11 Oct 2011

حُبِّ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم...



حُبِّ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم
مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ
ہروہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عقل و فہم کی دولت عطا فرمائی ہے وہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ حب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی روح ہے۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
شریعت مطہرہ نے ہر مسلمان پر حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے تمام خویش و اقارب، اعزہ و احباب سے زیادہ لازم کی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْ ھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتیّٰ یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَO (التوبہ:24)
میرے حبیب! فرما دیجئے کہ اے لوگو تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری عورتیں ، تمہارا کنبہ، تمہاری کمائی کے مال اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں ڈر رہتا ہے اور تمہاری پسند کے مکان، ان میں سے کوئی چیز بھی اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے تو انتظار کرو کہ اللہ اپنا عذاب اتارے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَاکَان لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ (التوبہ:120)
مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پیچھے بیٹھےرہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔
حضرت انس بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتیّٰ اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری ص7)
تم میں کوئی مومن نہ ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ و اولاد اور سب آدمیوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
اور انہی سے روایت ہے کہ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے:
ثَلاَثٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلاَ وَۃَ الْاِیْمَانِ اَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَا ھُمَا وَاَنْ یُّحِبَّ الْمَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ اِلاَّ لِلّٰہِ وَاَنْ یَّکْرَہَ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ (بخاری ص7)
جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت و حلاوت پالے گا۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کو تمام ماسوا سے زیادہ پیارے ہوں، دوسری یہ کہ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرے، تیسری یہ کہ وہ کفر میں لوٹ جانا ایسا بُرا سمجھے جیسا کہ آگ میں پھینکے جانے کو بُرا سمجھتا ہے۔
حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مَنْ لَّمْ یَرَوَ لاَ یَۃَ الرَّسُوْلِا فِی جَمِیْعِ اَحْوَالِہٖ وَلَمْ یَرَنَفْسَہٗ فِیْ مِلْکِہٖ لَمْ یَذُقْ حَلاَوَۃَ سُنَّۃٍ لِاَنَّہٗا قَالَ لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتیّٰ اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَّفْسِہٖ۔
جوہر حالت میں میں رسول اللہ ا کو اپنا مالک نہ جانے اور اپنی ذات کو ان کی ملکیت میں نہ سمجھے وہ حلاوت سنت سے محروم ہے کیونکہ آپ ا کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے زیادہ اس کو محبوب نہ ہو جاؤں۔ (زرقانی علی المواہب ص6 /313، شرح شفا للقاری ص 2 /25، 2 /6)
ان دو آیتوں اور تین حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ماں باپ و اولاد، عزیز و اقارب، دوست و احباب، مال و دولت، مسکن و وطن اور اپنی جان غرض کہ ہر چیزکی محبت سے زیادہ ضروری و لازم ہے اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و محبت نہ رکھے یا ان کی مخالفت کرے تو خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو اس سے دوستی اور محبت رکھنا جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَتَّخِذُوْآ اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوَلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلیَ الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَO (التوبہ: 23)
اے ایمان والو اپنے باپ اور بھائیوں کو بھی دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں اور جو تم میں سے ان سے دوستی کرے گا وہی ظالموں میں ہے۔
نیز فرمایا:
لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْکَانُوْآ اٰبَآئَ ھُمْ اَوْاَبْنَآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْط اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِینَ فیْھَاط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَO (المجادلہ:22)
تم نہ پاؤ گے انہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر کہ محبت کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرمادیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح سے ان کی امداد فرمائی اور ان کو داخل کرے گا باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ راضی ہوگیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوگئے اللہ سے، یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں آگاہ ہو جاؤ بے شک اللہ ہی کی جماعت فلاح پانے والی ہے۔
ان آیتوں سے صراحتہً ثابت ہوا کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی مخالفت کریں اور ایمان پر کفر کو پسند کریں اگر چہ وہ بہت ہی زیادہ قریبی ہوں ان سے دوستی و محبت رکھنا جائز نہیں بلکہ ظلم ہے اور بے دینی ہے۔ اس مضمون کی متعدد آیتیں اور حدیثیں موجود ہیں جب یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان و نجات کا دارومدار حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہے تو جس مومن کے دل میں آپ کی محبت کامل ہوگی اس کا ایمان بھی کامل ہوگا ورنہ ناقص اور اگر آپ کی محبت مطلقاً نہیں تو وہ قطعاً ایمان سے محروم ہے۔
اس مقام پر یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ اسلام کے دعوے دار تمام فرقے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مدعی ہیں۔ محبت ایسی چیز نہیں جو ظاہر ہو، اس کا تعلق دل سے ہے، اور ظاہر ہے کہ دلوں کا حال ہمیں معلوم نہیں۔ ایسی صورت میں ہم کس گروہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محب قرار دے کر مومن سمجھیں اور کس فرقہ کے دعویٔ محبت کو غلط جان کر اسے ناری قرار دیں؟
اس الجھن کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دین متین اور عقل سلیم کی روشنی میں محبت کا ایسا معیار تلاش کریں جس کے ذریعے حقیقت واقعیہ منکشف ہوجائے اور ہم بخوبی جان لیں کہ اصلی محبت کا حامل کون ہے۔
معیار محبت
اس سلسلہ میں بعض حضرات کا مسلک تویہ ہے کہ محبت کا معیار محبوب کی اتباع اور اس کی پیروی ہے کیونکہ محب، محبوب کا مطیع اور متبع ہوتا ہے۔
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٌ
قرآن کریم میں بھی فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران : 31)
میرے حبیب آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو
میری اتباع کرو (پھر) اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔
آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ محبت کی شرط اتباع و اطاعت ہے، لہٰذا جو گروہ متبع سنت اور پابند شریعت ہے، وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محب اور صحیح معنی میں مومن ہے۔
اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ اتباع و اطاعت جسے معیار محبت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال مبارکہ و اعمال مقدسہ کے مطابق مطلقاً عمل کرنے کا نام اتباع و اطاعت ہے یا اس میں کوئی قید بھی ملحوظ ہے؟ اگر ''مطلق عمل'' یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعمال مقدسہ کی صرف نقل کو اتباع و اطاعت قرار دیا جائے جن کی موافقت شرعاً مطلوب ہے تو وہ منافقین اور دشمنان دین بھی حضور کے متبع اور اللہ تعالیٰ کے محبوب قرار پائیں گے جو باوجود منافق ہونے اور اپنے دل میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت رکھنے کے نماز روزہ اور دیگر اعمال حسنہ کرتے تھے بلکہ صحیح احادیث میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ ایک بے دین و گمرہ قوم آخر زمانہ میں پیدا ہوگی وہ قرآن پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، سچے اور خالص مسلمان ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانیں گے، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں ہوں گی اور دل بھیڑیوں کے مثل ہوں گے، ان کے پاجامے ٹخنوں سے اونچے اور سر منڈے ہوئے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔
ایسی صورت میں اس ظاہری اتباع و سنت اور سنن کریمہ کے نقل کو کیونکر معیار محبت اور دلیل ایمان قرار دیا جاسکتا ہے؟ یہ تو نری نقالی ہے جو کسی حال میں محمود و مستحسن نہیں ہوسکتی، اس لئے ضروری ہے کہ اتباع و اطاعت کے معنی پر غور کیا جائے اور صحیح معیار محبت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فَاتَّبِعُوْنِیْ یُجْبِبْکُمُ اللّٰہُ فرما کر ہمیں بتا دیا کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ اللہ کی محبوبیت ہے۔ محبوب کا دشمن کبھی محبوب نہیں ہوسکتا پھر اللہ تعالیٰ کے محبوب کا دشمن اللہ تعالیٰ کا محبوب کیونکر ہوسکتا ہے، ثابت ہوا کہ اس آیۂ مبارکہ میں اتباع کے معنی محبت رسول کے بغیر صرف ان کے سنن کریمہ کی نقل کرنا نہیں بلکہ فَاتَّبِعُوْنِیْ کے معنی یہ ہیں کہ حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نشے میں مخمور اور ان کی الفت کے جذبات سے معمور ہو کر بتقاضائے الفت و محبت ان کی اداؤں کے سانچے میں ڈھل جاؤ گے، تو تم بھی محبوب و پیارے ہوجاؤ گے۔ یہ اتباع قطعاً حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی دلیل ہے۔
مگر بات جہاں تھی وہیں رہی، سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ فلاں گروہ یا فلاں شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت و محبت کے ساتھ ان کے سنن کریمہ پر عمل کررہا ہے، اور فلاں آدمی بغیر محبت کے محض نقالی میں مصروف ہے۔ آئیے اس سوال کا حل اور معیارِ محبت تلاش کریں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم: حُبُّکَ الَّشْیَٔ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ (مسند امام احمد، ابوداؤد 334ج2)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (کہ انسان کو جب کسی سے محبت ہوجاتی ہے تو) وہ محبت اس کو (محبوب کا عیب دیکھنے سے) اندھا اور (محبوب کا عیب سننے سے) بہرہ کردیتی ہے۔
اس مبارک حدیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ محبت کی ناقابل تردید دلیل اور صحیح معیار یہ ہے کہ مدعی محبت کی آنکھ اور کان محبوب کا عیب دیکھنے اور سننے سے پاک ہو، عقل سلیم کے نزدیک بھی محبت کا صحیح معیار یہی ہے کیونکہ محبت کا مرکز حسن و جمال ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ محبت والی آنکھ محبوب کی ذات میں کوئی عیب نظر آئے اوراگر کسی کو محبوب میں عیوب و نقائص نظر آتے ہیں تو وہ اپنے دعوی محبت میں جھوٹا ہے۔ محبت والی آنکھ کو واقعی عیب نظر نہیں آتا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو بے عیب ہیں۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عرض کرتے ہیں:
وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآئٗ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآئٗ
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھ نے آپ سا حسین و جمیل اور کوئی نہیں دیکھا کیونکہ آپ سا حسین و جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا کہ آپ ایسے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ آپ خود چاہتے تھے۔
ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے عیب ہیں اور جسے بے عیب میں عیب نظر آئے اس کا دعویٔ محبت کیوں کر درست ہوگا۔ اسی معیار پر موجود فرقوں کو پرکھ لیجئے۔
کوئی گروہ خلفائے راشدین اور محبوبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافر منافق کہہ کر ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کفر و نفاق کی محبت کا عیب لگا رہا ہے۔
کوئی آلِ اطہار کی شان میں گستاخیاں کر کے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچا رہا ہے۔ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال خاتمیت کا انکار کرکے تنقیص شانِ نبوت پر کمر باندھی ہوئی ہے۔
کوئی گرو ہ، تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کا انکار کرکے سرکار کی توہین و تکذیب میں مصروف ہے۔
کسی نے آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات علمیہ وعملیہ کا انکار کرکے تنقیصِ رسالت کی۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے، وہ ہمارے ہی جیسے بشر تھے، وہ ہمارے بڑے بھائی کے برابرتھے اور ان کی تعظیم فقط بڑے بھائی کی سی کرنی چاہیئے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ جیسا علم ان کو ہے ایسا تو ایرا غیرا نتھو خیرا، اور ہر پاگل، اور ہر نابالغ، اور ہر حیوان اور ہر چار پائے کو بھی ہے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ حضور کا علم تو شیطان لعین اور ملک الموت کے علم سے بھی کم ہے۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ ان کا میلاد شریف کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ہنود کنھیا کا جنم دن مناتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے نماز میں ان کی طرف خیال لے جانا، زنا کے وسوسے اپنی بی بی کی مجامعت کے خیال اور بیل اور گدھے کے خیال میں ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے۔
اور کوئی علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ ان سے بے شمار غلطیاں ہوئیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا۔
کسی نے کہا کہ جس طرح ہم بھول جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی بھولا کرتے تھے (معاذاللہ)
غرض کہ کیا کیا لکھا جائے۔ معمولی سمجھ رکھنے والا انسان اس حقیقت کو نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ عقل و شرع سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اہل محبت کو محبوب میں کوئی عیب نظر نہیں آتا اور نہ ان کا کان محبوب کا عیب سن سکتا ہے، تو جس قوم کا شب و روز یہی وتیرہ ہو کہ قرآن و حدیث اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں عیوب و نقائص ثابت کرنے کے درپے ہو وہ کیونکر سرکار کی محبت کے دعوے میں صادق ہوسکتی ہے؟
خدا کی قسم! حضور تو محمد ہیں اور محمد کے معنی ہی بے عیب ہیں، تو جس نے محمد کے اندر عیب مانا، اس نے محمد کو محمد ہی نہیں مانا۔ حضور کو محمد وہی مانتا ہے جو حضور کو بے عیب مانتا ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) پس ثابت ہوا کہ تمام فرقوں میں وہ فرقہ اپنے دعویٔ محبت میں سچا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عیوب و نقائص سے منزہ اور پاک مانتا ہے۔
علامت محبت
گزشتہ سطور میں ثابت ہوچکا کہ ایمان کا دار و مدار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہے اور محبت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ محب اپنے محبوب کا کثرت سے ذکر کرتا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہٗ کہ جس کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے وہ اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے۔ (زرقانی علی المواہب ص314 ج6)
پس جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی زیادہ محبت ہوگئی وہ اتنا ہی کثرت سے آپ کا ذکر کرے گا۔ معلوم ہوا آپ کا کثرت سے ذکر کرنا تقاضائے محبت و ایمان ہے۔
علامہ محاسبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عَلاَمَۃُ الْمُحِبِّیْنَ کَثْرَۃُ الذِّکْرِ لِلْمَحْبُوْبِ عَلیٰ طَرِیْقِ الدَّوَامِ لَاَیَنْقَطِعُوْنَ وَلاَ یَمْلُوْنَ وَلاَ یَفْتَرُوْنَ وَقَدْ اَجْمَعَ الْحُکَمَآئُ عَلیٰٓ اَنْ مَّنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِہٖ فِذِکْرُ الْمَحْبُوْبِ ھُوَالْغَالِبُ عَلیٰ قُلُوْبِ الْمُحِبِّیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ بِہٖ بَدَلاً وَّلاَ یَبْغُوْنَ عَنْہُ حَوْلاً وَلَوْ قَطَعُوْا عَنْ ذِکْرِ مَحْبُوْبِھِمْ لَفَسَدَ عَیْشُھُمْ وَمَا تَلَذَّ ذُالْمُتَلَذِّذُوْنَ بِشْئٍی اِلَّا مِنْ ذِکْرِ الْمَحْبُوْبِ (زرقانی علی المواہب ص314 ج6)
محبوں کی علامت یہ ہے کہ وہ محبوب کا ذکر کثرت سے دائمی طور پر اس طرح کرتے ہیں کہ نہ تو کبھی ذکر سے جدا ہوتے ہیں اور نہ کبھی چھوڑتے اور نہ کبھی کوتاہی کرتے ہیں اور حکماء کا اس پر اجماع ہے کہ محب محبوب کا ذکر کثرت سے کرتا ہے اور محبوب کا ذکر محبوں کے دلوں پر ایسا غالب ہوتا ہے کہ نہ تو وہ اس کا بدل چاہتے ہیں اور نہ ہی اس سے پھرنا۔ اور اگر ان کے محبوب کا ذکر ان سے جدا ہوجائے تو ان کی زندگی تباہ ہوجائے اور وہ کسی چیز میں لذت و حلاوت نہیں پاتے جو ذکر محبوب میں پاتے ہیں۔
وَمِنْ عَلاَمَاتِ مَحَبَّتِہٖ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ تَعْظِیْمُہٗ عِنْدَ ذِکْرِہٖ وَاِظْہَارُ الْخُشُوْعِ وَالْخُضُوْعِ وَالاِنْکِسَارِ مَعَ سِمَاعِ اسْمِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم (زرقانی علی المواہب ص315 ج6)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ آپ کے ذکر شریف کے وقت آپ کی تعظیم کی جائے اور خصوصاً آپ کے نام مبارک کے سننے کے وقت خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری کا اظہار کیا جائے۔
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وَمِنْ عِلاَمَاتِ مَحَبَّتِہ صلی اللہ علیہ وسلم کَثْرَۃُ الشَّوْقِ اِلیٰ لِقَآئِہٖ اِذْ کُلُّ حَبِیْبٍ یُّحِبُّ لِقَآئَ حَبِیْبِہٖ۔ (زرقانی علی المواہب ص317 ج6)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوںمیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی زیارت اقدس کا بہت زیادہ شوق ہو کیونکہ ہر محب اپنے محبوب کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے۔
وَمِنْ عِلاَمَاتِ مَحَبَّتِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یَّلْتَذَّ مُحِبُّہٗ بِذِکْرِہِ الشَّرِیْفِ وَیَطْرَبُ عِنْدَ سِمَاعِ اسْمِہِ الْمُنِیْفِ۔ (زرقانی علی المواہب ص322 ج6)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامتوںمیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کا محب آپ کے ذکر شریف سے روحانی لذت و سرور پائے اور آپ کے نام مبارک کے سننے کے وقت خوش ہو۔
اب ان لوگوں کی حالت کا اندزہ کیجئے جو آپ کے ذکر پاک، فضائل و کمالات صورت و سیرت کے بیان سے مسرور و شاداں نہیں، بلکہ دل تنگ ہوتے ہیں، کیا ان کا آپ کے ذکر پاک سے دل تنگ ہونا ایمان و محبت سے محروم ہونے کی کھلی ہوئی دلیل نہیں؟
آپ کا ذکر ذکرخدا ہے
حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جَعَلْتُ تَمَامَ الْاِیْمَانِ بِذِکْرِکَ مَعِیَ وَقَالَ اَیْضًا جَعَلْتُکَ ذِکْرًا مِّنْ ذِکْرِیْ فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرَنِیْ۔ (شفا شریف ص12 ج1)
میں نے ایمان کا مکمل ہونا اس بات پر موقوف کردیا کہ (اے محبوب) میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہو اور میں نے تمہارے ذکر کو اپنا ذکر ٹھہرا دیا ہے، پس جس نے تمہارا ذکر کیا، اس نے میرا ذکر کیا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقُوْلُ أَتَدْرِیْ کَیْفَ رَفْعَتُ ذِکْرَکَ قُلْتُ اللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِیَ۔
(زرقانی علی المواہب و درمنشور ص264 ج6)
میرے پاس جبریل آئے اور کہا بے شک آپ کا رب فرماتا ہے کہ (اے حبیب) تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذکر کیسا بلند کیا ہے۔ میں نے کہا اللہ خوب جانتا ہے۔ فرمایا کہ جب میرا ذکر ہوگا تو میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہوگا۔
چنانچہ قرآن پاک میں اللہ جل شانہ کے ذکر کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے دیکھئے۔
لِتُؤُمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (فتح:9) اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (حجرات:15) وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:62) اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:62) اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (مائدہ:92) اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (انفال:20) وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (نساء:13) وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (توبہ:71) وَاِنْ یُّطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حجرات:14) اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ (انفال:24) وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (نسائ:14) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:57) بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:ا) وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:3) مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلاَ رَسُوْلِہٖ(توبہ:16) اِنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ(توبہ:63) اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (مجادلہ:5) اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (مائدہ:33) وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:29) قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (انفال:13) فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (النساء) وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (انفال:13) ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حشر:4) مَااٰتَاھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:59) سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:59) اِنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (توبہ:54) اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:74) فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ (انفال:41) اَلَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (توبہ:90) وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ (توبہ:94) وَاِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (نور:48) اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَسُوْلُہٗ (نور:50) وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:31) اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:29) وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (احزاب:31) اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:36) لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (حجرات:12) وَیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (حشر:8) وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ (منافقون:8) مَاوَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (احزاب:22) وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (احزاب:36) اَطَعْنَااللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ (احزاب:66)
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
اَقْبَلَ اٰدَمُ عَلیٰٓ ابْنِہٖ شِیْثَ فَقَالَ اَیْ بُنَیَّ اَنْتَ خَلِیْفَتِیْ مِنْم بَعْدِیْ فَخُذْھَا بِعَمَارَۃِ التَّقْوٰی وَالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی فَکُلَّمَا ذَکَرْتَ اللّٰہَ فَاذْکُرْ اِلیٰ جَنْبِہٖ اسْمَ مُحَمَّدٍ فَاِنِّیْ رَاَیْتُ اسْمَہٗ مَکْتُوْبًا عَلیٰ سَاقِ الْعَرْشِ وَاَنَا بَیْنَ الرُّوْحِ وَالطِّیْنِ ثُمَّ اِنِّیْ طُفْتُ السَّمٰوٰتِ فَلَمْ اَرَفِی السَّمٰوٰتِ مَوْضِعًا اِلاَّ رَاَیْتُ اسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلَیْہِ وَاَنَّ رَبِّی اَسْکَنَنِی الْجَنَّۃَ فَلَمْ اَرَفِی الْجَنَّۃِ قَصْرًا وَّلاَ غُرْفَۃً اِلاَّ وَجَدْتُّ اِسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلَیْہِ وَلَقَدْ رَاَیْتُ اسْمَ مُحَمَّدٍ مَکْتُوْبًا عَلیٰ نُحُوْرِ الْحُوْرِ الْعِیْنِ وَعَلیٰ وَرْقِ قَصْبِ لِجَامِ الْجَنَّۃِ وَعَلیٰ وَرَقِ شَجَرَۃِ طُوْبیٰ وَعَلیٰ وَرَقِ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی وَعَلیٰٓ اَطْرَافِ الْحُجُبِ وَبَیْنَ اَعْیُنِ الْمَلٰٓئِکَۃِ فَاَکْثِرْ ذِکْرَہٗ فَاِنَّ الْمَلَآئِکَۃَ مِنْ قَبْلٍ تَذْکُرُ فِیْ کُلِّ سَاعَاتِھَا (زرقانی علی المواہب)
آدم علیہ السلام اپنے بیٹے شیث علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے میرے بیٹے تم میرے بعد میرے خلیفہ ہو۔ پس خلافت کو تقوی کے تاج اور محکم یقین کے ساتھ پکڑے رہو اور جب تم اللہ کا ذکر کرو تو اس کے متصل نام محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکر کرو کیونکہ میں نے ان کا نام عرش کے ستونوں پر لکھا ہوا دیکھا ہے جب کہ میں روح و مٹی کے درمیان تھا۔ پھر میں نے تمام آسمانوں پر نظر کی تو مجھے کوئی جگہ ایسی نظر نہیں آئی جہاں نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا نہ ہو۔ اور میرے رب نے مجھے جنت میں رکھا تو میں نے جنت کے ہر محل اور ہر بالا خانے اور برآمدے پر اور تمام حوروں کے سینوں پر اور جنت کے تمام درختوں کے پتوں پر اور شجر طوبیٰ اور سدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر اور پردوں کے کناروں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا دیکھا ہے، لہٰذا تو کثرت سے ان کا ذکر کیا کر۔ کیونکہ فرشتے ہر وقت ان کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔
آپ کی تعظیم فرض عین ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر فرض عین ہے بلکہ تمام فرائض کی اصل ہے اور آپ کی ادنیٰ توہین یا تکذیب کفر ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاصِیْلاً (الفتح: 9)
(اے نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا شاہد و مبشر و نذیر بنا کر تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔
اس آیۂ کریمہ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ اوّل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ دوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کرنا۔ سوم تسبیح یعنی اللہ کی عبادت کرنا۔ ایمان کو پہلے اس لئے رکھا کہ بغیر ایمان، تعظیم کچھ مفید نہیں اور تعظیم حبیب کو عبادت پر مقدم اس لئے فرمایا کہ بغیر تعظیم کے عمر بھر کی عبادت بے کار و مردود ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیّٓ اُنْزِلَ مَعَہٗ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الاعراف:157)
پس جو اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیۂ کریمہ میں بھی وہی ترتیب جمیل ہے۔ اوّل ان پر ایمان، دوم ان کی تعظیم اور سوم ان کے دین کی نصرت اور قرآن کریم کی اتباع، ثابت ہوا کہ ایک مومن پر ایمان لاتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر فرض ہوجاتی ہے۔ اور اگر اس تعظیم میں فرق آجائے تو سارے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ فرمایا:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لاَتَشْعُرُوْنَ o اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ لِلتَّقْوٰی لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ o (الحجرات:2)
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز سے اونچی نہ کرو اور ان کی حضوری میں بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ بیشک وہ جو اپنی آوازیں رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور پست کرتے ہیں وہ ہیں جن کا دل اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لئے رکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
اس آیۂ کریمہ میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام اور اجلال و اکرام تعلیم فرمایا گیا ہے کہ ادب و احترام کا پورا لحاظ رکھیں ورنہ نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور پھر جب صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر پورا پورا عمل کیا، اور خدمت اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی اور ان کو عظیم الشان مژدے سنائے اور جنہوں نے ترک ادب کیا ان کو بے عقل بتایا چنانچہ فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْقِلُوْنَo وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْاحَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (الحجرات:5)
بے شک وہ جو (اے حبیب) تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جب کہ وہ دوپہر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ اس وقت آرام فرمارہے تھے، انہوں نے آپ کا نام لے کر پکارنا شروع کیا، آپ باہر تشریف لائے۔ اس پر فرمایا گیا کہ اس طرح آپ کو پکارنا ادب کے خلاف اور جہالت و بے عقلی ہے بلکہ بہتر یہ تھا کہ یہ لوگ اتنا صبر کرتے کہ آپ ان کے پاس خود تشریف لاتے۔ فرمایا:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلیْمٌ (البقرہ:104)
اے ایمان والوں (ہمارے حبیب کو) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور سن لو! کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کرتے رَاعِنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی حضور ہمارے حال کی رعایت فرمائیے اور کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہی لفظ ''رَاعِنَا'' یہود کی زبان میں گستاخی و بے ادبی کا لفظ تھا۔ انہوں نے یہی لفظ گستاخی و بے ادبی کی نیت سے بولنا شروع کردیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اے ایمان والو ایسا کلمہ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مت کہو جس سے دشمن کو گستاخی و بدگوئی کا موقع مل جائے۔ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ؎
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا




--
***Asif Rao***
**Sargodha**

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر بے سایہ

سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم پاک کا سایہ نہیں تھا نہ سورج کی دھوپ میں نہ چراغ کی روشنی میں، سرکار کا نور سورج اور چراغ کے نور پر غالب رہتا تھا۔ (الخصائص الکبرٰی ج1، صفحہ68 از نفی الظل، علامہ کاظمی زرقانی علی المواہب ج4 صفحہ 220، جمع الوسائل للقاری ج1 صفحہ 176)
(حدیث2) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی کتاب نوادر الاصول میں حضرت ذکوان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں : عن ذکوان ان رسول اللہ علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمر
سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ مبارک نہ سورج کی دھوپ میں نظر آتا تھا نہ چاندنی میں۔ (المواہب اللدنیہ علی الشمائل المحمدیہ صفحہ30 مطبع مصر)
(حدیث3) امام نسفی تفسیر مدارک شریف میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث نقل فرماتے ہیں:
قال عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ان اللہ ما اوقطع ظلک علی الارض لئلا یضع انسان قدمہ علی ذالک الظل۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ خدا عزوجل نے آپ کا سایہ زمین پر پڑنے نہیں دیا تاکہ اس پر کسی انسان کا قدم نہ پڑ جائے۔ (مدارک شریف ج2 صفحہ 103)
(حدیث4) حضرت امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خصائص کبرٰی شریف میں ابن سبع سے یہ روایت نقل فرمائی:
قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ظلہ کان لا یقع علی الارض لانہ کان نورا اذا مشی فی الشمس اولقمر لا ینظرلہ ظل قال بعضھم ویشھدلہ حدیث قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ودعائہ فاجعلنی نورا
ابن سبع نے کہا کہ یہ بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ سرکار کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ نور تھے، آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں جب چلتے تھے تو سایہ نظر نہیں آتا تھا۔ بعض ائمہ نے کہا ہے کہ اس واقعہ پر حضور کی وہ حدیث شاہد ہے جس میں حضور کی یہ دعاء منقول ہے کہ پروردگار مجھے نور بنا دے۔ ( خصائص کبرٰی ج1 صفحہ68 )
اس مسئلہ کا ثبوت اسلاف کے اقوال سے
(1) امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "لم یقع ظلہ علی الارض ولا یری لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نورا قال زرین فغلبہ انوارہ۔"حضور کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور نہ آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں سایہ نظر آتا تھا، ابن سبع اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نور تھے، زریں نے کہا کہ حضور کا نور سب پر غالب تھا۔ (النموذج اللبیب)
(2) وقت کے جلیل القدر امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "وما ذکر من انہ لاظل لشخصہ فی شمس ولا فی قمر لانہ کان نورا وان الذباب کان لا یقع علی جسدہ ولا ثیابہ۔" یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جسم مبارک کا سایہ نہیں پڑتا تھا تو اس کی وجہ یہ ہے حضور نور تھے۔ (شفا شریف لقاضی عیاض ج1، صفحہ 342۔ 343)
(3) امام علامہ احمد قسطلانی ارشاد فرماتے ہیں: "قال لم یکن لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل فی شمس ولا قمر رواہ الترمذی عن ابن ذکوان وقال ابن سبع کان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نورا فکان اذا مشی فی الشمس او القمر لہ ظل۔" سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ نہ آفتاب کی روشنی میں پڑتا تھا نہ ماہتاب کی چاندی میں، ابن سبع اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نور تھے، اسی لئے چاندنی اور دھوپ میں چلتے تھے تو جسم پاک کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ (موالب اللدنیہ ج1 صفحہ180 زرقانی ج4 صفحہ220)
(4) امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں : "ومما یوید انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم صار نورا انہ اذا مشی فی الشمس اوالقمر لا یظھر لہ ظل لانہ لا یظھر الا لکشیف وھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قد خلصہ اللہ تعالٰی من سائر الکشافات الجسمانیہ وصیرہ نورا صرفا لا یظھر لہ ظل اصلا۔" اس بات کی تائید میں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے اسی واقعہ کا اظہار کافی ہے کہ حضور پاک کے جسم مبارک کا سایہ نہ دھوپ میں پڑتا تھا، نہ چاندنی میں، اس لئے کہ سایہ کثیف چیز کا ہوتا ہے، اور خدائے پاک نے حضور کو تمام جسمانی کثافتوں سے پاک کرکے انھیں "نور محض" بنا دیا تھا اس لئے ان کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ (افضل القرٰی صفحہ72)
(5) محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: نبود مرآں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم را سایہ نہ در آفتاب و نہ در قمر۔ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ آفتاب کی روشنی میں پڑتا تھا نہ ماہتاب کی چاندنی میں۔ (مدراج النبوۃ ج1، صفحہ21)
(6) امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: "حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سایہ نبود در عالم شہادت سایہ ہر شخص از شخص لطیف تراست چوں لطیف ترازدے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم در عالم نباشد اور اسایہ چہ صورت دارد۔" حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم شہادت میں ہر چیز سے اس کا سایہ لطیف ہوتا ہے، اور سرکار کی شان یہ ہے کہ کائنات میں ان سے زیادہ کوئی لطیف چیز ہے ہی نہیں، پھر حضور کا سایہ کیونکر پڑتا۔ (مکتوبات امام ربانی ج3 صفحہ147 مطبوعہ نو لکشور لکھنئو۔)
(7) امام راغب اصفہانی (م450) ارشاد فرماتے ہیں: "روی ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کان اذا مشی لم یکن لہ ظل۔" مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم چلتے تو آپ کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ (المعروف الراغب)
( 8 ) امام العارفین مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:
چوں فناش از فقر پیرایہ شود
او محمد وار بے سایہ شود
جب فقر کی منزل میں درویش فنا کا لباس پہن لیتا ہے، تو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرح اس کا بھی سایہ زائل ہو جاتا ہے۔ (مثنوی معنوی دفتر پنجم)
(9) امام المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: "از خصوصیاتے کہ آن حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رادر بدن مبارکش دادہ بودن کہ سایئہ ایشاں برز میں نہ می افتاد۔" جو خصوصیتیں نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بدن مبارک میں عطا کی گئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا



--
***Asif Rao***
**Sargodha**

10 Oct 2011

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مزار مبارک اور صحابہ کرام کا عقیدہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مزار مبارک اور صحابہ کرام کا عقیدہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد اکثر روضہ مبارک پر حاضر ہوا کرتی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اہلِ مدینہ کو قحط سالی کے خاتمے کے لئے قبرِ انور پر حاضر ہو کر توسل کرنے کی تلقین فرمائی۔ ’’مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے (اپنی دگرگوں حالت کی) شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس جاؤ اور اس سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھولو کہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی دیر تھی کہ بہت زیادہ بارش ہوئی حتی کہ خوب سبزہ اُگ آیا اور اونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے۔ لہٰذا اُس سال کا نام ہی ’عامُ الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال)‘ رکھ دیا گیا۔
:: سنن دارمی، 1 : 56، رقم : 92
مسندامام احمدبن حنبل، 6 : 202
مجمع الزوائد، 9 : 37
مواهب اللدنية، 4 : 276
وفا بأحوال المصطفيٰ : 817، 818، رقم : 1534
شفاء السقام في زيارت خير الأنام : 128
وفاء الوفا، 2 : 560
إمتاع الأسماع، 14 : 615

جب حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے خط پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو شام کی طرف کوچ کرنے کے لیے شہر سے باہر نکلنے کو کہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے مسجد نبوی میں حاضر ہوکر چار رکعت نماز ادا کی، پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس پر حاضری دی اور (بارگاہِ نبوت میں) سلام عرض کیا۔کعب الاحبار کے قبولِ اسلام کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا : ’’کیا آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کی زیارت اور فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ مدینہ منورہ چلیں گے؟‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’جی! امیر المؤمنین۔‘‘ پھر جب کعب الاحبار اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سب سے پہلے بارگاہِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری دی اور سلام عرض کیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مدفن مبارک پر کھڑے ہوکر اُن کی خدمت میں سلام عرض کیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی
:: فتوح الشام، 1 : 306، 307۔،2۔1 : 318
جوهر المنظم : 27، 28
محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب روتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے۔’’یہی وہ جگہ ہے جہاں (فراقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آنسو بہائے جاتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میری قبر اور منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
:: شعب الإيمان، 3 : 491، رقم : 4163
مجمع الزوائد، 4 : 8
مسندامام احمدبن حنبل، 3 : 389

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا تو سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے خواب میں آئے اور فرمایا ۔’’اے بلال! یہ فرقت کیوں ہے؟ اے بلال! کیا تو ہم سے ملاقات نہیں چاہتا؟‘‘
اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ اَشک بار ہو گئے۔ انہوں نے مدینے کی طرف رختِ سفر باندھا، روضہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دی اور بے چین ہوکر غمِ فراق میں رونے اور تبرکاً اپنے چہرے کو روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ملنے لگے.
:: شفاء السقام في زيارت خيرالأنام : 39
جوهر المنظم : 27

حضرت داؤد بن صالح سے فرماتےہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے تو مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کررہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے جواب دیا۔ ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔(اس کو حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ )
:: مسندامام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، 5 : 422
معجم الکبير، 4 : 158، رقم : 3999
مستدرک، 4 : 515، رقم : 8571

حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ فرماتےہیں۔حضرت عمر (بن خطاب) رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے۔ پھر ایک صحابی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ اطہر پر آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ (اللہ تعالیٰ سے) اپنی امت کے لئے سیرابی مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہو رہی ہے۔ پھر خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس آئے اور فرمایا کہ عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ تم سیراب کیے جاؤ گے۔ اور عمر سے کہہ دو : عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو۔ پھر وہ صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ فرمایا : اے اللہ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہوجاؤں۔
:: شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 130
دلائل النبوة، 7 : 47
کنز العمال، 8 : 431، رقم : 23535
الاستيعاب في معرفة الأصحاب، 3 : 1149






قحط کے زمانے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے تھے (دعا کے الفاظ یہ ہوتے) اے اللہ! ہم اپنے نبی ﷺ کو وسیلہ بنا کر تجھ سے قحط کے زمانے میں بارش چاہتے تھے اور تو مینہ برساتا تھا، اب ہم نبی ﷺ کے محترم چچا کے وسیلے سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ (ان کی دعا اور سفارش سے) بارش نازل فرما، ا س دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کا ابر کرم خوب برستا۔ (بخاری عن انس، کتاب الاستسقا، فضائل اصحاب النبی ﷺ)عہدِ فاروقی میں9 ماہ تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے شدید قحط رونما ہوا اور یہ سال تاریخ میں ’’عام الرماد‘‘ (یعنی راکھ کا سال) کے نام سے مشہور ہے۔ قحط کی وجہ سے لوگوں کا رنگ راکھ کی طرح ہو گیا تھا، اس لئے اسے’’عام الرماد‘‘ کہتے ہیں۔ حکومت نے اس سال لوگوں سے زکوٰۃ وصول نہ کی بلکہ اسے دوسرے سال تک مؤخر کر دیا۔ یہ 18 ہجری کا واقعہ ہے۔ (مخزن اخلاق

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ۔”ولو انھم اذظلمواانفسھم جاؤک فاستغفرلھم الرسول لوجدوا توابا رحیما “(۱)۔
اے رسول جب یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں تو آپ کے پاس آتے ہیں اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور رسول بھی انکے لئے استغفارکرے تو خدا وند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے ۔

شاعر خاص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ



آج آپ سب کی خدمت میں قصیدہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ پیش کروں گا

آج سے 14 سو سال قبل ایک شاعر نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے حجویہ اشعار کہے تھے۔ جب وہ اشعار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شاعر خاص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: کہ حسان اٹو منبر پر بیٹھو اور ان اشعار کا جواب دو۔حضرت حسان بن ثابت نے ان حجویہ اشعار کا جواب کچھ اس طرح سے دیا اردو ترجمے میں ملاحظہ فرمائیں:
میرے آقا میرے مولا،میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ،محمد رسول اللہ

جہاں میں‌ ان سا چہرہ ہے نہ ہے خندہ جبیں کوئی
ابھی تک جن سکیں نہ عورتیں ان سا حسین کوئی
نہیں رکھی ہے قدرت نےمیرے آقا کمی تجھ میں
جو چاہا آپ نے مولا وہ رکھا ہے سبھی تجھ میں

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ ،محمد رسول اللہ

بدی کا دور تھا ہر سو جہالت کی گھٹائیں تھیں
گناہ و جرم سے چاروں طرف پھیلی ہوائیں تھیں
خدا کے حکم سے نا آشنا مکے کی بستی تھی
 
گناہ و جرم سے چاروں طرف وحشت برستی تھی
خدا کے دین کو بچوں کا ایک کھیل سمجھتے تھے
خدا کو چھوڑ کر ہر چیز کو معبود کہتے تھے
وہ اپنے ہاتھ ہی سے پتھروں کے بُت بناتے تھے
انہی کے سامنے جھکتے انہی کی حمد گاتے تھے
کسی کا نام "عُزی"تھا کسی کو "لات" کہتے تھے
"ہُبل" نامی بڑے بُت کو بتوں کا باپ کہتے تھے
اگر لڑکی کی پیدائش کا ذکر گھر میں سن لیتے
تو اُُس معصوم کو زندہ زمیں میں دفن کر دیتے
پر جو بھی بُرائی تھی سب ان میں‌ پائی جاتی تھی
نہ تھی شرم و حیا آنکھوں‌ میں گھر گھر بے حیائی تھی
مگر اللہ نے ان پر جب اپنا رحم فرمایا
تو عبداللہ کے گھر میں خدا کا لاڈلا آیا
عرب کے لوگ اس بچے کا جب اعزاز کرتے تھے
تو عبدالمطلب قسمت پر اپنی ناز کرتے تھے
خدا کے دین کا پھر بول بالا ہونے والا تھا
محمد سے جہاں میں پھر اُجالا ہونے والا تھا

میرے آقا میرے مولا،میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ

فرشتہ ایک اللہ کی طرف سے ہم میں حاضر ہے
خدا کے حکم سے جبرئیل بھی اک فرد لشکر ہے
سپہ سالار اور قائد ہمارے ہیں رسول اللہ
 
مقابل ان کے آؤ گے ملے گی ذلت کُبری
ہمیں فضل خدا سے مل چکی ایماں‌ کی دولت ہے
ملی دعوت تمہیں پر سر کشی تم سب کی فطرت ہے
سنو اے لشکر کفار ہے اللہ غنی تم سے
لیا تعمیر زمیں کا کام ہے اللہ نے ہم سے
لڑائی اور بد ہو زمن میں بھی ہم کو مہارت ہے
قبیلہ معاذ سے ہر روز لڑنا تر سعادت ہے
زبانی جنگ میں شعر و قوافی خوب کہتے ہیں
لڑائی جب بھی لڑتے ہیں‌ لہو دشمن کے بہتے ہیں

میرے آقا میرے مولا،میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ،محمد رسول اللہ

محمد کے تقدس پر زبانیں جو نکالیں گے
خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے(ان شاءاللہ)
کہاں رفعت محمد کی کہاں تیری حقیقت ہے
شرارت ہی شرارت بس تیری بے چین فطرت ہے
مذمت کر رہا ہے تُو شرافت کے مسیحا کی
امانت کے دیانت کے صداقت کے مسیحا کی
اگر گستاخ ناموس احمد کر چکے ہو تم
تو اپنی زندگی سے قبل ہی بس مر چکے ہو تم
میرا سامان جان و تن فدا ان کی رفاقت پر
 
میرے ماں باپ ہو جائیں نثار ان کی محبت پر
زبان رکھتا ہوں ایسی جس کو سب تلوار کہتے ہیں
میرے اشعار کو اہل جہاں ابحار کہتے ہیں

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ

--
***Asif Rao***
**Sargodha**

شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطا کاروں کے لئے



شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطا کاروں کے لئے
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حقِ شفاعت اور (بغير حساب) میری نصف امت کے جنت میں داخل کئے جانے کا اختیار دیا گیا؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرليا کیونکہ یہ زیادہ عام اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ متقین کے لئے ہے؟ نہیں! بلکہ وہ تو گناہگاروں، خطاکاروں اور معصیت میں آلودہ لوگوں کے لئے ہے۔
:: ابن ماجہ شریف، کتاب زهد، باب ذکرشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4311

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حقِ شفاعت اور (بغير حساب) میری نصف امت کے جنت میں داخل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرليا کیونکہ یہ زیادہ عام اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ متقین کے لئے ہے؟ نہیں! بلکہ وہ تو معصیت میں آلودہ لوگوں اور خطاکاروں کے لئے ہے۔
:: بداية والنهاية، 10 / 455.
مجمع الزوائد، 10 / 378

عبد الرحمٰن بن ابی رافع سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنتِ ابی طالب رضی اﷲ عنہا آراستہ ہوکر ایسے نکلی کہ ان کے کانوں کے زیورات نمایاں ہو رہے تھے۔ عمر بن خطاب نے انہیں دیکھ کر کہا : تو جان لے کہ بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے کچھ فائدہ نہ دیں گے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس کی خبر دی، پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس قوم کا کیا انجام ہوگا جو یہ گمان کرتی ہے کہ میری شفاعت میرے اہلِ بیت کو فائدہ نہیں دے گی حالانکہ میری شفاعت تو حَا اور حَکَم قبیلوں تک پہنچے گی۔
:: مجمع الزوائد، 9 / 257،
معجم الکبير، 24 / 434، الرقم : 1060


حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے عبدالواحد نصری روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا کہ میں تمہارے دادا عبدالواحد بن عبداللہ بن بسر کے پاس سے گزرا جبکہ وہ ان دنوں حمص کے امیر تھے تو انہوں نے مجھے فرمایا : اے ابو عمرو! میں تجھے ایسی حدیث بیان نہ کروں جس سے تو خوش ہو؟ اللہ کی قسم! اکثر اوقات حاکموں نے اسے چھپایا ہے، میں نے کہا : کیوں نہیں! بیان فرمائیں، انہوں نے فرمایا : مجھ سے میرے والد عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : ہم ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس (خوشی سے) چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ تشریف لائے تو ہم (ادباً و تعظیماً) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے رخ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا : یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے، آپ کے دمکتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ہمیں خوشی ہو رہی ہے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک جبرئیل نے ابھی مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت کا حق عطا کیا ہے، یہ میری امت کے گناہگاروں اور گناہ سے بوجھل افراد کے لئے ہے۔
:: مجمع الزوائد، 10 / 377
اصابة فی تمييز الصحابة، 4 / 24، الرقم : 4568
معجم الأوسط، 5 / 304، الرقم : 5382

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنھم سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی امت کے برے لوگوں کے لئے سب سے بہتر آدمی میں ہوں. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! امت کے اچھے لوگوں کے لئے آپ کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے گنہگار لوگوں کو اللہ تعالیٰ میری شفاعت سے جنت میں داخل کرے گا، جبکہ میری امت کے اچھے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائے گا۔
:: مجمع الزوائد، 10 / 377. 
معجم الکبير، 8 / 97، الرقم : 7483

''حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین مرتبہ فرماتے ہوئے سنا : درختوں اور پتھروں کی مقدار سے زیادہ، ہم نے (بغیر سمجھے تائید کرتے ہوئے) عرض کیا : جی ہاں! (ایسے ہی ہے تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، بے شک میری شفاعت پتھروں اور درختوں کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گی۔
:: کشف الخفاء، 2 / 462، الرقم : 2965
مجمع الزوائد، 10 / 379

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کے دوران راستہ میں قیام کیا. رات کا ایک حصہ گزرنے پر میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی جس کے باعث میں سو نہ سکا تو اٹھ کھڑا ہوا، اس وقت لشکر میں کوئی بھی ایسا جانور نہ تھا جو سو نہ گیا ہو، کجاوہ کے پچھلے حصہ کی جانب سے (کچھ گڑ بڑ ہونے کا) میرے ذہن میں خیال آیا تو میں نے اپنے آپ سے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا تاکہ ان کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے سکوں یہاں تک کہ صبح ہوجائے، پس میں کجاووں کے درمیان سے گزرتا ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کجاوے تک پہنچا تو آپ اپنے کجاوے پر موجود نہ تھے۔ لہٰذا میں کجاووں کو عبور کرتا ہوا لشکر سے باہر نکل گیا تو اچانک میں نے کسی چیز کا سایہ دیکھا، میں نے اس کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا تو وہ ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل تھے، انہوں نے مجھ سے کہا : کس چیز نے تمہیں (اس وقت لشکر سے) نکالا ہے؟ میں نے کہا : جس نے تمہیں نکالا ہے، ہم سے تھوڑا ہی دور ایک باغ تھا، ہم اس باغ کی طرف بڑھنے لگے، اس دوران ہم نے اس میں مکھیوں کے بھنبھنانے یا ہلکی سی ہوا چلنے جیسی آواز سنی، پس (ہمیں اس میں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنائی دی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا یہاں ابو عبیدہ بن جراح ہے؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور معاذ بن جبل بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں! آپ نے فرمایا : عوف بن مالک بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں موجود ہے، پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے تو ہم اٹھ کھڑے ہوئے نہ ہم نے آپ سے کچھ عرض کیا اور نہ آپ نے ہمیں کچھ ارشاد فرمایا، یہاں تک کہ آپ اپنی سواری کی طرف لوٹ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ میرے رب نے ابھی مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں! یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ میری تہائی امت بغير حساب کتاب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوجائے یا میں شفاعت کروں؟ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ! آپ نے کیا اختیار فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے شفاعت کو اختیار کر ليا، ہم تمام نے عرض کیا : یارسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت میں شامل فرما لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا : بے شک میری شفاعت ہر مسلمان کے لئے ہے۔
:: ترغيب والترهيب، 4 / 234، الرقم : 5501
الجامع، 11 / 413، معمر بن راشد
مجمع الزوائد، 10 / 369

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرئیل نے رات کو میرے پاس حاضر ہوکر مجھے خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت کا حق عطا کیا ہے۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا یہ بنی ہاشم کے لئے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں. ہم نے عرض کیا : کیا یہ قریش میں ہی عام ہے؟ فرمایا : نہیں. ہم نے عرض کیا : کیا یہ آپ کی ساری امت کے لئے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا اور فرمایا : یہ میری امت کے گناہگاروں اور گناہ سے بوجھل افراد کے لئے ہے۔
:: احاديث المختارة، 9 / 78، الرقم : 60،مقدسی
تاريخ دمشق الکبير، 27 / 163،ابن عساکر




--
***Asif Rao***
**Sargodha**

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ علم اور معرفت


الحديث رقم 10 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : بدء الخلق، باب : ما جاء في قول اﷲ تعالي : وهو الذي يبدأ الخلق ثم يعيده وهوأهون عليه، 3 / 1166، الرقم : 3020.

''حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز ہمارے درمیان قیام فرما ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخلوقات کی ابتدا سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہو جانے تک ہمیں سب کچھ بتا دیا۔ جس نے اسے یاد رکھا، یاد رکھا اور جو اسے بھول گیا سو بھول گیا۔

الحديث رقم 11 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : القدر، باب : وکان أمر اﷲ قدرا مقدورا، 6 / 2435، الرقم : 6230، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفتن وأشراط الساعة، باب : اخبار النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيما يکون إلي قيام الساعة، 4 / 2217، الرقم : 2891، والترمذي مثله عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه في السنن، کتاب : الفتن عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء أخبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم أصحابه بما هو کائن إلي يوم القيامة، 4 / 483، الرقم : 2191، وأبوداود في السنن، کتاب : الفتن والملاحم، باب : ذکر الفتن ودلائلها، 4 / 94، الرقم : 4240، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 385، الرقم : 23322، والبزار في المسند، 7 / 231، الرقم : 8499، وقال : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، والطبراني مثله عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه في مسند الشاميين، 2 / 247، الرقم : 1278، والخطيب التبريزي في مشکوٰة المصابيح، 2 / 278، الرقم : 5379.

''حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان ایک مقام پر کھڑے ہو کر خطاب فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس دن کھڑے ہونے سے لے کر قیامت تک کی کوئی ایسی چیز نہ چھوڑی، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان نہ فرما دیا ہو۔ جس نے اسے یاد رکھا یاد رکھا اور جو اسے بھول گیا سو بھول گیا۔

الحديث رقم 12 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفتن وأشراط الساعة، باب : إخبار النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيما يکون إلي قيام الساعة، 4 / 2217، الرقم : 2892، والترمذي في السنن، کتاب : الفتن عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء ما أخبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم أصحابه بما هو کائن إلي يوم القيامة، 4 / 483، الرقم : 2191، وابن حبان في الصحيح، 15 / 9، الرقم : 6638، والحاکم في المستدرک، 4 / 533، الرقم : 8498، وأبويعلي في المسند، 12 / 237، الرقم : 2844، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 28، الرقم : 46، والشيباني في الأحاد والمثاني، 4 / 199، الرقم : 2183.

''حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر میں ہماری امامت فرمائی اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ہمیں خطاب فرمایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہوگیا' پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے تشریف لے آئے نماز پڑھائی بعد ازاں پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتی کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر منبر سے نیچے تشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہر اس بات کی خبر دے دی جو جو آج تک وقوع پذیر ہو چکی تھی اور جو قیامت تک ہونے والی تھی۔ حضرت عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم میں زیادہ جاننے والا وہی ہے جو ہم میں سب سے زیادہ حافظہ والا تھا۔

الحديث رقم 13 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفتن وأشراط الساعة، باب إخبار النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيما يکون إلي قيام الساعة، 4 / 2217، الرقم : 2891، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 386، الرقم : 23329، والحاکم في المستدرک، 4 / 472، الرقم : 8311، والبزار في المسند، 7 / 222، الرقم : 2795، والطيالسي في المسند، 1 / 58، الرقم : 433، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 912، الرقم : 996، وإسناده صحيح، والمقرئ في السنن الواردة في الفتن، 4 / 889، الرقم : 458.

''حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قیامت تک رونما ہونے والی ہر ایک بات بتا دی اور کوئی ایسی بات نہ رہی جسے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا نہ ہو البتہ میں نے یہ نہ پوچھا کہ اہلِ مدینہ کو کون سی چیز مدینہ سے نکالے گی؟'

-
***Asif Rao***
**Sargodha**

(قصیدہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ




آج آپ سب کی خدمت میں قصیدہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ پیش کروں گا۔ 

آج سے 14 سو سال قبل ایک شاعر نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے
ہوئے حجویہ اشعار کہے تھے۔ جب وہ اشعار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے تو آپ 


صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شاعر خاص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: کہ

حسان اٹھو منبر پر بیٹھو اور ان اشعار کا جواب دو۔حضرت حسان بن ثابت نے ان حجویہ اشعار کا جواب

کچھ اس طرح سے دیا اردو ترجمے میں ملاحظہ فرمائیں:


میرے آقا میرے مولا،میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ،محمد رسول اللہ.

جہاں میں‌ ان سا چہرہ ہے نہ ہے خندہ جبیں کوئی

ابھی تک جن سکیں نہ عورتیں ان سا حسین کوئی

نہیں رکھی ہے قدرت نےمیرے آقا کمی تجھ میں

جو چاہا آپ نے مولا وہ رکھا ہے سبھی تجھ میں


میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا

محمد رسول اللہ ،محمد رسول اللہ


بدی کا دور تھا ہر سو جہالت کی گھٹائیں تھیں

گناہ و جرم سے چاروں طرف پھیلی ہوائیں تھیں

خدا کے حکم سے نا آشنا مکے کی بستی تھی 
گناہ و جرم سے چاروں طرف وحشت برستی تھی


خدا کے دین کو بچوں کا ایک کھیل سمجھتے تھے

خدا کو چھوڑ کر ہر چیز کو معبود کہتے تھے

وہ اپنے ہاتھ ہی سے پتھروں کے بُت بناتے تھے

انہی کے سامنے جھکتے انہی کی حمد گاتے تھے (continued....)



--
***Asif Rao***
**Sargodha**

 
Copyright © 2010 Shan-e-Mustafa. All rights reserved.