح ایک گروہ نکلتا اور دوسرا آ جاتا، یہاں تک کہ سب سے سیر ہوکر کھایا۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے انس سے فرمایا اسے اٹھاؤ، انس کہتے ہیں کہ میں نے اٹھا لیا۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ جب تور رکھا گیا تو اس وقت کھانا زیادہ تھا یا جب اٹھایا گیا۔ بقول انس حاضرین کی تعداد تین سو تھی۔

24۔ جب تاجدار انبیاء شفیع روز جزا محبوب کبریا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہجرت فرما کر مدینے میں رونق افروز ہوئے تو اس وقت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک یہودی کے ہاں بطور غلام کام کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد سے انہوں نے اس یہودی سے اس امر پر مکا تبت کرلی کہ وہ اس یہودی کو چالیس اوقیہ سونا ادا کریں اور اس کیلئے کھجوروں کے تین سو پودے لگا کر پرورش کریں، یہاں تک کہ وہ بار آور ہوں۔ جب حضرت سلمان فارسی نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبردی تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ سلمان کی مدد کرو۔ چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پودے دے دئیے اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے ان کو لگایا۔ وہ سب لگ گئے اور اسی سال پھل لگے۔ ایک روایت میں ہے کہ تین سو پودوں میں سے ایک کسی اور نے لگایا وہ پھل نہ لایا تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اسے اکھاڑ کر اپنے دستِ مبارک سے پھر لگا دیا، وہ بھی دوسروں کے ساتھ ہی پھل لایا۔ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کسی کان سے مرغی کے برابر سونا آیا تھا وہ آپ نے سلمان کو عطا فرمایا۔ سلمان نے عرض کیا کہ اس کو چالیس اوقیہ کے ساتھ کیا نسبت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہی لے جاؤ، اللہ تعالٰی اسی کے ساتھ تمہارا قرض دور فرما دے گا، چنانچہ وہ لے گئے اور اسی میں سے چالیس اوقیہ تقل کر یہودی کو دے دئیے۔ اس طرح حضرت سلمان فارسی آزاد ہوگئے۔




--
***Asif Rao***
**Sargodha**

(1): براکات محمد صلی اللہ علیہ وسلم



۔ حضرت سہل بن رافع دو صاع کھجوریں بطور زکوٰۃ اور اپنی لڑکی عُمیرہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلمکی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میرے حق میں اور میری لڑکی کے حق میں دُعائے خیر فرمائیں۔ اس لڑکی کے سر پر اپنا مبارک ہاتھ پھیر دیں۔ عمیرہ کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا مبارک مجھ پر رکھا، میں خدا کی قسم کھاتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ کی ٹھنڈک بعد میں میرے کلیجے پر رہی۔

16۔ حضرت سائب بن یزید کا آزاد کردہ غلام عطاء بیان کرتا ہے کہ میں نے حضرت سائب کو دیکھا کہ ان کی داڑھی کے بال سفید تھے، مگر سر کے بال سیاہ تھے۔ میں نے پوچھا آقا ! آپ کے سر کے بال سفید کیوں نہیں ہوتے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک روز میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا حضورِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے لڑکوں کو سلام کیا، ان میں سے میں نے سلام کا جواب دیا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور اپنا مبارک ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا "اللہ تجھ میں برکت دے" پس حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک کی جگہ پر سفید بال کبھی نہ آئیں گے۔

17۔ تاجدار انبیاء میٹھے میٹھے مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیمہ بن عاصم عقلی کے چہرے پر اپنا دستِ مبارک پھیرا۔ ان کے چہرے پر بڑھاپے کے آثار نمودار نہ ہوئے یہاں تک کہ وفات پائی۔

18۔ حضرت عبادہ بن سعد بن عثمان زرقی کے سر پر تاجدار کون و مکاں طبیب دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پھیرا اور دُعاء فرمائی۔ انہوں نے اسی سال کی عُمر میں وفات پائی اور کوئی بال سفید نہ ہوا۔

19۔ حضرت بشر (یا بشیر) بن عقربہ جہنی کا بیان ہے کہ میرے والد مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئے۔ حضور تاجدار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میرا بیٹا بحیر ہے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ نزدیک آؤ، میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلمکے دائیں ہاتھ بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ یارسول اللہصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میرا نام بحیر ہے۔ حضور نبی کریمصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، نہیں تمہارا نام بشیر ہے، میری زبان میں لکنت تھی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ لکنت جاتی رہی، میرے سر کے تمام بال سفید ہو گئے، مگر جن بالوں پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دستِ مبارک پھیرا تھا وہ سیاہ ہی رہے۔

20۔ حضرت محمد بن انس بن فضالہ انصاری اوسی ذکر کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مدینے میں تشریف لائے تو میں دو ہفتے کا تھا۔ مجھے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئے، آپصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر دستِ مبارک پھیرا، دُعائے برکت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس کا نام میرے نام پر رکھو مگر میری کُنیت نہ رکھو۔ ان کے صاحبزادے یونس کا قول ہے کہ میرے والد بوڑھے ہو گئے، ان کے تمام بال سفید ہوگئے مگر سر کے بال جن پر دستِ مبارک پھیرا تھا سفید نہ ہوئے۔




--
***Asif Rao***
**Sargodha**

15 Oct 2011

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی محب



حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی محب

محبوب نے فرمایا کہ بلال (رضی اللہ عنہ) کتنی بے وفائی ہے اتنا عرصہ گزر گیا کہ تم ہماری ملاقات کو نہیں آئے
صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں رویا کرتے تھے۔ چنانچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ فرمایا تو انہوں نے دل میں سوچا کہ پہلے تو یہاں محبوب کا دیدار ہوتا تھا۔ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اذان دیتا تھا اب میں اگر محبوب کا دیدار نہیں کرسکوں گا تو میں برداشت نہیں کرسکوں گا چنانچہ انہوں نے ملک شام میں ہجرت فرمائی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے اذان نہیں کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے صرف دو مرتبہ اذان دی۔ ایک اذان تو جب بیت المقدس فتح ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صحابہ کا دل مچل اٹھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا امیر المومنین آپ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہیے۔ یہ اللہ کے محبوب کے موذن تھے۔ آج ذرا یاد تازہ ہوجائے اور بیت المقدس میں ان کی اذان ہوجائے تو بلال رضی اللہ عنہ نے پہلے تو انکار کردیا جب امیر المومنین نے حکم دیا اب انکار کی گنجائش نہ تھی تو ایک تو انہوں نے قبلہ اول میں اذان دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر ایک مرتبہ ملک شام میں رات کو سوئے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا تو محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال (رضی اللہ عنہ) کتنی بے وفائی ہے اتنا عرصہ گزر گیا کہ تم ہماری ملاقات کو نہیں آئے۔ بس اس خواب کے آتے ہی اٹھ بیٹھے اپنی بیوی سے کہا کہ میری اونٹنی تیار کرو اور میں اب مدینہ جارہا ہوں۔ چنانچہ شام سے مدینہ طیبہ کا سفر کیا اب جب مدینہ طیبہ میں آئے تو نماز کا بھی وقت تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی چاہت تھی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دور والی اذان سنیں اور محبوب کی یاد تازہ ہو۔ انہوں نے انکار فرمادیا۔ چنانچہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہم اجمعین دونوں شہزادوں کی خواہش تمنا ایسی تھی کہ اس کا انکار نہیں کرسکتے تھے چنانچہ کہنے لگے اچھا میں اذان دیتا ہوں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دینی شروع کی اب اچانک جب مدینے میں صحابہ نے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی جس کو وہ دور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سنا کرتے تھے تو ان کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوگئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تو مرغ نیم بسمل کی طرح رونے لگے۔ ایک آواز بلند ہوئی۔ مدینہ کی عورتیں بھی اپنے گھر سے چادریں سر پر کرکے مسجد نبوی کی طرف بھاگیں اور اس وقت ایک عجیب کیفیت پیدا ہوئی کہ جب عورتیں بھی رو رہی تھی اور مرد بھی رو رہے تھے۔ ایک چھوٹے بچے نے جو ماں کے کندھے پر بیٹھا تھا اس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہم کو دیکھا تو اپنی ماں سے پوچھنے لگا امی بلال رضی اللہ عنہ تو اتنے عرصے کے بعد واپس آگئے تم بتائو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کب واپس آئیں گے؟
کہتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب اَشھَدُاَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللّٰہ پر پہنچے اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بے قرار ہوکر نیچے گرگئے۔ مہاجرین اور انصار مدینہ میں بہت آوازیں بلند ہوئیں۔



--
***Asif Rao***
**Sargodha**

13 Oct 2011

جمال حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم

جمال حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم


امام ترمذی نے اپنی سند متصل کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ذکر کی جس میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ کو بیان کیا، فرماتے ہیں:

"حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے، آپ کا سینہ مبارک وسیع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال گھنے تھے ،جن کی درازی کان کی لو تک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ دھاری دار کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، میں نے آپ سے زیادہ حسین کبھی کوئی چیزنہیں دیکھی۔ براء بن عازب کی اس بات کو حضرت حسان ابن ثابت رضی اللہ عنہ شاعرِ رسول اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا:
واحسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرأً من کل عیب
کأنک قد خلقت کما تشاء
امام طبری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن وجمال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حمیدہ کو اپنی مایاناز تصنیف "سیرة سید البشر" میں ذکر کیا ہے، اس کا ترجمہ حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی نے کیا ہے، جو مختصر اور اتنا جاندار ہے کہ خود بخود پڑھتے ہوئے آنکھوں میں آنسوں کی لڑی بندھ جاتی ہے تو آئیے ہم اسی کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی صفات اور حلیہ مبارک وغیرہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلّم میانہ قد لوگوں میں تھے،نہ زیادہ دراز تھے، نہ ایسے پست قامت تھے کہ کوئی آنکھ آپ کی طرف سے اعراض کرکے دوسری کے طرف راغب ہو، بل کہ آپ متوسط قد والے تھے، دونوں کندھو ں کے درمیان کا رنگ سفید تھا، جس میں سرخی جھلکتی تھی ، بعض نے کہا ہے کہ: اس میں بجائے سرخی کے سنہرا پن تھا، خالص سفید چونے کی طرح نہیں تھا ،نہ بالکل گندمی تھا، جس میں سانولا پن ہو۔ بال مبارک گھونگھریالے تھے، جب دراز ہوتے تو کانوں کی لو تک پہنچ جاتے، جب چھوٹے ہوتے تو کانوں کے نصف تک رہتے، سفیدی سر اور ریش مبارک میں بیس بالوں تک بھی نہیں پہنچی تھی ۔گردن مبارک گویا چمکدار صاف خوشنماچاندی یاہاتھی دانت کی مورت تھی ،چہرہٴ انور روشن تھا ،چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا ،تمام اعضا نہایت معتدل اور مناسب تھے ،سر مبارک اچھا بڑاتھا،بال گنجان تھے ،سر کے بال اڑے نہیں تھے ،چہرہ مبارک دبلانہیں ہواتھا،بل کہ ہمیشہ تروتازہ اوربارونق رہا۔
آنکھوں کی سیاہی نہایت عمدہ اورتیزتھی، مزگان دراز تھیں، آوازمیں قوت اور گرج تھی ،گردن میں خوشنمادرازی تھی ،ریش مبارک گنجان تھی ۔
خاموشی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروقار طاری رہتاتھا،تکلم فرماتے تو رونق اورنورکا غلبہ ہو جاتا، دور سے دیکھوتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بارونق اور جمیل۔ نزدیک سے دیکھوتوسب زیادہ شیر یں اورحسین، بات میں رس اورمٹھاس تھی، بات بہت زودفہم، درمیانہ درجہ کی اورصاف ہوتی تھی، نہ بالکل مختصر ،نہ زیادہ لمبی، الفاظ گویاکہ بیش بہاموتی ہیں، جوایک ایک کرکے پروئے ہوئے ہیں۔
پیشانی مبارک کشادہ، ابرو گنجان کشیدہ باریک، لیکن دونوں ابرو ملے ہوئے نہیں تھے، بل کہ ان کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کی حالت میں ابھرآتی تھی۔ ناک بلندی مائل تھی، اس پرایک شعلہ نماچمک تھی، اول وہلہ میں دیکھنے والایہ سمجھتاتھاکہ آپ کی ناک ہی اتنی اونچی ہے۔

آنکھ کی پتلی خوب سیا ہ تھی، دہن مبارک کشادہ تھا، دندان مبارک آب دارتھے ،سامنے کے دانتوں میں قدرے کشادگی تھی، سینہٴ مبارک سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیرتھی جیسے تلوارکی دھار، سینہ اورشکم مبارک پر اس کے علاوہ بال نہیں تھے، کندھوں اوربازووٴں پربال تھے۔
آپ جسیم تھے اور بدن گٹھا ہوا تھا،آپ کاسینہ اور شکم دونوں ہموار تھے، جوڑوں کی ہڈیاں بڑی اورمضبوط تھیں، جسم مبارک کا کھلا ہوا حصہ چمکدار تھا، سینہ فراخ تھا، کلائیاں دراز تھیں،ہتھیلی کشادہ،ہاتھ اورپیر خوب گوشت سے پر تھے،انگلیاں اچھی لمبی تھیں،قد مبارک بالکل سیدھا تھا،تلوے گہرے تھے،قدم چکنے اورصاف تھے،جن پر پانی کا کوئی قطرہ نہیں ٹھہرتا تھا، چلتے وقت قدم قوت سے اٹھاتے اورکسی قدر آگے کو جھک کر تیزی اور نرمی سے چلتے تھے،چلتے وقت ایسا معلوم ہوتا کہ آپ کسی بلندی سے اتررہے ہیں ، کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم سے متوجہ ہوتے، آپ کے دونو ں کندھوں کے درمیان مہرنبوت تھی، جیسے مسہری کی گھنڈی ہو یا کبوتری کا بیضہ ہو ،اس کا رنگ جسم مبارک ہی جیسا تھا،اس پر تل تھے، پسینہ مبارک ایسا تھا جیسے موتی،پسینہ مبارک کی خوشبومشکِ اذفرکی خوشبو سے زیادہ نفیس تھی، آپ کے اوصاف بیان کرنے والا کہتا تھا کہ:میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا شخص نہیں دیکھا،صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حضرت براء بن عازب  فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوسرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا تو آپ سے زیادہ حسین میں نے کوئی شے کبھی نہیں دیکھی۔
حضرت انس فرماتے ہیں کہ: میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ کسی ریشم کو مس کیا نہ دیباج کو اور آپ کی خوشبو سے عمدہ کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی اور انہیں سے روایت ہے کہ:حضرت ابو بکر جب آپ کو دیکھتے تو فرمایا کرتے تھے:
أمین مصطفےٰ بالخیر یدعو
کضوء البدر زایلہ الظلام
ترجمہ :آپ امانت دار ہیں،چنیدہ ہیں،خیر کی دعوت دیتے ہیں، جیسے چودھویں رات کے چاندکی روشنی سے تاریکیاں دور ہوجاتی ہیں۔
حضرت ابو ھریرہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر ،زھیر بن ابی سلمیٰ کا یہ شعر #
لو کنت من شيء سوی البشر
کنت مضيء لیلة البدر
ترجمہ:اگر آپ بشر کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتے،تو چودھویں رات کو روشن کر نے والے ہوتے۔ پھر حضرت عمر اور ان کے ہم مجلس کہتے کہ:یہ شان تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی،کسی اور کی نہیں تھی، آپ کی شان میں آپ کے چچا ابو طالب کہتے ہیں :
وأبیض یستسقیٰ الغمام بوجھہ
ثمال الیتامیٰ عصمةٌ للأرامل
یطیف بہ الھلاک من آل ھاشم
فھم عندہ فی نعمة وفضائل
میزان حق لا یخبس شعیرة
ووِزان عدل وزنہ غیر عائل
ترجمہ:آپ خوش نما سفید رنگ والے ہیں، آپ کی برکتوں سے پانی طلب کیا جاتا ہے، آپ یتیموں پر رحم کرنے والے اور بیواوٴں کی حفاظت کرنے والے ہیں،آل ہاشم کے ہلاک ہونے والے لوگ آپ کے پاس آکرٹھہرتے ہیں، تو وہ آپ کے پاس خوش عیشی اور فضائل میں ہیں،آپ حق کی ترازوہیں،ایک جو کی بھی کمی نہیں کرتے اور انصاف کے ساتھ وزن کرنے والے ہیں،آپ کا وزن کرنا ذرا بھی زیادتی نہیں کرتا، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وازواجہ وصحبہ وسلم۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ معنویہ
جس میں صحابہ کے ساتھ اخلاق کریمانہ اور گذران ، خود اپنے متعلق اور صحابہ کے ساتھ برتاوٴ ، آپ کے بیٹھنے ،عبادت کر نے ، سونے ، بات چیت کرنے، ہنسنے، کھانے پینے ، لباس ، خوش بو، سرمہ ، کنگھا کرنے ، مسواک کرنے، حجامت، خوش طبعی فرمانے کا ذکر ہے۔
حضرت عائشہ سے آپ کے خلق کے متعلق دریافت کیا گیا؟ تو جواب آپ کا خلق قرآن (پر عمل) تھا، جس سے قرآن ناراض اس سے آپ ناراض، جس سے قرآن راضی اس سے آپ راضی۔آپ کا غصہ اور انتقام اپنے نفس کی خاطر نہیں ہوتا تھا، لیکن اللہ کی حرام کی ہوئی چیز وں کی ہتک ہوتی تو آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے اور غصہفرماتے اور جب آپ غصہ فرماتے تو کوئی تاب نہیں لا سکتا تھا۔
آپ کا سینہ مبارک سب سے زیادہ سخت اور گھمسان کی لڑائی کے وقت ہم آپ کی پناہ میں اپنا بچاوٴ تلاش کیا کرتے تھے۔
سب سے زیادہ سخی اور جواد تھے، کبھی آپ نے سوال کے جواب میں" لا "نہیں فرمایا ،جود وسخا کا زیادہ زور ماہ رمضان المبارک میں ہوتا تھا۔دینا رو درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دولت خانہ میں رات کو گزارا نہیں کر سکتے تھے، اگر کبھی کچھ بچ گیا اور لینے والا نہیں مل سکا اور اسی حالت میں رات ہوگئی ، تو آپ شب باشی کے لیے دولت خانہ پر تشریف نہیں لاتے تھے ۔ جب تک وہ بچا ہوا کسی حاجت مند کو دے کر فارغ البا ل نہ ہوجاتے۔
جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرماتے آپ اس میں صرف (سال بھر کے خرچ کے لیے ) اتنی مقدار رکھلیتے جو آپ کے لیے انتہائی ضرورت کی حالت میں کفایت کرتی، وہ بھی بہت معمولی درجہ کی چیز ،جیسے کھجور اور جو اور باقی سب کا سب اللہ کی راہ میں صرف فرماتے اور اپنی ذات کے لیے بطور ذخیرہ کچھ بھی نہ رکھتے تھے ، پھر اپنے اہل خانہ کی بقدر حاجت روزی میں سے بھی ایثار فرماتے ، حتی کہ بسا اوقات سال بھر گذرنے سے بھی پہلے ہی پہلے احتیاج ہوجاتی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سچے ، سب سے زیادہ پابند عہد، باوفا، سب سے زیادہ نرم طبیعت تھے، آپ کا قبیلہ سب سے زیادہ با کرامت تھا ، آپ مخدوم ومطاع تھے کہ خدام خدمت کے متمنی اور اطاعت کے لیے بسر وچشم حاضر تھے۔
آپ ترش رو، سخت مزاج نہیں تھے۔ آپ عظیم القدر اور معظم تھے، سب سے زیادہ حلیم تھے۔ پردہ نشین کنواری سے زیادہ باحیا تھے ، کسی کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے تھے، نیچی نگاہ رکھتے تھے، نظر مبارک زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی، آسمان کی طرف کم اٹھتی تھی، عامةً گوشئہ چشم سے جلدی سے دیکھنے کی عادت تھی۔
سب سے زیادہ متواضع ، منکسر المزاج تھے ، غنی ، فقیر، شریف، ادنیٰ، حر، عبد ، جو بھی دعوت پیش کرتا قبول فرمالیتے، فتح مکہ کے روز جب حضرت ابوبکر  اپنے والد کو قبول اسلام کے واسطے خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئے، تو ارشاد فرمایا کہ: " ان بڑے میاں کو کیوں تکلیف دی !ان کو وہیں رہنے دیتے، میں خود ان کے مکان پران کے پاس چلا جاتا۔ "جواب میں عرض کیا کہ : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجا ئیں ،اللہ کے رسول کی خدمت میں حا ضر ہونے کی سعادت کے یہی زیا دہ مستحق ہیں ۔
آ پ سب سے زیا دہ رحم فر ما نے وا لے تھے ، پا نی کا بر تن شفقة بِلِّی کے لیے جھکا دیتے تھے ، جب تک وہ سیراب نہ ہوجا ئے بر تن ہٹا تے نہ تھے، عین نماز کی حالت میں کسی بچہ کی رونے کی آواز سنتے اور اس کی ماں آپ کے پیچھے نماز میں ہوتی، تو آپ شفقة نما ز میں تخفیف فر ما دیتے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ عفیف تھے ، اپنی منکوحہ ، محرم، باندی کے علاوہ کسی عورت کو دست مبا رک نے نہیں چھوا ۔
اپنے اصحاب کا اکرام کر نے میں آپ سب سے بڑھے ہوئے تھے ،کبھی کسی مجلس میں آپ کو کسی کی طرف پیر پھیلا ئے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جب ان کے لیے جگہ میں تنگی ہو جاتی ،تو آپ (سکڑ کر ) ان کے لیے گنجا ئش نکال لیتے ، آپ کے گھٹنے کبھی کسی ہم نشین کے گھٹنے سے آگے نہیں بڑھتے تھے ۔ جو شخص اچانک آپ کو دیکھتا ،تو غیر معمولی وقار کی وجہ سے ہیبت زدہ ہو جاتااور جو شخص میل جول کر کے آپ سے ربط پیدا کر تا ، تو انتہا ئی کما لات ظا ہرہ وبا طنہ کی وجہ سے آپ کا گرویدہ ہو جاتا ۔
آپ کے رفقا ء آپ کی صحبت میں آپ کے ارد گرد جمع رہتے تھے، اگر آپ کچھ فر ما تے تو سب سننے کے لیے خا موش ہو جا تے ،اگر کو ئی حکم دیتے تو سب تعمیل کے لیے پھرتی کر تے۔آپ اپنے اصحاب کو چلتے وقت آگے بڑھا کر خود پیچھے ہو جا تے ،جو بھی ملتا آپ ابتدا بالسلام فرماتے ۔
فرمایا کرتے تھے کہ میری تعریف میں مبالغہ مت کرو ، جیسا کہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں نصاری نے مبالغہ کیا ، میں صرف بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ ہی کہا کرو، آپ جس قدر اپنے گھروالوں کی خاطر تجمل فرماتے، تو اصحاب کی خاطر اس سے زیادہ تجمل فرماتے اور ارشاد فرمایا کرتے کہ "اللہ پاک اپنے بندے کی اس با ت کو پسند فرماتے ہیں کہ جب اپنے بھائیوں سے ملاقات کے لیے نکلے ،تو لباس وغیرہ ٹھیک کر کے تجمل کے ساتھ نکلے"۔
آپ اپنے اصحاب سے بے فکر اور بے خبر نہ رہتے، بل کہ ان کی دیکھ بھال کرتے اور ان کے حالات کی خیروخبردریافت فرمایا کرتے تھے، بیمار کی عیادت کرتے،مسافر کے لیے غا ئبانہ دعا فرماتے، مرنے والے پر انا للہ پڑھ کر دعا فرماتے اور جس کو یہ خیال ہوتا کہ آپ جی میں اس سے کچھ ناراض ہیں، تو آپ خود فرماتے کہ:
"شاید فلاں شخص کسی بات کی وجہ سے ہم سے ناراض ہے، یاہماراقصوردیکھا ہے،چلو اس کے پاس ہو کرآئیں ۔"پھرآپ اس کے مکان پر تشریف لاتے۔ آپ کبھی صحابہ کے باغوں میں تشریف لے جاتے اور جو شخص وہاںآ پ کی ضیافت کرتا توکچھ نوش بھی فرمالیتے۔
آپ اہل عزت وشرف سے الفت رکھتے اور اہل علم وفضل کا اکرام فرماتے تھے اور پیشانی پر بل کسی سے بھی ناراض ہو کر نہیں ڈالتے تھے، اوردرشتی وسخت گیری کا برتاؤ کسی کے ساتھ بھی نہیں کرتے تھے، بغیر پیشگی احسان کے کسی کی ثنا وتعریف کو قبول نہیں کرتے تھے، عذر خواہ کے عذر کو قبول کر لیتے تھے ، حق کے معاملہ میں آپ کے نزدیک ، قوی، ضعیف، قریب ، بعید سب یکساں تھے۔
آ پ کسی کو اپنے پیچھے چلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، بل کہ اس کو بھی اپنے ساتھ سوار کرلیتے تھے اور بحالت سواری کسی کو اپنے ہم رکاب پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے ،بل کہ اس کو بھی اپنے ساتھ سوار کر لیتے تھے ، اگر وہ انکار کر تا تو فر ماتے کہ: "جہاں جانا ہو مجھ سے آ گے چلے جاوٴ " ۔
قُبا تشریف لے جانے کے لیے ننگی کمرِ حمار پر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوہریرہ آپ کے ساتھ تھے ، تو ارشاد فرمایا کہ: " اچھا! آجاؤ ، تم بھی سوار ہوجاؤ " حضرت ابوہریرہ  میں کافی وزن تھا ، چڑھنے کے لیے اچھلے، مگر نہیں چڑھ سکے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹ گئے، جس سے دونوں گرے ، پھر سوار ہوئے اور فرما یا کہ: " ابو ہریرہ  ! تمہیں بھی سوار کرلوں؟" عرض کیا ، جیسے رائے عالی ہو ،فر مایا کہ " اچھا چڑ ھ جاؤ" وہ نہیں چڑھ سکے، بل کہ حضور کو ساتھ لے کر گرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سوار کرنے کے لیے پوچھا ؟ تو ابو ہریرہ  نے عرض کیا کہ ، اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! تیسری دفعہ میں آ پ کو نہیں گراؤں گا ، لہٰذا اب سوار نہیں ہوتا ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باندیاں غلام بھی تھے ، مگر آپ لباس وطعام میں ان سے برتر ہو کر نہیں رہا کرتے تھے اور جو بھی آپ کی خدمت کرتا آپ بھی اس کی خدمت فرماتے ۔
حضرت انس  فرماتے ہیں کہ میں نے تقریبا ً دس برس آپ کی خدمت کی ، خدا کی قسم! سفر حضر جہاں بھی مجھے خدمت کا موقعہ ملا ہے توجس قدر میں نے آ پ کی خدمت کی آ پ نے اس سے زیادہ میری خدمت کی ہے اور مجھے کبھی اُف تک نہیں فر مایا اور جو کام بھی میں نے کر لیا اس پر کبھی نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا ؟ اور جوکام میں نے نہیں کیا اس پر کبھی نہیں فرمایا کہ فلاں کام کیوں نہیں کیا؟
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، ایک بکری پکانے کی تجویز ہوئی ، ایک شخص نے کہاکہ اس کا ذبح کرنا میرے ذمہ ہے۔ دوسرا بولاکہ اس کی کھال کھینچنا میرے ذمہ۔ تیسرے نے کہا اس کا پکانا میرے ذمہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ لکڑیاں اکٹھا کرنا میرے ذمہ۔ آپ کے رفقا ء نے عرض کی کہ حضور! یہ بھی ہم ہی آ پ کی طرف سے کر لیں گے۔ آ پ نے فرمایا کہ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ تم میری طرف سے کرلوگے ، لیکن مجھے یہ بات ناگوار ہے کہ میں اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہوں اور اللہ پاک کو بھی ناپسند ہے اپنے بندے کی یہ بات کہ وہ اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور خود لکڑیاں جمع فرمائیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں نماز کے لیے اترے اور مصلے کی طرف بڑھے، پھر لوٹے، عرض کیا گیا کہ کہاں کا ارادہ فرما لیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ اپنی اونٹنی کو باندھتا ہوں،عرض کیا کہ اتنے سے کام کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف فرمانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم خدام ہی اس کو باندھ دیں گے، ارشاد فرمایا کہ" تم میں سے کوئی شخص بھی دوسرے لوگوں سے مدد طلب نہ کرے، اگرچہ مسواک توڑنے میں ہو"۔
ایک روز آپ صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوے کھجوریں تناول فرما رہے تھے ،کہ صہیب آشوب چشم کی وجہ سے ایک آنکھ کو ڈھانکے ہوئے آگئے ،سلام کر کے کھجوروں کی طرف جھکے ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:"آنکھ تو دکھ رہی ہے اور شیر ینی کھاتے ہو ؟"عرض کی کہ :یا رسول اللہ! اپنی اچھی آنکھ کی طرف سے کھاتا ہوں،اس پر حضور کو ہنسی آگئی ۔ ایک روز رطب تناول فر مارہے تھے،کہ حضرت علی آگئے ، ان کی آنکھ دکھ رہی تھی ، وہ بھی کھانے کے لیے قریب ہو گئے ،ارشاد فرمایاکہ:"آشوب چشم کی حالت میں بھی شیرینی کھاوٴگے ؟"وہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف جا بیٹھے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو وہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے ، آپ نے ان کی طرف کھجور پھینک دی ،پھر ایک اور پھر ایک اور اسی طرح سات کھجوریں پھینکیں فرمایا کہ :"تم کو کافی ہیں ،جو کھجور طاق عدد کے موافق کھائی جائے وہ مضرنہیں"۔
ایک دفعہ حضرت ام سلمہ  نے ثرید کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیة بھیجا، جب کہ آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف فرما تھے ، حضرت عائشہ نے اس کو پھینک کر توڑ دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دوسرے پیالہ میں اکٹھا کرنے لگے اور فرمایا: "تمہا ری ماں کو غیرت آگئی، غیرت آگئی"۔
ایک دفعہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کو قصہ سنایا ،ایک نے ان سے کہا کہ :یہ ایسی بات ہے جیسی خرافہ کی بات!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"جانتی بھی ہوخرافہ کیا تھا؟ خرافہ قبیلہٴ عذرہ کا آدمی تھا، زمانہ جاہلیت میں جنات نے اسے قید کر لیا تھا ،وہ زمانہٴ دراز تک ان میں رہا، پھر وہ اسے انسانوں میں چھوڑ گئے تھے اور جو کچھ عجائبات اس نے وہاں دیکھے تھے وہ لوگوں سے بیان کیا کرتا ، تو لوگ کہا کرتے کہ :یہ تو خرافہ کی بات ہے"۔
جب آپ دولت خانہ میں تشریف لے جاتے تو وہا ں کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرما دیتے ،ایک حصہ اللہ کی عبادت کے لیے ، ایک حصہ اپنے نفس کے لیے ،ایک حصہ اپنے اہل کے لیے ، پھر جو حصہ اپنے نفس کے لیے تجویز فرماتے ، اس کو اور لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیتے اور خواص کے ذریعہ سے اس وقت میں عوام کی حاجات پوری فرماتے ۔
جو وقت آپ نے امت کے لیے تجویز فرمایا تھا ، اس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ(ان آنے والوں میں )اہل فضل کو(حاضری کی اجازت میں) ترجیح دیتے تھے اور جس قدر دین کے اعتبار سے کسی کو فضیلت ہوتی اسی قدر اس پروقت بھی زیادہ صرف فرماتے، کسی کی ایک حاجت، کسی کی دو، کسی کی زائد، آپ ان میں لگے رہتے اور دیگر صحابہ کو بھی مشغول فرمالیتے اور حوائج پورا کرنے کی ہدایت دیتے اور تدبیریں بیان فرماتے رہتے اور ارشاد فرماتے کہ: " جو حاضر ہے وہ غائب تک پہنچادے اور ایسے لوگوں کی حاجات مجھ تک پہنچاؤ جو خود نہیں پہنچاسکتے، تو اللہ پاک قیامت کے روز اس کو ثابت قدم رکھیں گے۔" اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی قسم کی چیزوں کا ذکر ہوتا تھا اور اس کے علاوہ دوسری باتیں وہاں قبول نہ ہوتی تھیں۔
لوگ طلبِ علم کے لیے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے اور ایک عجیب ذوق لے کر نکلتے، دوسروں کے لیے دلیلِ خیر اور ہادی بن کر نکلتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں الفت پیدا فرماتے تھے، نفرت سے بچا تے تھے، قوم کے ہر کریم کا اکرام فرماتے اور اسی کو ان پر والی بناتے تھے، قوم کے بہترین افراد کو آپ سے زیادہ قرب ہوتا تھا، آپ کے نزدیک افضل وہ تھا جو عام خیرخواہی اورنصیحت کرتا، آپ کے نزدیک بڑا رتبہ اس کا تھا جو مواساة اور بہتر طریق پر رہتا۔
آپ کی نشست بر خواست بغیر ذکر الہی کے نہیں ہوتی تھی، جب آپ کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو کنارہٴ مجلس ہی میں بیٹھ جاتے، صدرِ مقام پر پہنچنے کی کوشش نہ فرماتے اور آپ کے حسنِ معاشرت کی بنا پر ہر شریکِ مجلس یہ سمجھتا تھا کہ میرا اکرام سب سے زیادہ فرمایا ہے۔
جب کوئی شخص خدمتِ اقدس میں حاضر ہو بیٹھتا، تو جب تک وہ خود نہ اٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اٹھتے، مگر یہ کہ کوئی جلدی کا کام درپیش ہو، تو اس سے اجازت لیتے، کسی سے کوئی ایسا برتاوٴ نہ فرماتے جو اس کے لیے باعثِ گرانی ہو۔
کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، نہ کسی عورت کو مارا، بل کہ کسی کو بھی علاوہٴ جہاد کے نہیں مارا۔
آپ صلہ رحمی فرماتے، مگر اس کو افضل واعلی پر ترجیح نہیں دیتے تھے۔
برائی کا بدلہ بھی برائی سے نہ دیتے، بل کہ معاف اور درگزر فرماتے تھے۔
بیماروں کی عیادت فرماتے، مساکین سے محبت اور مجالست رکھتے تھے، ان کے جنازوں میں شریک ہوتے، کسی کو فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے، کسی بادشاہ سے بادشاہت کی بنا پر مرعوب نہیں ہوتے تھے۔
نعمتِ خداوندی کی تعظیم فرماتے ، اگرچہ وہ کم ہو اور کسی طرح اس کی مذمت کے رودار نہیں تھے ۔
پڑوسی کے حق کی حفاظت فرماتے ، مہمان کا اکرام کرتے اور اکرام کی خاطر اپنی چادر اس کے لیے بچھادیتے، جس مرضعہ نے آپ کو دودھ پلایا تھا ایک روز وہ آگئی تو آپ نے اپنی چادر اس کے لیے بچھائی اور مرحبا کہہ کر ، اس پر اس کو بٹھایا ۔
سب سے زیادہ تبسم فرماتے اور سب سے زیادہ بشاش اور ہنس مکھ رہتے، حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم متواصل الا حزان، دائم الفکر تھے ، آپ کا جو وقت بھی گذرتا ، اللہ کے کسی عمل میں گذرتا، یا اپنی حوائج ضروریہ میں یا اپنے اہل کی ضروریات میں۔ جب بھی آپ کو دو چیز وں کا اختیار دیا گیا تو آپ نے امت پر شفقت ورحم کی خاطر ہلکی اور آسان چیز کو اختیار فرمایا، البتہ قطع رحمی سے حد درجہ اجتناب فرمایا ۔
آپ اپنی جوتی خود گانٹھ لیتے اور اپنے کپڑے میں پیوند بھی خود ہی لگالیتے، گھر کے معمولی چھوٹے کام بھی کرلیتے، گوشت بھی سب کے ساتھ بیٹھ کر کاٹ لیتے تھے، گھوڑ ے، خچر، گدھے پر سوار بھی ہوجاتے ، اپنے پیچھے اپنے علاوہ کو بھی بٹھالیتے ، اپنے گھوڑے کا منھ اپنی آستین اور چادر کے پلے سے پونچھ لیتے۔ لاٹھی پر ٹیک لگاتے اور ارشاد فرماتے کہ : "لاٹھی پر ٹیک لگانا اخلاقِ انبیاء میں سے ہے"، بکریاں بھی چراتے اور فرماتے کہ : "ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں"۔
نبوت عطاہونے کے بعد آپ نے اپنا عقیقہ بھی کیا اور اپنے گھر کے کسی بچہ کے عقیقہ کو ترک نہیں کیا ،پیدائش سے ساتویں روز بچے کا سر مونڈتے اور اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کو فر مایا کرتے تھے ۔
فال نیک کو آپ پسند فرماتے تھے اور بدفالی کو نا پسند اور ارشاد فرماتے کہ " ہم میں سے ہر شخص اپنے جی میں بد فالی کا اثر پاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی برکت سے اس کو کھو دیتے ہیں۔" جب آپ کوکوئی پسندیدہ چیزپیش آتی تو فرماتے: "الحمد للہ رب العلمین" اور جب ناگوار چیز پیش آتی تو فرماتے: "الحمدللہ علی کل حال "
اور جب کھانا بعد فراغت آپ کے سامنے سے اٹھایا جاتا ہے،تو فرماتے:"الحمد لله الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمین اور یہ فرمانابھی منقول ہے: "الحمد لله حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ غیر مُکَفِّوٴی ولا مودعٍّ ولا مستغنًی عنہ ربَّنا"
جب آپ کو چھینک آتی، تو آواز پست فرماتے اور ہاتھ یا کپڑے سے چہرہٴ مبا رک کو چھپا لیتے اور "الحمدللہ" فر ما تے ۔
آپ کی نشست اکثر قبلہ رو ہوتی اور جب مجلس میں تشریف رکھتے تودونوں گھٹنے کھڑے کر کے اس طرح بیٹھتے کہ ایک ہا تھ دوسرے ہاتھ میں ڈال کر گو یا رانوں میں اور گھٹنو ں کو باندھ دیا ہے، ذکر زیا دہ کرتے،بے فائدہ بات نہ فرما تے،نما ز طویل اور خطبہ مختصر فر ما تے، ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ استغفا رپڑ ھتے۔شر وع شب میں سو جاتے، پھر آ خیر شب میں قیام فر ما تے، پھر وتر پڑھتے اور اپنے بستر پر تشریف لاتے، پھر جب اذان سنتے فو را اٹھتے، اگر غسل کی ضرورت ہو تی تو غسل فر ما تے، ورنہ وضو کر کے نمازکے لیے تشریف لے جاتے، نما ز نفل بھی کھڑے ہو کر پڑھتے اور کبھی بیٹھ کر بھی پڑھی ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فر ما تی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نماز پڑھی ہے۔اور آپ کے اندرون سے نماز کی حالت میں رونے کی وجہ سے ایسی آواز سنائی دیتی تھی 'جیسی ہانڈی کے جوش مارنے کی آواز۔
پیر او رجمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور یومِ عاشورہ یعنی دس محرم کا روزہ رکھتے اور جمعہ کو کم افطار فرماتے اور آپ کے روزوں کے کثرت شعبان میں ہوتی تھی ۔
آپ کی آنکھ سویاکرتی تھی اور قلب مبارک انتظار وحی میں جاگتارہتاتھا، سوتے وقت سانس کی آواز ہوتی تھی، خراٹے نہیں لیتے تھے، جب خواب میں ناگوارچیز دیکھتے توفرماتے: "ھواللہ لاشریک لہ"۔جب سونے کے لیے لیٹتے تودا ہنی ہتھیلی رخسار کے نیچے رکھتے اور پڑھتے "رب قنی عذابک یوم تبعث عبادک "اوریہ بھی پڑھتے: "اللھم باسمک اموت واحیا" اور جب بیدار ہوتے توپڑھتے: "الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا والیہ النشور" (جاری)
شائع ہوا .الفاروق, ربیع الاول 1432ھ, Volume 27, No. 3



--
***Asif Rao***
**Sargodha**

12 Oct 2011

نعلینِ پاک سے حصولِ برکت


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نعلین پاک استعمال فرمائے وہ بھی بڑے بابرکت ہو گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ان نعلین پاک کو تبرکاً محفوظ رکھا اور ان کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوتے رہے۔ ان بابرکت نعلین پاک کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں :
1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک اور ایک پیالہ بھی محفوظ تھا جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی نوش فرماتے تھے۔ نعلین پاک کے حوالے سے حضرت عیسیٰ بن طہمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
أخرج إلينا أنس نعلين جرداوين، لهما قبالان، فحدثني ثابت البُناني بعد عن أنس : أنهما نعلا النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
بخاري، الصحيح، 3 : 1131، ابواب الخمس، رقم : 2940
بخاري، الصحيح، 5 : 2200، کتاب اللباس، رقم : 5520
بيهقي، شعب الايمان، 5 : 177، رقم : 6269 - 6270
عسقلاني، فتح الباري، 10 : 312، رقم : 5520
ترمذي، الشمائل المحمدية، 1 : 83، باب في نعل رسول الله، رقم : 78
''حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بغیر بال کے چمڑے کے دو نعلین مبارک نکال کر دکھائے جن کے دو تسمے تھے۔ بعد میں ثابت بُنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی کہ یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک ہیں۔''
2۔ ایک دفعہ حضرت عبید بن جُریح نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے پوچھا کہ ''میں آپ کو بالوں سے صاف کی ہوئی کھال کی جوتی پہنے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔'' حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما نے فرمایا :
فإنی رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يلبس النعل التي ليس فيها شعر و يتوضأ فيها فأنا أحب أن ألبسها.
بخاري، الصحيح، 1 : 73، کتاب الوضوء، رقم : 164
ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 84، باب فی نعل رسول اﷲ، رقم : 79
بخاري، الصحيح، 5 : 2199، کتاب اللباس، رقم : 5513
مسلم، الصحيح، 2 : 844، کتاب الحج، رقم : 1187
ابوداؤد، السنن، 2 : 150، کتاب المناسک، رقم : 1772
ابن حبان، الصحيح، 9 : 79 : رقم : 3763
بيهقي، السنن الکبریٰ، 1 : 287، رقم : 1272
بيهقي، السنن الکبریٰ، 5 : 37، رقم : 8762
شافعی، السنن المأثوره، 1 : 373، رقم : 503
مالک، المؤطا، 1 : 333، رقم : 733
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 66، 110، رقم : 5338، 5894
ابن عبدالبر، التمهيد، 21 : 74
زرقانی، شرح المؤطا، 2 : 331
مزی، تهذيب الکمال، 19 : 194، رقم : 3709
''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھا ہے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں وضو فرماتے تھے لہٰذا میں ایسی جوتیاں پہننا پسند کرتا ہوں۔''
3۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب 'المواہب اللدنیۃ (2 : 118۔119)' میں لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادمین میں سے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں تکیہ، مسواک، نعلین اور وضو کے لیے پانی لے کر حاضر رہتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرماتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نعلین مبارک پہنا دیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف رکھتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک اٹھا کر بغل میں دبالیتے تھے۔
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کی بابت ابوبکر احمد بن امام ابو محمد عبداللہ بن حسین قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں :
و نعلٍ خضَعْنا هيبةً لِبَهائِها
و إنَّا متی نَخضَع لها أبدًا نعلو
فَضَعْها علي أعلَی المَفارِق إنها
حقيقَتُهَا تاجٌ و صورتُها نعلٌ
(ایسے جوتے کہ جن کی بلند و بالا عظمت کو ہم تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ اس عظمت کو تسلیم کر کے ہی ہم بلند ہوسکتے ہیں۔ اس لیے انہیں بلند ترین جگہ پر رکھو کیونکہ درحقیقت یہ (سَر کا) تاج ہیں اگرچہ دیکھنے میں جوتے ہیں۔)
قسطلانی، المواهب اللدنيه، 2 : 470
جب امام فخانی نے پہلی مرتبہ نعلین پاک دیکھے تو بے ساختہ پکار اٹھے :
وَ لو قيل للمجنونِ لَيلیٰ و وَصْلُها
تُريدُ أمِ الدنيا و ما فی زوايها
لقال غُبارُ من ترابِ نِعالها
أحبُّ إلی نفسی و الشفاء لِی بَلائها
(اور اگر لیلیٰ کے مجنوں سے پوچھا جاتا کہ تو لیلیٰ سے ملاقات اور دنیا کے مال و زر میں سے کس چیز کو ترجیح دے گا؟ تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا : ''اس کی جوتیوں سے اٹھنے والی خاک مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہے اور اس کی مصیبتیں رفع کرنے کے لئے سب سے بہترین علاج ہے۔'')
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ علماء متقدمین و متاخرین نے نعلینِ پاک کے متعلق متعدد کتب تالیف کی ہیں مثلاً :
1.   مولانا شہاب الدین احمد مقری نے 'فتح المتعال فی مدح النعال' نامی کتاب لکھی۔
2.   مولانا اشرف علی تھانوی نے 'نیل الشفاء بنعال المصطفے' نامی رسالہ لکھا جو کہ ان کی کتاب 'زاد السعید' میں پایا جاتا ہے۔
3.   مولانا محمد زکریا کاندھلوی لکھتے ہیں :
''نعل شریف کے برکات و فضائل مولانا اشرف علی تھانوی کے رسالہ 'زاد السعید' کے آخر میں مفصل مذکور ہیں جس کو تفصیل جاننا مقصود ہو، اس میں دیکھ لے۔ مختصر یہ کہ اس کے خواص بے انتہا ہیں، علماء نے بارہا تجربے کئے ہیں۔ اسے اپنے پاس رکھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوتی ہے، ظالموں سے نجات اور لوگوں میں ہر دلعزیزی حاصل ہوتی ہے، غرض اس کے توسل سے ہر مقصد میں کامیابی ہوتی ہے، طریقِ توسل بھی اسی میں مذکور ہے۔''
نقشِ نعلین پاک کی آزمائی ہوئی فوائد و برکات میں سے یہ بھی ہے کہ جو شخص اس کو حصولِ برکت کی نیت سے اپنے پاس محفوظ رکھے تو اس کی برکت سے وہ شخص ظالم کے ظلم سے، دشمنوں کے غلبہ سے، شیاطین کے شر اورہر حاسد کی نظرِ بد سے حفاظت میں رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی حاملہ عورت شدت دردِ زہ میں اس کو اپنے دائیں پہلو پر رکھے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و مشیت سے اس خاتون پر آسانی فرمائے گا۔ اس نقش پاک کی برکتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ نظرِ بد اور جادو ٹونے سے آدمی امان میں رہتا ہے۔
نقشِ نعلین پاک کے حوالے سے امام ابن فہد مکی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ کی ایک کثیر تعداد نے اپنا اپنا یہ تجربہ بیان کیا کہ یہ جس لشکر میں ہو گا وہ فتح یاب ہو گا جس قافلے میں ہو گا وہ بحفاظت اپنی منزل پر پہنچے گا، جس کشتی میں ہو گا وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گی، جس گھر میں ہو گا وہ جلنے سے محفوظ رہے گا، جس مال و متاع میں ہو گا، وہ چوری سے محفوظ رہے گا اور کسی بھی حاجت کے لئے صاحبِ نعلین (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توسل کیا جائے تو وہ پوری ہو کر رہے گی اور اس توسل سے ہر تنگی فراخی میں تبدیل ہو گی۔
مصر کے ایک فاضل ادیب علامہ شرف الدین طنوبی رحمۃ اللہ علیہ نے نقش نعلین پاک کے فوائد و برکات کا تذکرہ بڑے ہی محبت بھرے اندازکے ساتھ اپنے ان اشعار میں کیا ہے۔
يا عاشقاً نعل الحبيب وما رأی
تمثالها هنيت بالتمثال
''اے عاشقِ حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے نعل حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کا نقشِ پاک مبارک ہو۔''
ضعه علی خديک ثم علی الحشا
و عليه و إلی الثمک المتول
''(اے عاشق) اسے اپنے رخسار پر رکھ پھر اسے اپنے پہلو پر رکھ اور اسے اپنے چہرے اور (آنکھوں پر) لگا کر (اظہارِ محبت و عقیدت کر)''
واعکف عليه عسی تفوز بيُمنه
فالسر قد يسری إلی الأشکال
''نقشِ نعل پاک کے ساتھ تعلق کو پختہ کر یقینا اس کی برکت سے تجھے کامیابی حاصل ہو گی اور خوش ہو جا کہ اس کے ذریعہ تیری مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔''
واجعل جبينک فوقه متبرکا
تحوی الفخار و غاية الأمال
''اپنی جبیں نیاز کو حصول برکت کے لئے نقش نعلین پاک پر جھکا دو، یہی تیرے لئے باعث افتخار ہے اور تمام امیدوں کا بر آنا اس میں پنہاں ہے۔''
واذکر حبيبک إذ بدت آثاره
وکأنه بذل العلی بوصال
''اپنے محبوب (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو یاد کر جب تو اُن کے آثار کو پائے گویا ان آثار کو پانا ہی بلند مرتبہ اور وصالِ (حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔''
إن غاب عنک ولو تعاين شکلها
فاعطف علی تمثالها المتعال
''اگر تیرے پاس نعلینِ پاک نہ ہو تو اس کے نقش کا تصور کر سکے تو (یہ تمہارے لئے بہتر ہے، لہٰذا) تو اس کے عظیم نقش سے محبت کا اظہار کر۔''
أکرم بتمثال تزايد يُمنه
روت الثقات له جميل فعال
''نعلین پاک کے نقش کے ساتھ اظہارِ محبت کر اس سے برکات میں اضافہ ہو گا اور مستند علماء نے بیان کیا ہے کہ اس کے کئی فوائد ہیں۔''
إن أمسکته حامل بيمينها
رأت الخلاص به و حسن خصال
''اگر نعلین پاک کا نقش کوئی حاملہ عورت اپنے دائیں پہلو پر رکھے تو اس سے اس کی تکلیف دور ہوجائے گی اور نیک خصلت والا بچہ پیدا ہو گا۔''
أو من به داء لأصبح ناقها
من ضر أوجاع ومن أوجال
''اسی طرح اگر کوئی خاتون کسی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کے صدقے سے اس کا درد اور بے چینی دور ہو جائے گی۔''
أو کان فی جيش لأصبح ظاهرا
أو منزل لنجا من الإشعال
''اور اس طرح اگر وہ نقش کسی لشکر کے پاس ہو تو وہ (دشمن پر) غالب آ جائے گا اور اگر یہی نقش کسی گھر میں ہو تو وہ گھر آگ لگنے سے محفوظ رہے گا۔''
وبه الأمان من العدو بنظرة
والسحر والشيطان ذی الإضلال
''اور یہی نقش دشمن، نظرِبد، جادو اور گمراہ کرنے والے شیطان سے محفوظ رہنے کا ذریعہ بنتا ہے۔''
والأمن من غرق ومن باغ ومن
کيد الحسود و سارق ختال
''اور اسی کی برکت سے انسان ڈوبنے سے، ظالم کے ظلم سے، حاسد کے حسد اور چور کے فریب سے محفوظ رہتا ہے۔''
فيه تمسک بالحبيب المصطفیٰ صلی الله عليه وآله وسلم
فعسی به تنجو من الأهوال
'' اس نقش کے ذریعے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق حبی مضبوط ہوتا ہے اور یقیناً اسی کے ذریعے خطرات سے نجات ملتی ہے۔''
لا يستوی قلب المعذب فی الهوی
لواعج الأدواء و قلب الخال
''محبت میں گرفتار دل جس کا علاج عشق کی دوا سے کیا جاتا ہے اور محبت سے خالی دل کبھی برابر نہیں ہوتے۔''
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 404، 405
برکاتِ نعلینِ پاک کے حوالے سے بعض واقعات و مشاہدات جن کو امام مقری نے اپنی کتاب ''فتح المتعال فی مدح النعال'' میں بیان کیا ہے، درج ذیل ہیں :
1۔ شدید درد کا ازالہ
ابو جعفر احمد بن عبدالمجید جو کہ بہت بڑے عالم با عمل اور متقی و پرہیزگار شخص تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک طالب علم کو نعلین پاک کا نقش بنوا دیا۔ ایک دن وہ میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ میں نے گذشتہ رات اس نقش کی ایک حیران کن برکت کا مشاہدہ کیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کونسی ایسی عجیب برکت دیکھی ہے؟ تو وہ کہنے لگا کہ میری اہلیہ کو اچانک اتنا شدید درد ہوا کہ جس کی وجہ سے وہ قریب المرگ تھی پس میں نے نعلین پاک کا یہ نقش اس کے درد والی جگہ پر رکھا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی :
''اللّٰهُمَّ أرِنَا بَرکَة صاحب هٰذا النَعلِ''
''اے اللہ! آج ہم پر صاحبِ نعل (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی برکت و کرامت ظاہر فرمادے۔''
اس طالب علم نے بیان کیا کہ پس اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے میری بیوی کو فوراً شفا عطا فرمائی۔
قسطلانی، المواهب اللدنيه، 2 : 466، 467
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 469
2۔ مفتی محمد قصار المغیشی حادثہ میں محفوظ رہے
شہر فاس کے مفتی شیخ محمد قصار کے بچپن کا واقعہ ہے جس کو ثقہ اہل علم نے بیان کیا ہے : وہ یہ کہ بچپن میں مفتی رحمۃ اللہ علیہ صاحب اپنے بعض رشتہ داروں کے ساتھ اپنے گھر کے نچلی منزل میں بیٹھے تھے۔ یہ بھی شہر فاس کی دیگر عام عمارتوں کی طرح ایک بڑی عمارت تھی جس کی بڑی بڑی دیواریں اور اونچے کمرے تھے۔ ان لوگوں کے سروں کے عین اوپر دیوار پر نقشِ نعلین پاک اس قدر بلندی پرلگا ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص کھڑا ہو تو وہ سر کے برابر ہو۔ اللہ کی شان اوپر والی منزل نچلی منزل پر گر گئی اور پوری عمارت منہدم ہوگئی۔ لوگوں نے ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی موت کا یقین کر لیا اور ایک دن سے زائد وہ ملبے تلے دے رہے۔ ایک دن کے بعد لوگ کفن دفن کی غرض سے ملبہ ہٹاتے ہٹاتے ان تک پہنچے تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ نیچے دبے ہوئے جملہ افراد نقشِ نعلینِ پاک کی برکت سے زندہ و سلامت ہیں اور انہیں کوئی گزند تک نہیں پہنچی۔
یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلینِ پاک کا صدقہ تھا کہ وہ اس جان لیوا حادثہ میں بال بال بچ گئے، ہوا یوں کہ جب اوپر والی دیوار گرگئی تو وہ ان پر مانند خیمہ ٹھہر گئی۔ دیوار کا اوپر والا حصہ اس جگہ سے جا لگا جس کے نیچے نعلین پاک تھا اور نچلا حصہ زمین میں کھڑا ہو گیا جس کے بعد مٹی پتھر وغیرہ پہاڑ کی طرح اوپر سے نیچے گرتے رہے، یہ لوگ اس کے نیچے محفوظ رہے۔ یوں اللہ سبحانہ و تعالی نے نعلین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے ان کو ہر قسم کی تکلیف اور نقصان سے اپنی حفاظت میں رکھا۔
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال، 470، 471
3۔ شیخ عبدالخالق بن حب النبی کا مشاہدہ
1۔ شیخ عبدالخالق بن حب النبی مالکی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال نصف رمضان کو مجھے ایک پھوڑا نکل آیا اور کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہے اس کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف لاحق ہوئی۔ میں اس مرض کے ماہر اطباء اور جراح کے پاس گیا مگر کوئی بھی اس تکلیف کو سمجھ سکا اور نہ کوئی اس کا علاج تجویز کر سکا۔ مجھے شدت تکلیف نے بے چین کیا ہوا تھا۔ پھر جب اچانک مجھے اس نقشِ نعلِ پاک کے فضائل و برکات یاد آئے تو میں نے اس نقش کو جائے تکلیف پر رکھا اور دعا کی :
اللّٰهُمَّ إنِّی أسئلُکَ بِحَقّ نَبِيّکَ مُحَّمَد صلی الله عليه وآله وسلم مَن مشی بالنعل أن تُعَافِينی مِن هٰذا المرض يا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.
''اے اللہ! تجھ سے تیرے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ دیتے ہوئے سوال کرتا ہوں جو کہ اس نعل مبارک میں چلتے رہے ہیں جس کا یہ نقش ہے۔ اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے پروردگار! مجھے اس بیماری سے شفا عطا فرما۔''
وہ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے ایک دن کے اندر ایسا افاقہ ہوا گویا کہ تکلیف تھی ہی نہیں۔''
2۔ اسی طرح ان کی ایک بچی تھی جس کی آنکھیں ایسی خراب ہوئیں کہ اطباء اسکے علاج سے عاجز آگئے ایک دن اس بچی نے ان سے کہا : میں نے سنا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعل پاک کے نقش کے بہت زیادہ فوائد و برکات ہیں مجھے بھی لاکر دیں، پس انہوں نے اس کو نقش مبارک دیا، اس بچی نے نقش کو اپنے آنکھوں پر رکھا تو نقش نعلین پاک کی برکت سے اس کی آنکھوں کی بیماری ختم ہوگئی۔
4۔ امام مقری کا مشاہدہ
1۔ صاحب فتح المتعال امام مقری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
اس نقشِ پاک کی فوائد و برکات کا میں نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ ہوا یوں کہ میں ذیقعدہ شریف 1027ھجری کو غرب جزائر میں ایک بحری جہاز پر سفر کر رہا تھا۔ سخت سردی کا موسم تھا۔ دریا خوب طغیانی پر تھا۔ سیلاب کے ایک تیز ریلے کے ساتھ جہاز کے کئی تختے ٹوٹ گئے، ہم سب ہلاکت کے قریب پہنچ گئے اور تمام لوگ اپنی نجات سے مایوس ہوگئے اور موت کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے کہ میں نے جہاز کے کپتان کے پاس نقش نعلین بھیجا کہ اس کی برکت سے خیر کی امید رکھے چنانچہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہم سب پر کرم فرمایا اور ہمیں صحیح و سلامت پار لگا دیا اور اسے سمندری سفر کے ماہرین نے بڑی کرامت کی نشانی شمار کیا۔
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 472
2۔ اسی سفر کے دوران راستے میں ایک مقام پر ڈاکوؤں کا قبضہ تھا جو لوگوں کو لوٹتے تھے ان کے پاس بہت سارا اسلحہ اور کثیر لوگ تھے۔ اللہ نے ہمیں اس نقشِ پاک کی برکت سے ان کی آنکھوں سے چھپائے رکھا اور ہم مدینہ منورہ میں صحیح سالم پہنچ گئے۔
3۔ اسی طرح ایک دن ہم دریا میں سفر پر تھے کہ سامنے ایک بہت بڑا پتھر ظاہر ہوا کہ اگر ہماری کشتی اس سے ٹکرا جاتی تو پاش پاش ہو جاتی۔ ہماری کشتی اس پہاڑی نما غار میں گھس گئی۔ اس پتھر نے ہمیں آگے پیچھے دائیں بائیں سے اس طرح گھیر لیا کہ اس پتھر اورہماری کشتی کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا۔ اس وقت دریا کی موجیں پورے جوبن پر تھیں۔ ہمیں یقین ہوگیا کہ اب تو ہماری کشتی ضرور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تباہ ہو جائے گی۔ پس ہم نے نقش نعلین کے ساتھ توسل کیا تو اللہ نے ہمیں اس مشکل سے رہائی عطا فرمائی۔
4۔ اسی طرح مجھ سے ایک ثقہ شخص نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ اسے ایک شدید مرض لاحق ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ قریب المرگ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا کہ نقشِ نعلین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے توسل کرو، اس نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم فرمایا اور وہ اس کی برکت سے شفایاب ہوگیا۔
5۔ اسی طرح یہ بھی مجھے بعض قابلِ اعتماد احباب نے بتایا کہ انہوں نے کئی دفعہ ایسے ممالک کا سفر کیا جن کے راستوں پر چوروں، رہزنوں کا ہر وقت خوف رہتا تھا اور عام طور پر ان کی لوٹ مار سے کوئی بھی مسافر نہیں بچتا تھا مگر چونکہ ان کے پاس نقشِ نعلینِ پاک تھا کئی مرتبہ ان کاسامنا چوروں کے ساتھ ہوا لیکن اس نقش کی برکت سے اللہ نے انہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 474 - 475
اس بحث سے ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ عشق و محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشیاء کی تعظیم و تکریم ہی زندگی کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ جیسا کہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور (ص)
تو پھر کہیں گے کہ ہاں، تاجدار ہم بھی ہیں



--
***Asif Rao***
**Sargodha**

11 Oct 2011

شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطا کاروں کے لئے



شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطا کاروں کے لئے
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حقِ شفاعت اور (بغير حساب) میری نصف امت کے جنت میں داخل کئے جانے کا اختیار دیا گیا؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرليا کیونکہ یہ زیادہ عام اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ متقین کے لئے ہے؟ نہیں! بلکہ وہ تو گناہگاروں، خطاکاروں اور معصیت میں آلودہ لوگوں کے لئے ہے۔
:: ابن ماجہ شریف، کتاب زهد، باب ذکرشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4311

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حقِ شفاعت اور (بغير حساب) میری نصف امت کے جنت میں داخل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرليا کیونکہ یہ زیادہ عام اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ متقین کے لئے ہے؟ نہیں! بلکہ وہ تو معصیت میں آلودہ لوگوں اور خطاکاروں کے لئے ہے۔
:: بداية والنهاية، 10 / 455.
مجمع الزوائد، 10 / 378

عبد الرحمٰن بن ابی رافع سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنتِ ابی طالب رضی اﷲ عنہا آراستہ ہوکر ایسے نکلی کہ ان کے کانوں کے زیورات نمایاں ہو رہے تھے۔ عمر بن خطاب نے انہیں دیکھ کر کہا : تو جان لے کہ بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے کچھ فائدہ نہ دیں گے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس کی خبر دی، پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس قوم کا کیا انجام ہوگا جو یہ گمان کرتی ہے کہ میری شفاعت میرے اہلِ بیت کو فائدہ نہیں دے گی حالانکہ میری شفاعت تو حَا اور حَکَم قبیلوں تک پہنچے گی۔
:: مجمع الزوائد، 9 / 257،
معجم الکبير، 24 / 434، الرقم : 1060

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے عبدالواحد نصری روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا کہ میں تمہارے دادا عبدالواحد بن عبداللہ بن بسر کے پاس سے گزرا جبکہ وہ ان دنوں حمص کے امیر تھے تو انہوں نے مجھے فرمایا : اے ابو عمرو! میں تجھے ایسی حدیث بیان نہ کروں جس سے تو خوش ہو؟ اللہ کی قسم! اکثر اوقات حاکموں نے اسے چھپایا ہے، میں نے کہا : کیوں نہیں! بیان فرمائیں، انہوں نے فرمایا : مجھ سے میرے والد عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : ہم ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس (خوشی سے) چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ تشریف لائے تو ہم (ادباً و تعظیماً) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے رخ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا : یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے، آپ کے دمکتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ہمیں خوشی ہو رہی ہے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک جبرئیل نے ابھی مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت کا حق عطا کیا ہے، یہ میری امت کے گناہگاروں اور گناہ سے بوجھل افراد کے لئے ہے۔
:: مجمع الزوائد، 10 / 377
اصابة فی تمييز الصحابة، 4 / 24، الرقم : 4568
معجم الأوسط، 5 / 304، الرقم : 5382

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنھم سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی امت کے برے لوگوں کے لئے سب سے بہتر آدمی میں ہوں. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! امت کے اچھے لوگوں کے لئے آپ کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے گنہگار لوگوں کو اللہ تعالیٰ میری شفاعت سے جنت میں داخل کرے گا، جبکہ میری امت کے اچھے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائے گا۔
:: مجمع الزوائد، 10 / 377.
معجم الکبير، 8 / 97، الرقم : 7483

''حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین مرتبہ فرماتے ہوئے سنا : درختوں اور پتھروں کی مقدار سے زیادہ، ہم نے (بغیر سمجھے تائید کرتے ہوئے) عرض کیا : جی ہاں! (ایسے ہی ہے تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، بے شک میری شفاعت پتھروں اور درختوں کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گی۔
:: کشف الخفاء، 2 / 462، الرقم : 2965
مجمع الزوائد، 10 / 379

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کے دوران راستہ میں قیام کیا. رات کا ایک حصہ گزرنے پر میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی جس کے باعث میں سو نہ سکا تو اٹھ کھڑا ہوا، اس وقت لشکر میں کوئی بھی ایسا جانور نہ تھا جو سو نہ گیا ہو، کجاوہ کے پچھلے حصہ کی جانب سے (کچھ گڑ بڑ ہونے کا) میرے ذہن میں خیال آیا تو میں نے اپنے آپ سے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا تاکہ ان کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے سکوں یہاں تک کہ صبح ہوجائے، پس میں کجاووں کے درمیان سے گزرتا ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کجاوے تک پہنچا تو آپ اپنے کجاوے پر موجود نہ تھے۔ لہٰذا میں کجاووں کو عبور کرتا ہوا لشکر سے باہر نکل گیا تو اچانک میں نے کسی چیز کا سایہ دیکھا، میں نے اس کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا تو وہ ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل تھے، انہوں نے مجھ سے کہا : کس چیز نے تمہیں (اس وقت لشکر سے) نکالا ہے؟ میں نے کہا : جس نے تمہیں نکالا ہے، ہم سے تھوڑا ہی دور ایک باغ تھا، ہم اس باغ کی طرف بڑھنے لگے، اس دوران ہم نے اس میں مکھیوں کے بھنبھنانے یا ہلکی سی ہوا چلنے جیسی آواز سنی، پس (ہمیں اس میں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنائی دی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا یہاں ابو عبیدہ بن جراح ہے؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور معاذ بن جبل بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں! آپ نے فرمایا : عوف بن مالک بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں موجود ہے، پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے تو ہم اٹھ کھڑے ہوئے نہ ہم نے آپ سے کچھ عرض کیا اور نہ آپ نے ہمیں کچھ ارشاد فرمایا، یہاں تک کہ آپ اپنی سواری کی طرف لوٹ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ میرے رب نے ابھی مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں! یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ میری تہائی امت بغير حساب کتاب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوجائے یا میں شفاعت کروں؟ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ! آپ نے کیا اختیار فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے شفاعت کو اختیار کر ليا، ہم تمام نے عرض کیا : یارسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت میں شامل فرما لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا : بے شک میری شفاعت ہر مسلمان کے لئے ہے۔
:: ترغيب والترهيب، 4 / 234، الرقم : 5501
الجامع، 11 / 413، معمر بن راشد
مجمع الزوائد، 10 / 369

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرئیل نے رات کو میرے پاس حاضر ہوکر مجھے خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت کا حق عطا کیا ہے۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا یہ بنی ہاشم کے لئے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں. ہم نے عرض کیا : کیا یہ قریش میں ہی عام ہے؟ فرمایا : نہیں. ہم نے عرض کیا : کیا یہ آپ کی ساری امت کے لئے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا اور فرمایا : یہ میری امت کے گناہگاروں اور گناہ سے بوجھل افراد کے لئے ہے۔
:: احاديث المختارة، 9 / 78، الرقم : 60،مقدسی
تاريخ دمشق الکبير، 27 / 163،ابن عساکر




--
***Asif Rao***

**Sargodha**

 
Copyright © 2010 Shan-e-Mustafa. All rights reserved.